باجوہ کو ووٹ دینے والے آج لاپتہ افراد کی بازیابی کی بات کرتے ہیں – حق دو تحریک

220

اتوار کے روز بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان بلوچ ،حسین واڈیلہ اور دیگر رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے مطالبات دوبارہ پیش کردیئے عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں جولائی میں دوبارہ دھرنا دینے کا اعلان کیا –

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عوام کی حمایت سے مخالفین کے پروپیگنڈہ ناکام ہو رہے ہیں –

انہوں نے کہا کہ بحر بلوچ میں غیر قانونی ٹرالرنگ بدستور جاری ہے اور انکو گرفتار نہیں کیا جارہا ہے – جبکہ شراب خانوں کی بندش اور سرحدی کاروبار سے متعلق حکومت اپنے وعدوں سے مقرر چکا ہے لیکن اس بار کا احتجاج غیر معینہ مدت تک پورٹ کے سامنے جاری رہے گا –

انہوں نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی سے متعلق اپنے کلمات پر معافی مانگ چکا ہوں میرا دل یہی چاہتا ہے کہ بلوچستان اور پنجاب یونیورسٹی میں بلوچ کلچرل محفوظ ہو –

انہوں نے کہا کہ میرا تعلق جماعت اسلامی سے ہے اور میں ایک نظریاتی ورکر ہوں لیکن یہ بات واضح کرتا ہوں کہ حق دو تحریک کا جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں یہ لوگ اور عوام حق دو تحریک کے ساتھ ہیں –

اس موقع پر حسین واڈیلہ نے کہا کہ حق دو ایک پارٹی نہیں تحریک ہے اور اس میں مختلف مکاتب فکر کے لوگ شامل ہیں –

انکا کہنا تھا کہ یہ مصنوعی قوم پرست الزام تراشی کرتے ہیں اصل قوم پرستوں کے جنازے آج بھی اٹھائے جارہے ہیں اور بی ایس او آزاد پر آج بھی پابندی عائد ہے –

انہوں نے کہا کہ بلوچوں کو لاپتہ کرنے والے باجوہ کو ووٹ دینے والے آج لاپتہ افراد کی بازیابی کی بات کرتے ہیں –