کالی اور تنگ حراست گاہوں میں پا بہ زنجیر دیس وادی! ۔ رامین بلوچ

158

کالی اور تنگ حراست گاہوں میں پا بہ زنجیر دیس وادی!

تحریر: رامین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان سے روزانہ کی بنیاد پر درجنوں سیاسی کارکنوں کواٹھایا جاتاہے اور انہیں جبری طور پر غائب کیا جاتاہے گزشتہ کئی دنوں سے جبری گمشدگیوں میں کافی تیزی آگئی ہے روزانہ کی بنیاد پر کئی نوجوان جن میں اکثریت یونیورسٹیوں کے طالب علم شامل ہیں جنہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے پنجاب کراچی اور شال سے سلسلہ وار ایم فل کے طالب اور ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کو اٹھانا معمول بن چکاہے اور یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا آج کسی کو غائب کیاجارہاہے تو کل کسی اور کی باری ہے بلوچستان سے نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے واقعات کوئی دیو مالائی کہانی یا افسانہ نہیں ہیں بلکہ ایک المیہ اور حقیقت ہے کوئی گھر کوئی علاقہ کوئی ایسا خاندان نہیں رہا جو ریاست کے جبری طور پر گم کئے جانے والے سلسلے سے محفوظ ہے۔ یہاں صرف تحفظ ان ہی کو حاصل ہے جن کاخون سفید اور سرد ہوچکاہے جو پنجابی کالونائزر کے نزدیک محب وطن ہے جوپنجابی تابعداری اور غلامی پر بیعت کرکے اپنے ذہن ضمیر اور غیرت کو بیوپاری کے اس نوآبادیاتی منڈی میں سستے داموں فروخت کرکے ریاست کے اہلکار اور گماشتگی میں رہتے ہوئے اپنی وطن مٹی قومی اور خونی رشتوں کے غدار ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ بلوچ نوجوانوں کو آئے دن کیوں جبری طور پر لاپتہ کیا جاتاہے پنجابی ریاست اس سے کیا حاصل کرنا چاہتاہے؟گھروں بازاروں چوراہوں مسجدوں کھیل کے میدانوں تعلیمی اداروں سے چن چن کے ان لکھے پڑھے مغوی نوجوانوں نے ریاست کا کیا بگاڑاہے؟ریاست اتنی گھبراہٹ کا شکار کیوں ہے؟ ریاست کو ہماری سیاست اور شعورسے کیا تکلیف ہے بلوچستان میں سیاسی عمل پر پابندی اور سیاست کو تخریب اور گالی کیوں سمجھا جارہاہے۔

حالانکہ ہم بلوچ پیدا ہوتے ہی سیاست زدہ بن جاتے ہیں ایک غلام قوم جب آنکھ کھولتاہے تو اسے غلامی کے بھیانک سائے ہر طرف دکھائی دیتے ہیں سیاست جبلی و جینیاتی طور پر ان کے لاشعور کا حصہ بن چکاہوتا ہے، صدیوں اور دہائیوں کے غلامی اور اس کے عذاب اسے جینے کی آزادی کے لے اندر ہی اند ر سے ابھارتی ہے جہاں سیاست نصب العین ہو جہاں سیاست سر سنگیت ہوجہاں سیاست مقصد ہو وہاں سیاسی کارکنوں کی پاؤں میں بیڑیاں ڈالنے کا مطلب اس سنگرش سے ریاست کا خوف ہے جو آزادی کی جانب تیزی سے اپنا سفر طے کررہی ہے۔

