بلوچستان میں ادارے مفلوج ہیں، قوم پرست پارٹی ملوث ہیں – ڈاکٹر عبدالمالک

133

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پریس کلب کے پروگرام حال احوال سے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے معاشی و اقتصادی و دیگر حالات دگرگوں ہیں، عدلیہ، و میڈیا کی آزادی کے لئے وکلاء اور صحافی اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا لٹ چکا ہے، عدلیہ ڈکٹیشن پر چل رہی ہے۔ معاشی صورتحال بد سے برتر ہوچکا ہے۔ مہنگائی عروج پر پہنچا ہے۔ غریبوں کے لئے ایک کلو آٹا خریدنا عزاب بن چکا ہے لیکن بلوچستان کی موجودہ حکومت کو عوام کی کوئی پروا نہیں۔ بلوچستان کے تمام ادارے مفلوج ہوچکے ہیں۔نوجوان بے روزگار ہیں نوکریاں بک رہی ہیں۔ چپراسی سے لیکر انجنیئر تک اس میں شامل ہیں ۔ ان حالات میں قوم پرست اور دیگر پارٹیوں کے لوگ ملوث ہیں۔ ان کے چشم دید گواہ تک موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک طرف سیلاب زدہ ہے اور ان کی داد رسی نہیں ہو رہی ہے۔ غریب کی دولت مال مویشی تھے۔ سب سیلاب کی نزر ہوگئے ہیں لیکن حکمرانوں کی کان میں جوں تک نہیں رینگتی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ جب آواران میں زلزلہ آیا تھا میں بطور وزیر اعلیٰ 12 دنوں تک وہی کیمپ لگا کر بیٹھا رہا۔ اس دوران باقاعدہ 7 ارب کی ایک پروجیکٹ شروع کی۔ وہی سڑکوں کی تعمیر کی لوگوں کو سولر سسٹم سے بجلی فراہم کی۔ ان دنوں جھاو کا علاقہ صفحہ ہستی سے مٹ چکا تھا۔ ہم نے زلزلہ پروف 14 ہزار گھر بنا کر لوگوں کی اشک شوئی کی۔

ڈاکٹر مالک نے کہا کہ گوادر کا ایک بڑا نام ہے افسوس کہ گوادر کے ڈیم بارش کے پانی سے لبریز ہیں لیکن اس کے باسی اب بھی پیاسے ہیں حکومت کے پاس ڈیزل کے لئے پیسے نہیں۔ پانی کا بحران، بجلی کا بحران ہے۔ 1993 سے لیکر 1996 تک میں وزیر تعلیم تھا بلوچستان کے کئی دیہی علاقوں میں تعلیم کو عام کرنے کے لئے اسکولوں کا جال پھیلایا لیکن آج افسوس ہوتا ہے کہ ان اسکولوں میں پڑھانے کے لئے ٹیچر تک میسر نہیں۔ اسکول ویران ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ طوفانی بارشوں اور سیلاب میں گوادر کو آفت زدہ قرار دیا گیا۔ لیکن کسی ایک شخص کو بھی ریلیف نہیں دیا گیا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ساحل کے لوگوں کے سمندر کو ان سے چھینا جا رہا ہے۔ سمندر کو ٹالر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے۔ گوادر پورٹ مقامی لوگوں کے لئے نو گو ایریا بنا دیا گیا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ہم پورٹ کے خلاف نہیں، سی پیک کے حوالے سے ہمارے کافی خدشات ضرور ہیں۔ مرکزی حکومت یہ باور کرائیں کہ قومی تشخص کو نقصان نہیں ہوا ہے ۔ یہاں کی ہر نوکری گوادر کے شہریوں کی ہیں ان کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ہم نے بلوچ ساحل و وسائل کا کبھی سودا نہیں کیا ہے اور نہ کریں گے۔ کوئی بھی یہ ثابت نہیں کرے گا کہ سی پیک کے کسی پروجیکٹ پر بھی ہمارے دستخط نہیں ہونگے۔ سیندک اور ریکوڈیک کے آفر مجھے ملے ہیں لیکن میں نے ان تمام مراعات کو ریجیکٹ کیا۔