تربت: بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج

122

ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے تربت یونیورسٹی کے طالبعلم نعیم رحمت، کلیم اللہ، حفیظ بشیر، ایئرڈ یونیورسٹی روالپنڈی کے طالب علم فیروز بلوچ, شفیع بلوچ، ڈاکٹر جمیل بلوچ اور دیگر لاپتہ نوجوانوں کی جبری گمشدگی اور عدم بازیابی کے خلاف ہفتے کے روز کیچ کے مرکزی شہر تربت میں احتجاج کیا گیا –

تفصیلات کے مطابق پریس کلب روڈ سے لاپتہ افراد کے اہل خانہ اور سول سوسائٹی کی طرف سے ایک ریلی نکالی گئی جس میں بی ایس او کے مختلف دھڑوں کے ارکان، حق دو تحریک کے رہنماؤں سمیت خواتین نے شرکت کی۔

شہر کے مختلف سڑکوں میں مارچ کرتے ہوئے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور لاپتہ افراد کی تصویریں اٹھا کر شرکا نے جبری گمشدگیوں کے خلاف نعرہ بازی کی اور شہید فدا چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا-

اس موقع پر بختاور بلوچ، بی ایس او پجار تربت زون کے صدر باہوٹ چنگیز، بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے رکن کریم شمبئے، حق دو تحریک کے رہنماء وسیم سفر اوردیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہا جاتا تھا کہ بلوچ جاہل ہیں انہیں پڑھائی کا شوق نہیں لیکن آج جب بلوچ نوجوان کتاب سے اپنی محبت ظاہرکررہے ہیں تو ان کے کے لئے تعلیم کے دروازے بند کرکے ان کے لئے ٹارچر سیلوں کے دروازے کھول جارہے ہیں اور دوسرے بلوچ طلباء کو تعلیم سے متنفر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ بلوچ نوجوان کتاب کی بجائے بندوق کے لئے ہاتھ بڑھائیں-

انہوں نے کہا کہ ہمیں تعلیم چاہیے بندوق نہیں، ہمارے لئے تعلیم کے دروازے بند کرنے کی بجائے انہیں کھولاجائے-

انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسی قوتیں برسراقتدار ہیں جنہیں سوائے ظلم کے اور کچھ نہپیں آتا، بلوچ خواتین لاپتہ کئے عوام سڑکوں پر نکلے، شاہراہیں بندکردیں، لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ بلوچوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے سے گریز کیاجائے، لاپتہ کئے گئے طالب علموں سمیت دیگر تمام لاپتہ افراد فوری طور بازیاب اور عدالتوں میں پیش کیئے جائیں۔

مطاہرین سے لاپتہ افراد کے لواحقین خواتین نے اظہار خیال کیا اور مطالبہ کیا گیا کہ ان کے پیاروں کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