لیکن ایک المیاتی پہلو یہ ہے کہ جب ہمارے لوگوں کو اٹھایا جاتاہے تو ہم صفائی دیتے پھرتے ہیں کہ جبری لاپتہ کئے گئے لوگوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں یہ بے قصورہیں، یہ تو پر امن ہیں، یہ تو عام شہری ہیں، یہ مزدور ہے یہ کاروبارسے وابسطہ ہے اغواء کئے گئے لاپتہ افراد کے لئے احتجاج ان کے لے آواز بلند کرنا ریاست کے اس گھناؤنے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرنا بھی عین سیاسی عمل ہے اپنی پیاروں کی بازیابی کے لئے جدوجہد کرنا بھی سیاست ہے ہمارے لئے حالات اتنی اذیت ناک بنا دیئے گئے ہیں کہ ہم سیاست کے بغیراپنا وجود قائم نہیں کرسکتے سیاست و مزاحمت ہماری زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے ہم سب اس سیاسی عمل میں براہ راست شریک ہیں سیاست کا اس سے علاوہ کوئی اور دوسرا معنی تو نہیں بنتا کہ ہم ظلم و جبر کا راستہ روکیں ریاست کے نزدیک وہی سیاست کا مجرمانہ پیمانہ ہے جو اس کے ظلم و ناانصافیوں کو چپ چاپ سہاجائے اس کی تابعداری اور گماشتگی میں رہ کر آنکھیں نیچے کرکے اس کے لوٹ کھسوٹ کو برداشت کریں۔ ہمارے عزت کو داغدار کریں اور ہمیں خاموشی کا سبق دے اور ہم واہ واہ کریں اور ہم ایک حیوان کی مانند خاموشی میں عافیت سمجھیں چوکوں چوراہوں اور چیک پوسٹوں سے گزرتے ہوئے ہمارے لوگ ان سے بار بار اپنی شناخت کروانے اور انہیں پاس کارڈ دکھانے کی ریہرسل کرنے پر مجبور ہو، وہ ہمارے احساسات خیالات اور جذبات کو اطاعت کی بیڑیاں پہنائے اس کے جج جرنیل بیوکریٹ پارلمنٹیرین ان کے اینکرز ان کے فنکار ان کے قلم کار ان کے تجزیہ کارہمیں اپنے ناٹکوں کا تماشائی بنائے رکھیں اس کی طوق لعنت اپنی گلے کا ہار بنائے کیا یہ انسانی وقار کے لے درست ہوگا ریاست کے لئے سیاست دھندہ ہے لوٹ مار جبر اور قبضہ ہو گا لیکن ہمارے لئے راہ نجات۔

یہ ریاست جس کو بھی اٹھاتاہے اس کی خاندان اور برادری اور مجموعی طور وہ کمیونٹی اس جدوجہد کا ایندھن بن جاتاہے جو ظلم اور ناانصافی کو چیلنج کرتاہے لیکن کیا ہمارے صفائی دینے سے ریاست اپنا یہ مکروہ دھندہ چھوڑسکتاہے یا انہیں ہم پر ترس آئے گا یا یہ ہمارے کہنے سے ہمارے پیاروں کو بازیاب کرے گا یا خوف ہراس کا یہ تناؤ کم ہوگا جب ہم اپنے پیاروں کو سیاست سے الگ کرتے ہیں تو ہم ان کے سوچ شعور اور نظریہ پر کاری ضرب لگاتے ہیں اپنے بے بسیوں اور مجبوریوں کے زریعہ ان کی نظریات کی توہین کرتے ہیں جن نظریات کی پاداش میں وہ جبری طور پر گمشدہ کئے گئے ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جبری لاپتہ افراد باشعور زمہ دار سنجیدہ سیاسی اور نظریاتی لوگ ہیں ان کا تعلق بد قسمتی سے اس سیاست یا اس جدوجہد سے ہے جس کے مقدر میں تکلیف اور اذیت کا ہونا کوئی اتفاق یا حادثہ نہیں قوموں کے جدوجہد اس طرح کے قربانیوں سے بھری پڑی ہے تکلیف دکھ اور اذیتیوں کا شمار ہی نہیں کیا جا سکتا یہ ہمارے لئے نہ تو کوئی نیا تجربہ ہے نہ ہی یہ پہلا ہوگا اور نہ ہی آخری اس طرح کے امتحانات اور آزمائشیں اور بھی آتے رہینگے لیکن ان کا مقابلہ تذبذب یا خوف کے ساتھ بلکل بھی نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی مصلحت یاپیچھے ہٹنے کی صورت میں یہ اذیتیں ختم ہوجائیں گے ازیتیوں کا احساس تو ہم جیل سے یا گمشدگیوں سے ہٹ کر بھی کرسکتے ہیں ہم حراستی تکلیفوں سے ہٹ کر بھی غلامی کی کرب جھیل رہے ہیں غلامی سے زیادہ کوئی زلت اور تکلیف شاید ہی کوئی اور شے ہو۔

