‏اداس بلوچستان – حاجی حیدر

148

‏اداس بلوچستان

تحریر: حاجی حیدر

دی بلوچستان پوسٹ

تربت میں مقیم خالد ولید سیفی کراچی کے جامعہ بنوریہ سے درس نظامی مکمل کر چکے ہیں اور ایک سیاسی مذہبی جماعت کے رکن بھی ہیں۔ خالد ولید سیفی زمانہ طالب علمی میں بی ایس او کے اہم سیاسی رکن تھے۔ مولانا عبدالحق کی طرح خالد ولید سیفی بھی بلوچستان کے ان دینی مدارس کے فارغ التحصیل افراد میں سے ہیں جن کا ماننا ہیکہ بلوچستان میں جاری سیاست نالی و روڈ کی سیاست نہ رہی اور نہ ہی سی پیک جیسے استحصالی منصوبےکی تکمیل کی سیاست۔ بلوچستان کی محکومیت کے حوالے ان کی ایک مشہور کتاب “اداس بلوچستان” ابھی بھی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نیشنل ازم کے طالب علم شوق سے پڑھتے ہیں۔

میرا ماننا ہیکہ محکوم قوموں کیلئے “نیشنلزم” کسی مقدس مذہب سے کم نہیں اس لیے آپ پارٹی، علاقائیت، قبائلیت سے پہلے ایک “بلوچ” ہیں۔ اس لیے مولانا عبدالحق نے ایک مذہبی جماعت کے رکن ہونے کے باوجود پنجگور میں ایک بڑے جلسے میں کہا تھا کہ “یہ جنگ کسی جہاد سے کم نہیں” حالانکہ مولانا کو اسی ایک جملے کی خاطر پارٹی کی طرف سے شوکاز نوٹس بھی جاری کیا تھا لیکن لیوناس کی طرح مولانا کو بھی پتہ تھا کہ یہاں اگر آپ محکوم ہیں تو پہلے آپ کو ڈیفائن کرکے بعد میں ٹریٹ کیا جاتا ہے،مسخ کیا جاتا ہے آپ کو کالوناٸزر ہر دن یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ چاہے آپ مدراس سے فارغ شدہ عالم ہیں یا یونیورسٹی سے فارغ ایم-فل سکالر حفیظ بلوچ ہو یا نورجان ہی کیوں نہ ہو چونکہ آپ بلوچ ہے آپ کے لیئے کالوناٸزر کے پاس صرف ایک رشتہ وہ ہے “محکوم اور حاکم” کا رشتہ۔

بلاشبہ جب بھی کسی دینی مدرسے سے فارغ التحصیل کسی بلوچ شخص کا نام لیا جاتا ہے تو نوجوانوں کا ردعمل اکثر طنزیہ ہوتا ہے، محض اس لیے کہ ریاست نے ہمیشہ مذہب کو محکوموں کیخلاف ایک اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ اپنی جبر و بربریت کو وسعت دینے کےلیے لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ ایک طرف ریاست نے مذہب کو بلوچ identity کو ختم کرنے کیلئے استعمال کیا تھا تو وہیں پھر مولانا عبدالحق جیسے لوگ سامنے آتے ہیں جب کیچ میں معروف بلوچ لکھاری ڈاکٹر حنیف شریف پر توہین رسالت کا کیس لگاتے ہیں کہ ہم اسے قتل کرتے ہیں، تو وہیں مولانا عبدالحق جیسے قوم پرست سیاسی علما آکر کہتے ہیں یہ میرا شخص ہے اسے توہین رسالت کا کیس لگانا آپ لوگوں کا کام نہیں اور اپنے گاڑی میں سوار کرکے اس کے آبائی گاؤں پہنچا دیتا ہے۔

جب کوئی قوم ڈی کالونائزیشن کے دور سے گزر رہی ہوتی ہے تو ریاست ہمیشہ وہاں مذہب، قبائیلت، سردار کا طعنہ دے کر محکوم اقوم کے درمیاں ایک مینوفیکچر سوچ قائم کرتا ہے جس طرح بابا مری پر ریاست نے “ترقی مخالف” کا لیبل لگایا تھا ریاست کے اجارہ داری اور ساحل اور وسائل پر اپنا قبضہ جمانے کو مضبوط کرنے کیلئے لیکن آج کے دن بابا مری کے وہ الفاظ ریاست کو کتنا اذیت پہنچا رہے ہیں وہ ریاست کے حالیہ جبر و ظلم سے پتہ چل جاتا ہے جب بابا مری سے پوچھا گیا کہ آپ کیسے اس قوم کو سیاسی ادراک دینے میں کامیاب ہورہے ہیں؟ تو بابا مری نے کہا کہ بس انہیں مزاحمت کی راہ دکھادی۔

جب ریاستی دانشوروں کی طرف سے بلوچ مزاحمت کو چند لوگوں کا مسئلہ کہہ کر یا “ترقی مخالف سردار” کا نعرہ لگا کر بلوچ قومی رہنماوں کو قبائلی رہنما کہہ کر لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی آپ کا دشمن ریاست نہیں بلکہ سردار ہے یہ نقطہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ تحریک کوئی سردار یا نواب نہیں چلا رہے ہیں بلکہ اب وہاں کے تعلیم یافتہ لوگ ڈاکٹرز، انجنیئرز اور ہائی کوالیفائیڈ لوگ چلا رہے ہیں۔

یہ بلوچ نیشنلزم کی طاقت ہیکہ جس نے ایک جڑت قائم کی ہے اور آپ کا عقیدہ یا پارٹی کونسا بھی ہو لیکن آپ پہلے ایک نیشلنسٹ اس لیئے خالد سیفی جیسے قومپرست علما لکھاریوں کی کاوشوں کو سراہنا ہی ایک دیانت دار قوم پرستی کی علامت ہے لہذا مزاحمت ہر رنگ میں ہو داد دینا ہی چاہیے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں