بی ایل ایف نے مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

430

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے وادی مشکے میں موبائل ٹاور،ریاستی مخبر کی ہلاکت اور تمپ میں فوجی کیمپ پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

بی ایل ایف کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ ضلع آواران کی تحصیل وادی مشکے کے علاقے گجلی میں 21 جون کو پانچ بجے سرمچاروں نے یوفون کمپنی کے موبائل فون ٹاور کوراکٹ سے نشانہ بناکر اس کی پوری مشینری کو نذرآتش کردیا۔

انہوں نے کہا کہ چار روز قبل وادی مشکے کے علاقے تنک سے ریاستی مخبر اور ڈیتھ اسکواڈ کے کارندے نذیر ولد حضور بخش کو سرمچاروں نے گرفتار کیا۔ دوران تفتیش اس نے ریاستی پشت پناہی میں اپنے تمام جرائم کا اعتراف کیا۔مذکورہ ریاستی ایجنٹ کئی سماجی برائیوں میں ملوث ہونے کے ساتھ مختلف فوجی آپریشنز میں قابض فوج کے ساتھ تھا۔ پہلے اس نے تنک سے ایک غریب خاتون کو بھی اغوا کیا تھا۔ ان جرائم کی اعتراف کے بعد دشمن کے ایجنٹ کو سزائے موت دی گئی۔

میجر گہرام بلوچ نے مزید کہا کہ آج ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں ملانٹ کے مقام پر قائم فوجی کیمپ پر سرمچاروں نے دو مارٹر  کے گولے داغے جو فوجی کیمپ کے اندر جا گرے۔ اس سے فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرناپڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قابض فورسز اور اسکے معاون کاروں پر حملے مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