کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ حملہ: مبینہ سہولت کار 14 روزہ ریمانڈ پر

873

پاکستان کے ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے کراچی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ حملے کے ایک مبینہ سہولت کار کو 14روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

ہفتہ کو انسداد دہشت گردی عدالت نے کراچی یونیورسٹی حملہ کیس کی سماعت کی۔

پولیس نے گرفتار مبینہ سہولت کار داد بخش کوعدالت میں پیش کیا۔

پولیس نے موقف میں کہا کہ ملزم سے ابھی تفتیش مکمل نہیں ہوئی، ملزم بی ایل اے اور بی ایل ایف کراچی کا کمانڈر ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کراچی یونیورسٹی میں چینی اساتذہ پر خود کش حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے اور کراچی میں حملوں میں سہولت کاری کا کام کرتا تھا۔

عدالت نے ملزم کو 14روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر کیس کا چالان جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

خیال رہے مذکورہ ملزم کے لواحقین کا کہنا ہے کہ شعیب بلوچ نال ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم ہیں جنہیں 29 اپریل 2022ء کو کراچی کے علاقہ گلستان جوہر بشیر ولیج سے لاپتہ کیا گیا تھا مگر 4 جولائی 2022ء کو سی ٹی ڈی نے ماری پور کراچی سے ان کی گرفتاری بنام داد بخش کے طور پر ظاہر کرکے ان پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کرکے عدالت سے 2ماہ کا ریمانڈ طلب کیا تھا۔

شعیب بلوچ کے خاندان کا تربت میں ایک پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ وہ کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لینا چارہے تھے۔ وہ ایک محنتی اور پڑھائی کے شوقین طالب علم ہیں انکی گرفتاری سے ان کی تعلیمی کیریئر ضائع ہونے کا خدشہ ہے، 2 ماہ کے ریمانڈ اور تشدد کے بعد یقیناً ان کی ذہنی حالت مفلوج ہوکر رہ جائے گی۔