ڈاکٹرنسیم بلوچ کا اقوام متحدہ کے سیکریٹری کو بلوچستان میں مداخلت کے لیے خط

136

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین نسیم بلوچ نے اقوام متحد کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کو خط لکھ کر ان سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی بگڑتے ہوئے بحران میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔

انھوں نے اپنے خط میں بلوچستان پر پاکستانی قبضہ اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی گھمبیر صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے میں بلوچ عوام کی جانب سے بلوچستان میں پاکستانی فوجی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے بین الاقوامی مداخلت کی اپیل کرتا ہوں۔

انھوں نے کہا بلوچوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ریاست کی طرف سے حراستی قتل جیسے اقدام کی روک تھام کے لیے تمام دستیاب وسائل کو استعمال کیا تاکہ اس کا قانونی حل نکالا جاسکے۔متاثر افراد کے لواحقین پچھلے بیس سالوں سے انصاف کے بند دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ بے بسی اور نا امیدی محسوس کر رہے ہیں۔

ڈاکٹرنسیم بلوچ نے کہا اب وقت آگیا ہے کہ ان مظالم کے خلاف کارروائی کی جائے اور ایک قوم کو مکمل تباہی سے بچایا جائے۔

انھوں نے کہا انیسویں صدی میں خودمختار بلوچستان نے تاج برطانیہ سے کیے معاہدے کے نتیجے میں 11 اگست 1947ء کو آزادی حاصل کی۔ اس معاہدے کے مطابق برطانوی فوج کو کلات کے زیرانتظام علاقوں سے مکمل انخلا کرنی تھی۔ لیکن بلوچستان کی بطور آزاد قوم رہنے کے حق کو پاکستانی فوجی حملے کے ذریعے 27 مارچ 1948 کو چھینا گیا۔

بلوچستان کی نو آبادیاتی تسلط سے آزادی اور بطور آزاد جمہوری قوم اس کے پرامن ترقی کو اقوام متحدہ کے چارٹر آف رائٹس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پامال کیا گیا۔

ڈاکٹر نسیم نے اپنے خط میں لکھا بلوچستان میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال میں انسانی زندگی بے وقعت ہوتی جا رہی ہے۔بلوچ شہری گذشتہ دو دہائیوں کی پاکستانی فوجی جارحیت کے سامنے بے بسی محسوس کر رہے ہیں۔تاہم بلوچ عوام کےحقوق کی پامالی، ثقافتی ، نسل کشی ، سماجی، معاشی پسماندگی اور فطری وسائل کے بے دریغ لوٹ مار ایک منظم ریاستی طریقہ کار ہے۔ہماری زمین اور ہمارے ساحل فوجی اڈے بنانے کے لیے چینی ریاستی کارپوریشنز کو فروخت کیے جا رہے ہیں۔مقامی ماہی گیر کمیونٹی کو ان کے گھر اور ذریعہ معاش سے محروم کرکے نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے اپنے خط میں لکھا کہ بلوچستان بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے آزمائش کرنے کی جگہ بن چکا ہے۔28 مئی 1998 کو پاکستان نے بلوچستان کے علاقے چاغی میں راسکوہ کے مقام پر پانچ ایٹمی تجربات کیے جس کے نتیجے میں مقامی مقامی آبادی کو ضروریات زندگی کی فراہمی کے بغیر بلوچستان کے غیرآباد علاقوں میں نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کے علاوہ انسانوں ، جانوروں ، پودوں اور پانی کے ذخائر پر تابکاری آلودگی نے کسانوں اور چراہوں کے لیے صحت اور ماحولیاتی مسائل جنم دیے۔

انھوں نے اپنے خط میں ذکر کیا کہ بلوچستان کی معدنیات کی فطری دولت بشمول تانبے ، سونے کے ذخائر، فطری گیس کو پاکستانی فوج گذشتہ سات دہائی سے لوٹ رہی ہے۔جنرل مشرف فوجی آمرانہ دور میں پاکستان نے بلوچستان کے علاقے ریکوڈک اور چاغی میں دنیا کے چھٹے بڑے تانبے اور سونے کے ذخائر تلاش کیے اور لوٹ مار کے لیے غیرملکی کان کنی کمپنیوں کے ساتھ خفیہ معاہدے کیے جن میں کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر نسیم نے مزید لکھا کہ بلوچستان میں جاری تنازعہ اور بلوچ عوام کے خلاف پاکستانی فوجی جارحیت ، وحشیانہ قتل عام ، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم ایسے حالات ہیں جو عالمی طور پر غیرملکی اور ملٹی نیشنل کارپوریشنز کو فوج کے مقبوضہ علاقوں میں کاروبار کرنے سے منع کرتے ہیں۔ ان سب کے باوجود قابض فوج کے ساتھ خفیہ معاہدوں کے ذریعے ہمارے فطری وسائل کو لوٹ کر بلوچستان میں جنگ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہوا دیا جا رہا ہے۔

انھوں نے اپنے خط میں یہ پرزو مطالبہ کیا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مدد سے یہ وحشیانہ اور بے ہودہ استحصال اور عوام کی اپنی زمینوں اور وسائل پر حق ملکیت کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں۔