تھکے پیر سسئیوں کے ۔ محمد خان داؤد

71

تھکے پیر سسئیوں کے

تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

نہ تو اس خود کشی کا پرچہ کٹے گا اور نہ ہی یہ تصویر وائرل ہو گی جس میں ایک بچی پھانسی گھاٹ سے جھول رہی ہے

یہ تو پھانسی گھاٹ ہے،گھر کا پھانسی گھاٹ!

پر اگر یہ گلوٹین ہوتا اور سندھ کی بچی اپنی پتلی معصوم گردن اس گلوٹین پر رکھ دیتی اور اس کی گردن کٹ کر کہیں دو ر جا کرگرتی جب بھی سر کٹا تن وائرل نہیں ہوتا

وہ چاہتی تو تھر کے خشک کنوئیں میں بھی کود کر اپنی جان دے سکتی تھی

وہ چاہتی تو زہر بھی اپنے پیٹ میں اتار سکتی تھی

وہ چاہتی تو تھر میں چلتی امیروں کی بلیٹ پروف اور غریبوں کی سواری کھیکڑو کے سامنے بھی آکر اپنی جان دے سکتی تھی

وہ چاہتی تو لہو لہو ہوکر بھی اپنی جان دے سکتی تھی

وہ چاہتی تو اپنے پیٹ میں وہ کالا پتھر بھی اتار سکتی تھی جس سے ہر دوسرا تھری اور ہر پہلی تھری لڑکی اپنی جان دے رہی ہے

اگر وہ چاہتی تو تھر میں موجود بہت ہی کم کسی سوکھے درخت سے اپنا دوپٹہ باندھ کر جھول سکتی تھی

وہ چاہتی تو اپنی کن پٹی پر بندوق رکھ کر فائر کر سکتی تھی

وہ چاہتی تو کارونجھر کی کور سے گر کر مر سکتی تھی

اور پورا زمانہ کارونجھر اس کے سوگ میں روتا رہتا

اس نے کارونجھر کو اپنے غم سے بچا لیا!

وہ چاہتی تو وہ موت کی مہمان بنتی

پر ایسا نہیں ہوا،موت اس کا مہمان بنا

جس کے آس پاس دئیے جلنے تھی وہ پھانسی گھاٹ سے جھول گئی

وہ چاہتی تو مرنے کے سیکڑوں طریقے دریافت کر سکتی تھی

پر وہ تھر میں موجود خشک کنوئیں سے بچی اور اپنی پتلی گردن گلوٹین پر بھی نہیں دی

سندھ میں اس سے بڑی قیامت اور کیا ہو گی جب معصوم بچیاں گھروں کو پھانسی گھاٹ بنا لیں اور کچے گھروں کی چھتوں سےجھول جائیں!سندھ میں اس سے بڑا قہر اور کیا ہوگا جب اداس بیٹیاں اپنے دوپٹوں کو پرچم نہ بنائیں پر ان دوپٹوں کو ایسا ہتھیار بنالیں جس سے وہ اپنی ہی جان لے لیں اور مائیں ماتم کرتی رہ جائیں!سندھ میں اس سے بڑا اور کارو دن کیا ہوگا جب مائیں اپنیبچیوں کو آواز دیں اور وہ بدلے میں آواز نہ دیں اور جب مائیں کچے گھروں کے دروں سے جھانکیں تو دلہنوں جیسی بیٹیاں مر رہیہوں!سندھ میں اس سے بڑا عجب کیا ہوگا کہ جن پیروں اور پیروں میں باندھی چھیروں کی جھنکار کی آوازوں کو دیکھ کر شاعر اپنینظموں کے بند مکمل کرتے ہوں وہ پیر پھانسی گھاٹ سے اوپر اُٹھ کر جھول رہے ہوں اور مائیں ایک چیخ بن کر ان پیروں سے دھاگوںکی صورت میں اُلجھ جائیں

اور کبھی نہ سُلجھ مائیں!

سندھ میں اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوگا کہ یہاں پر لڑکی ہونا ہی جرم ہو اور جب کونج جیسی لڑکیاں گھروں سے نکلتی ہوں توبھونکتے،کتے پیچھے لگ جاتے ہوں اور ان معصوم بیٹیوں کی کوئی شنوائی نہ ہو

ایک ایسی ہی بیٹی سندھ کے تھر میں پھانسی گھاٹ سے جھول گئی ہے

بس اس لیے کہ وہ

سانولی تھی

سنولی تھی

میٹھا گلاب تھی

خوشبو تھی

چاندی تھی

جس کی خوشبو اور روشنی سے پورا تھر مہک اُٹھا تھا

اور کتے باخبر ہو گئے تھے

وہ مورنی تھی

جب چلتی تھی

کارونجھر حسد کرتا تھا

وہ وحشت سے تنگ ہوکر پھانسی گھاٹ سے جھول گئی ہے

اس کی پھانسی گھاٹ سے جھولتی تصویر برقی لہروں سے ہو تے ہوئے سندھ تک بھی پہنچی ہے

اور سندھ؟سندھ سوچ رہا ہے

اپنے بال نوچ رہا ہے

جب سسیوں کے پیر تھک جائیں تب سسیاں کیا کریں

کیا ہم ایسا نوحہ لکھیںتھکے پیر سسیوں کے۔

ابھی تو وہ سازوں،سروں کی ماند کھل رہی تھی

ابھی تو اسے نغموں کی ماند بجنا تھا

کئی آلاپ!کئی سُر!

وہ جو بھلے شوپین کا نغمہ نہ تھی پر تھری بوڑانڈو تو تھی

چنگ تھی

جسے کئی ہونٹ چورتے

اور سندھ جل اُٹھتا!

جو جہاں بجتا ہے دلوں میں زلزلہ برپا کر دیتا ہے

وہ جو مندر کی مورتی تھی

بہت ہی پیاری

بہت ہی خوبصورت

اداس مندروں میں اس کے سوا کیا تھا

اور اب اس کے بغیر کیا ہے؟

آج سورج طلوع ہوا

وہ پھانسی گھاٹ سے جھول رہی تھی

کل سورج طلوع ہوگا

تھر میں ایک نئی قبر کا اضافہ ہوگا

اس کے سوا کیا ہوگا؟

درد تو وہی رہ گیا

جہاں ماں پر ماتم درد بن کر برس رہا ہے

درد تو وہی رہ گیا جہاں معصوم بچیوں کے دوپٹے بھی قاتل بن جائیں

درد تو وہی رہ گیا جہاں گھر بھی پھانسی گھاٹ میں بدل جائیں

تھری بچیاں ہمیں یہ بتانے میں کامیاب ہو رہی ہیں کہ گھر میں ماتم کدہ بن سکتے ہیں

اور سندھ اس میں بری طرح ناکام رہا ہے کہ وہ تھر کی معصوم بچیوں کی رکشا نہیں کر پایا

جب سانولوں،خوبصورت جسموں پر کتے بھونکے

اور سسیوں کے پیر تھک جائیں تو سسیاں پھانسی گھاٹوں سے جھول جا تی ہیں

اور ان کی کچی قبروں پر ایسے الفاظ لکھے جاتے ہیں کہ

تھکے پیر سسیوں کے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں