ڈیرہ مراد جمالی: سی ٹی ڈی کے ہاتھوں نوجوان لاپتہ

192

کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ نے نوجوان کو حراست بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے-

تفصیلات کے مطابق ڈیرہ مراد جمالی وارڈ نمبر 14 میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے نوفل بگٹی نامی شخص کے گھر پر چھاپہ مارکر انکے بیٹے محمد رفیق بگٹی کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے-

رواں ماہ ڈیرہ مراد جمالی سے تین افراد جبری گمشدگی کے شکار ہوئے ہیں, جولائی 24 کو سیکورٹی فورسز نے ڈیرہ مراد جمالی سے مزید دو افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا تھا جنکی شناخت اکبر ولد نواب خان اور جیسف ولد نواب خان کے ناموں سے ہوئی ۔

سی ٹی ڈی کے جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کاروائیوں کو تیز کردیا گیا ہے کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ نے رواں سال جولائی کے مہینے میں بلوچستان کے ضلع خاران سے دو افراد کو حراست بعد لاپتہ کردیا تھا جو تاحال منظر عام پر نہیں آسکے ہیں-

خاران سے حراست بعد لاپتہ ہونے والے افراد کی شناخت اسلم مینگل و غلام جیلانی حسین زئی کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین احتجاج کررہے ہیں۔

خاران سے سی ٹی ڈی کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ سی ٹی ڈی نے خاران و گردنواح سے کئی بے گناہ افراد کو ماورائے آئین و قانون حراست میں لیا ہے جبکہ گرفتاریوں کے بعد مذکورہ افراد کو منظر عام پر نہیں لایا جاتا ہیں۔ خاران سے کئی افراد اب بھی سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گمشدہ ہیں-

یاد رہے کہ سی ٹی ڈی نے اس سے قبل بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں لوگوں کی گرفتاری یا مقابلے میں مارے جانے کا دعویٰ کیا ہے ماضی میں اس نوعیت کے واقعات میں گرفتار یا مقابلے میں مارے جانے والوں کی شناخت پہلے سے لاپتہ یا زیر حراست افراد کے طور پر ہوئی ہے۔

رواں ماہ 18 جولائی کو کاونٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ نے بی ایل اے سے تعلق کے شبے میں ایک شخص کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا جہاں اس شخص کی شناخت غوث بخش ولد علی خان لانگانی مری سکنہ مری کیمپ ہزارگنجی کوئٹہ کے نام سے ہوا تھا-

تاہم دوسری جانب دی بلوچستان پوسٹ کو موصول ہونے والی رپورٹ و اطلاعات کے مطابق غوث بخش ولد علی خان مری کو پاکستانی فورسز نے 9 اگست 2021 بروز اتوار شاہرگ کے علاقے کھوسٹ سے گرفتار کر کے لاپتہ کردیا تھا اور وہ پہلے سے زیر حراست تھا-