آزادی کے لئے اس پل صراط کو عبور کرنا ہمارے ہی حصہ میں آنا ناگزیر تھا۔ ہر سرگرم باشعور انسان جس کو اپنے قوم کے مستقبل آزادی اور شناخت کا احساس ہے وہ بے چین ہوگا اس کی بے چینی اس وقت ختم ہوسکتی ہے جب وہ اپنی وطن کو آزاد کرے گا پیچھے ہٹنا مطالبات کو کمزور بنانا جرائت میں کمزوری لانا پارلیمانی فریبوں میں آنا یا نیم پسپائی اختیار کرنا یہ حکمت عملی نہیں بزدلی ہوگی ہم براہ راست یا بلواسطہ ان لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں کررہے ہونگے جو ہمارے درمیان نہیں ہے جنہیں ہمارے بیچ سے اٹھاکر غائب کیا جائیگا یا جو شہید کئے گئے ان کے سوچ ان کے نظریات ان کے حوصلہ اور ان کے جرائت کا اس صورت میں ہم منصف نہیں رہ سکتے وہ لوگ جو اٹھائے گئے ہیں وہ نظریاتی تھے ان کا ایک کمٹمنٹ ہے وہ باشعور تھے وہ جانتے تھے کہ ان کے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے ان کے سامنے دنیا کے ڈھیر سارے تحریکوں کے تجربات تھے مثالیں تھیں وہ ذہنی طور پر آگاہ تھے سر پند تھے کہ اگر وہ بلوچ قوم کی آزادی کی بات نہیں کریں گے تو طاقتور کا یہ خوف طاقتور کے یہ ہتکھنڈے بلوچ قومی غلامی کے عمر کو طول دینے کے سوا کچھ نہیں ہوگی ان کی خاموشی اور لاتعلقی سے اس قوم کے عذاب میں اضافہ ہوگاان کی بھی زندگیاں تھیں ان کی تمنائیں تھیں ان کے بھی خاندان تھیں ان کے بھی رشتہ تھیں وہ بھی ایک لگژری لائف زندگی گزار سکتے تھے ان پر بھی خاندان کی زمہ دار یا ں تھیں وہ چاہتے تو ایک آرام دہ زندگی گزار سکتے تھے لیکن وہ جانتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ اس عمل سے ان کی زاتی زندگی میں کچھ آرام سکون یا معاشی خوشحالی تو آسکتی تھی لیکن پوری قوم کے دکھ درد کا ازالہ ناممکن تھا قوم تکلیف میں رہتی زبوں حالی میں رہتی اور وہ غلام رہتے اگر وہ سمجھوتہ کرتے تو سمجھوتہ کی اس صورت میں پوری قوم غلامی کے اس خودکشی کے عمل سے صدیوں گزر جانے کا عمل جاری رہتا جس طرح غلامی کا تسلسل تھا یہ تسلسل بغیر کسی رکاوٹ کے اور تیزی کے ساتھ جاری رہتا نہ تاریخ رہتا نہ پہچان نہ شناخت بس ہمارا جنم تاریخ میں ایک اور ریڈ انڈین کی طرح ہوتاوہ جانتے تھے کہ جتنی زیادہ سکوت ہوگی غلامی اسی شدت کے ساتھ ابھرے گی۔

ایک ایسا وقت آئیگا کہ لوگ غلامی اور آزادی میں فرق کو ہی نہ پہچانیں گے۔ وہ غلامی میں اس طرح سے فخر محسوس کرینگے کہ وہ آزاد ہے ان کی تاریخ کا نام و نشان نہ ہووہ طاقتور کے مسلط کردہ تاریخ اور شناخت کو اپنی شناخت سمجھیں یہی ایک فکرجن کے شعورمیں ایک ابال پیدا کی آج وہ گم ہے لیکن ان کا سوچ گم نہیں ہے ان کا نظریہ گم نہیں یہ بیداری یہ آگاہی یہ حاصلات کیا ان کی انتھک قربانیوں کاثمر نہیں ہے کہ آج بلوچ سماج سے ہر خاندان کسی نہ کسی طرح تحریک کا حصہ ہے۔

ہماری مائیں،بہنیں بیٹیاں زندگی اور سماج کے ہر رشتہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ٹھٹرتے سردی اور یخ بستگی میں ماؤں اور بیٹیوں اور بچیوں کا احتجاج کیا ایک فتح مند ابھار نہیں ہے؟ سماج کا ہر ایک اکائی اس راستے سے آشنا ہے یہ لمحات تکلیف دہ بھی ہے اور ازیت ناک بھی لیکن یہ غیر معمولی حالات ہے بلوچ سماج تو اپنے روٹین پر چل رہاتھا پارلیمانی پارٹیوں اور ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر تھیسز دینے والے کل بھی تھے اور آج بھی ان کا جوش خطابت دیدنی ہے لیکن بلوچ سماج میں ان کی تقریروں سے کوئی طوفان یا بھونچال کیوں نہیں آیا؟ ان کی سیاست معمولی لمحات کوکیوں غیر معمولی لمحات میں تبدیل نہیں کرسکے؟ اصل میں وہ غلامی پر بیعت کرچکے ہیں۔وہ بلوچ قوم کے پیشانیوں سے داغ غلامی مٹانے کے بجائے غلامی کے اس نشان کودائرہ لگاکر مضبوط کررہے تھے تحریک اور جدوجہد کے نام پر عوام کو صرف ووٹ کارڈ کے طور پر استعمال کرتے تھے لیکن اس کے برعکس انہی چند نوجوانوں اور نظریاتی کیڈروں نے حالات کا رخ تبدیل کیا ان کی ناقابل تسخیر ردعمل اور سخت گیر جدوجہدنے بلوچ سماج کو ایک مرکز اور سمت دی، ان کی عبوری کوششیں آج فیصلہ کن عہد کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔ آج ایک مرکز کی حیثیت سے بلوچ قوم کا کردار بڑھ گیا ہے جبکہ الیکشن سیاست کے دلداہ نام نہاد قوم پرستوں نے قوم اور سماج کو سیاسی زہنی اور تاریخ طور پر تقسیم کرچکے تھے ان کا مقصد ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ تھی۔

