پاکستان میں چینی شہریوں کے لیے ‘غیر معمولی سیکیورٹی’ کا مطالبہ

365

سندھ پولیس کے سربراہ نے پاکستان میں چینی شہریوں کے لیے ‘غیر معمولی سیکیورٹی’ کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ میں پولیس چیف نے اتوار کو حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ خطے میں حالیہ حملوں کے بعد مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کریں۔

پاکستان کے زیر انتظام بلوچستان کے بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیمیں اکثر ملک میں چینی مفادات کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

بیجنگ نے بلوچستان میں متعدد منصوبوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے جو دونوں ممالک کی جانب سے چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے نام سے اٹھائے گئے ملٹی بلین ڈالر کے مشترکہ علاقائی رابطے کے اقدام کا حصہ ہیں۔

اپریل میں سندھ کے بندرگاہی شہر کراچی میں ایک یونیورسٹی کیمپس کے قریب ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑاتے ہوئے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے ارکان کو نشانہ بنایا تھا، دھماکے کے تنیجے میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں تین چینی شہری بھی شامل تھے۔ آزادی پسند بلوچ لبریشن آرمی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

کراچی میں مرکزی پولیس کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) نے صوبے میں تمام CPEC اور نجی منصوبوں کی فہرست تیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں جن میں چینی شہریوں اور شہریوں کو شامل کیا گیا ہے،” اور غیر معمولی حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے۔ یہ اقدامات ایک ہنگامی منصوبے کے حصے کے طور پر اٹھائے جارہے ہیں۔”

یہ بیان آئی جی پی غلام نبی میمن کی زیر صدارت ایک اجلاس کے بعد سامنے آیا جس میں سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی جس میں چینی کارکنوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

گذشتہ سال، ایک خودکش بمبار نے ایک مسافر بس کو دھماکے سے اڑا دیا تھا، جس میں شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں کام کرنے والے نو چینی کارکنوں سمیت 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

چین نے CPEC فریم ورک کے تحت پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے 60 ارب ڈالر سے زائد کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم بلوچستان میں آزادی پسند مسلح تنظیموں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے بعد چینی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ مذکورہ تنظیمیں چین کو پاکستان کے شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ ان کا موقف ہیں کہ چین مختلف استحصالی منصوبوں کے تحت پاکستان کے ساتھ ملکر کام کررہا ہے۔

چینی شہریوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان نے کہا کہ بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے خاتون فدائی شاری بلوچ عرف برمش نے یہ کاروائی سرانجام دی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی کیجانب سے اس سے قبل چاغی، کراچی اور گوادر میں چینی مفادات و انجینئروں کو چار فدائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کا آغاز 2018 کو ہوا۔

علاوہ ازیں رواں سال فروری کے مہینے میں بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ نے نوشکی اور پنجگور میں فرنٹیئر کور ہیڈکوارٹرز کو بیک وقت شدید نوعیت کے حملوں میں نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں مجید بریگیڈ کے 16 ارکان نے حصہ لیا تھا جبکہ حملہ آوروں نے ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ کیا۔