بلوچ یکجہتی کمیٹی امدادی سرگرمیاں جاری

83

بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کے رضاکاروں نے سیلاب متاثرین کے لئے امدادی سامان کی پہلی کھیپ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے علاقے وندر، لاکھڑا، لیاری سمیت دیگر علاقوں میں پہنچادی۔ تاہم کچھ علاقوں میں سڑکیں بہہ جانے سے زمینی رابطہ منقطع ہوچکا ہے جس کی وجہ سے امدادی سامان سے بھرے ٹرک پھنس گئے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی آرگنائزر آمنہ بلوچ نے مخیر حضرات کو بلوچستان میں سیلاب زدگان کی مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ امدادی عمل کا حصہ بنیں اور دل کھول کر متاثرین کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ طوفانی بارشوں نے بلوچستان میں تباہی مچادی ہے۔ اور اس مشکل وقت میں متاثرین کا ساتھ دیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ حکومت نے سیلاب زدگان کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا ہے۔ آمنہ بلوچ نے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل کو اس مشکل گھڑی میں عوام کی مدد کی اپیل کی اور کہا کہ وہ حکومت کا حصہ ہے اور اس وقت حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سیلاب زدگان کی بھرپور مدد کریں۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں امدادی کیمپس تیسرے روز بھی قائم ہیں یہ کیمپ بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی جانب سے لگائے گئے ہیں اس وقت کراچی میں بیس سے زائد امدادی کیمپس قائم ہیں۔

مرکزی کیمپ سلمان ٹاور، نزد ملیر کورٹ کے قریب قائم ہے جبکہ جمعہ گوٹھ، ملا عیسیٰ گوٹھ، غازی ٹاؤن،نیو شفیع گوٹھ، فقیر کالونی، کلری، میمن گوٹھ، جوہر موڑ،ابراہیم حیدری، صائمہ گرین سٹی، فائیو اسٹار ٹاور لیاری، کوہی گوٹھ، شرافی گوٹھ اور صالح محمد گوٹھ میں بھی امدادی کیمپس قائم ہیں جہاں متاثرین کے لئے کمبل، کپڑے، لحاف، گھی، چاول، دال، چینی، سمیت دیگر اشیا سمیت نقدی رقوم بھی جمع کروائے جارہے ہیں۔