بلوچستان: بارشوں کا سلسلہ جاری، مزید چھ اموات

111

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔

گذشتہ روز طوفانی بارش نے ضلع قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ میں تباہی مچادی، جس کے سبب کئی گھروں کو نقصان پہنچا۔

ضلع لسبیلہ میں کے مقام لُنڈا ندی میں کراچی، کوئٹہ شاہراہ کا متبادل راستہ بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا جس کے سبب کوئٹہ سے کراچی جانے والا زمینی راستہ ایک بار پھر منقطع ہوگیا۔

بارشوں اور سیلاب سے مزید 6 افرد کی جانیں چلی گئیں، جاں بحق افراد کی تعداد 182 ہوگئی۔

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لسبیلہ، بارکھان، دکی، زیارت، سنجاوی اور چمن میں موسلا دھار بارشیں ہوئیں۔

قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ میں طوفانی بارش کے باعث کئی علاقے زیرآب آگئے، آرگس گاؤں، سلطان آباد، جان آباد، شین خڑ کے علاقوں میں سیلابی پانی نے تباہی مچادی۔

متاثرین کا شکوہ ہے کہ سیلاب نے پورے پورے گاؤں تباہ کردیئے، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اب تک متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا گیا، حکومت متاثرین کی فوری مدد کرے۔

اوتھل میں لنڈا ندی میں شاہراہ کا متبادل راستہ بھی سیلابی ریلے میں بہہ گیا، سیلابی ریلے کے باعث شاہراہ بند اور ٹریفک معطل ہوگئی۔

کمشنر قلات داؤد خلجی کا کہنا ہے کہ لنڈا ندی پل سیلابی ریلے میں بہہ چکا ہے، عوام کوئٹہ کراچی شاہراہ پر سفر کرنے سے گریز کریں۔

دوسری طرف پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے 6 مزید افراد کی جانیں چلی گئیں، جاں بحق افراد کی تعداد 182 ہوگئی، 18 ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) حکام کا کہنا ہے حالیہ بارشوں کے بعد مثاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں۔