جبری گمشدگیوں کا ثبوت وزیر داخلہ کے جماعت کے سابقہ بیانات اور تقاریر ہیں – ماما قدیر بلوچ

200

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے گذشتہ دنوں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء اور پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کی ایک انٹرویو پر رد عمل دیتے کہا کہ لاپتہ افراد کی ریاستی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا سب سے بڑا ثبوت انکے جماعت کے سابقہ بیانات اور تقاریر ہیں –

انہوں نے کہا کہ اقتدار میں آکر حکمران اس اہم مسئلہ پر فوج کے کہنے پر جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں لیکن اپوزیشن میں یہی لوگ سب سے زیادہ لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمدرد بنتے ہیں –

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کو کیا ثبوت چاہیے جس پر وہ ہمارے لوگوں کو بازیاب کرائے گا؟

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ کئی لوگوں کو دن دیہاڑے پاکستانی فورسز نے اغوا کرلیا ہے کئی ویڈیوز سوشل میڈیا میں آچکے ہیں – لاپتہ افراد کے لواحقین سڑکوں پر سراپا احتجاج پولیس کی تشدد سہے رہے ہیں اور کمیشن میں بدترین سلوک کا سامنا کررہے ہیں-

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کی بے بسی حکومت اور ملکی اداروں کے لیے کھیل بن چکی ہے اور وہ ہمارے لوگوں کی آنسوؤں کو مذاق سمجھ رہے ہیں –

انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے ہزاروں لوگوں کو پاکستانی خفیہ اداروں نے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا ہے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے اور ان گمشدگیوں کا اعتراف ماضی کے حکومتوں میں بھی کیا جاچکا ہے۔

ماما کا کہنا تھا کہ اس وقت بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں جبری گمشدگیوں کے شکار بلوچ نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کی لواحقین سراپا احتجاج ہیں اور گذشتہ دو دہائیوں سے کوئٹہ میں جاری ہمارے کیمپ میں روزانہ کی بنیاد پر لواحقین آکر اپنا کیس ریکارڈ کراتے ہیں –

انہوں نے مزید کہا کہ جس ملک میں لوگوں کو جبری گمشدگی کے بعد ایف آئی ار درج کرنے میں خفیہ ادارے مداخلت کریں اور عدلیہ کی احکامات کو پاؤں تلے روندا جائے وہاں کے وزیر قانون اور کس بات کا ثبوت چاہتا ہے؟

یاد رہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین ہمیں ثبوت دیں ان کی بازیابی کیلئے تیار ہیں –

رانا ثناءاللہ نے کہا تھا کہ اگر عدلیہ ہمیں لاپتہ افراد کے حوالے سے حکم کرے جو میرے ماتحت ایجنسیز ہیں ہم تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں اختر مینگل بھی اس بات پر تیار ہے کہ لاپتہ افراد زندہ ہیں تو ہمیں بتائیں، اگر وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو ہم ان کو معاف کرنے کو بھی تیار ہیں ہمیں بتائیں تاکہ ان لاپتہ افراد کے لواحقین کو دلاسہ دے سکے۔