کوئٹہ: وی بی ایم پی کا بھوک ہڑتالی کیمپ جاری

51

بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کوئٹہ میں قائم طویل بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4683 دن مکمل ہوگئے، پشتونخوا میپ کے مرکزی عہدیدار قادر آغا، سلیمان کاکڑ اور خاران سے سماجی کارکنان داد شاہ بلوچ، نور محمد بلوچ، عبدالستار بلوچ نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی-

اظہار یکجہتی کے لئے آئے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماماقدہر بلوچ نے کہا کہ پاکستانی فوج پہلے سے جاری بلوچ عوام کے قتل عام کو مزید تیز کرنے کی تیاری مکمل کر چکی ہے جس کی ابتداء بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زرِخرید قاتلوں کی سربراہی میں فوجی کارروائیوں سے کی گئی ہے جبکہ مسخ شدہ لاشیں پھینکنے اور بلوچ فرزندوں کے جبری اغوا میں بھی تیزی لائی گئی ہے جس میں پاکستانی ِخفیہ اداروں کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں ان کے پیدا کردہ گماشتے بھی پاکستان کے خفیہ اداروں سے خوب اپنی وفاداریاں نبھار رے ہیں-

ماما قدیر بلوچ نے کہا ایک طرف پاکستانی گماشتے اور زرِخرید قاتل بلوچ پرامن جدوجہد کو غیر موثر کرنے اور بلوچوں کا قتل عام کرنے میں اپنے قدم تیز کرچکے ہیں نام نہاد قوم پرست بلوچ عوام اور عالمی دنیا میں ابہام پیدا کرنے اور بلوچ عوام میں اپنی ِختم ہوچکی ساخت کے بدلے میں پاکستان کے اداروں سے مراعات حاصل کرنے کے لیے ہم قدم بن چکے ہیں-

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حمایت یافتہ سمگلر اور قاتل گروہ خضدار ڈیرہ بگٹی، سوراب، قلات، مکران، اور مستونگ سمیت بلوچستان بھر میں بلوچ نوجوانوں کو جبری اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر ان کا قتل عام کر رہے ہیں، چوری ڈاکہ زنی اغوا برائے تعاوان جیسے جرہم پیشہ کاروائیاں کرکے عام بلوچ عوام میں خوف ہراس پھیلانے اور انہیں پرامن جدوجہد سے دور رکھنے کے نام کوشش کر رہے ہیں-

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا نوجوانوں کی شہادتوں ہزاروں فرزندوں کی عقوبت خانوں میں مہینوں اذیتوں نے بلوچ قوم کو اپنے مقصد کے لئے عزم فراہم کیا ہے-