کوئٹہ: لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے احتجاج جاری

66

وائس فار بلوچ مسنگ کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4686 دن مکمل ہوگئے، آج سیاسی اور سماجی کارکنان داد محمد بلوچ ، اصغر بلوچ ، نور بلوچ اور خواتین نے کیمپ آ کر اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے مخاطب ہو کر کہا کہ پاکستانی اداروں نے بلوچ سرزمین پر جاری اپنی کشت خون کی پالیسی میں مزید شدت لائی ہے شعوری نظریاتی اور فکری ہتھیار سے لیس بلوچ فرزندوں نے پاکستان کو سیاسی معاشی اور اقتصادی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، جس سے بلوچستان میں قبضہ گیریت کے وجود کی بوسیدہ دیوار زمین بوس ہونے کو ہے جبری طور لاپتہ فرزندوں کی لازوال قربانیوں کی بدولت عالمی برادری بلوچ قومی مسئلے کی جانب متوجہ ہوئی ہے اور اقوام متحدہ بلوچستان سے عالمی سطح پر پاکستان کے تمام جرائم کا پردہ فاش ہوگیا ہے جو اس باختگی میں مبتلا پاکستانی فورسز نے اپنی وحشت بربریت میں مزید شدت لائی ہے مگر ریاست پاکستان کی تمام تر ظلم وبربریت اور اس کے گماشتوں کی ریشہ دوانیاں اور بلوچ پر امن جد وجہد کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو کر پاکستان کے ناکامی کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ اس سے پہلے پاکستان میں ہمیشہ بلوچوں پر جنگ مسلط کیا تھا لیکن اس پر امن جد وجہد کو شروع اور پاکستان پر مسلط ایک بلوچ محب وطن طبقے نے کیا اس جد وجہد نے پاکستان کو انگشت بدندان کیا کیونکہ اس وقت پاکستان کے وہم و گمان میں بھی نہیں کیونکہ پاکستان یہ سمجھ رہا تھا کہ انہوں نے بلوچ لیڈران سیاسی پارٹیاں مراعات ذاتی عیش و عشرت سے بنے ہوئے ایسے جال میں پھنسایا کہ یہ چاہیں بھی تو اس سے نہیں نکل کر اپنے عوام کے لیے سوچ بھی نہیں سکتے آج بلوچوں میں کافی شعور بیدار ہوا ہے کہ خانہ جنگی بلوچوں کو تقسیم در تقسیم کر کے داہمی غلامی کے اندھیروں میں دھکیل دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج کے جرنل جو بار بار اپنے ملک کی آئین کی پامالی کر کے اس پر پرشب خون مارتا ہو ہمیں اس کے آئین کے پاسداری کا درس دینا حیران کن ہے ۔