انہوں نے بلوچ جدوجہد کا مورال گرایا تھا، وہ قوم کو ایک مرکز اور جتھے میں جمع کرنے کے بجائے علاقوں اور ڈویژنوں میں تقسیم کرچکے تھے۔ آج ان کی جانب سے جبری طور پر گمشدہ بلوچ فرزندوں کے لے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے والے ماں بہنوں سے اپیل کیا جاتا ہے کہ وہ گھر میں بیٹھے رہے کیا بلوچ عورت کا کردار صرف گھر تک محدود کیا جائے؟ ان سے احتجاج کا حق چھین لیا جائے؟ کیا وہ بلوچ سیاست کا حصہ نہیں بن سکتے؟ کیا اسے آج بھی گھریلو عورت کے روپ میں دکھنا ضروری ہے؟ بلوچ جدوجہد نے ان کی زمہ داریاں بڑھادی ہے یہ ایک خام دلیل ہوگی کہ بلوچ عوام اس تاریخی عمل سے دور رہیں حالات اور جدوجہد آج ہر ایک اکائی کو دوسرے اکائی سے جوڑ رہی ہے کیا یہ تاریخی کامیابی نہیں آج ان کی طاقت اور احتجاجی عمل سے ریاست خوف زدہ ہے ان کی طاقت کے مظاہرہ نے ریاست کے لئے پریشانی اور بے گمانی پیدا کی ہے ان کی احتجاج اور دھرنوں کو روکنے کے لئے مذاکرات کئے جانے تک ریاست پہل کررہی ہے ہزاروں سے چند ایک کو بازیاب کرنے اور دکھانے سے کیا ہمیں مطمئن کیا جاسکتا ہے؟ کیا ہماری احتجاج آنسو چیخ اور کرب کا جواب یہی ہوگا لیکن کیا ہماری جوابی ردعمل ہزاروں گمشدہ افراد کی بازیابی کی موقف میں ترمیم لفظ مرحلہ وار کا استعمال اور ایک سو ایک لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ اور احتجاج کو معطل کرنے کا عمل وہ بھی اقوام متحدہ کی صدرکے دورہ کے عین موقع پر کیا یہ درست موقف ہوگی؟ یا ان بیٹیوں بہنوں کو جنہوں نے اپنے سماجی بندھنوں اور اپنے خونی رشتوں سے بے پرواہ ہوکر مسلسل احتجاجی عمل میں شریک رہے ہیں یا جو اپنے گھر خاندان اور رشتہ داروں سے الگ ہوکر جدوجہد کا راستہ چنا ہے انہیں گھر بیٹھنے کی آراہ دینا یا انہیں واپس گھروں میں چلے جانے کے لئے دباؤ ڈالنا کیا یہ ان کی قربانیوں کا صلہ ہے کیا لاپتہ افرد کا مسئلہ صرف علاقائی ہے؟ میرے خیال میں یہ علاقائی سے زیادہ بین الاقوامی ہے۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کاحل اس ریاست سے زیادہ اقوام متحدہ کے پاس ہے یہ خالص انسانی مسئلہ ہے۔

دوسری طرف لاپتہ افراد جو ہزاروں کی تعداد میں جبری طور پر لاپتہ کئے گئے ہیں دوچار بازیاب ہونا خوشی کی بات ہے لیکن یہ ہزاروں کے حساب سے بلکل معمولی انتہائی معمولی پیش رفت ہے یہ کہنا کہ ہم غیر سیاسی ہے یہ ایک روایتی سوچ ہوگی کیا مسنگ پرسنز جو لاپتہ ہوئے وہ سیاسی نہیں تھے یا ان کا بلوچ سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا کیا سیاست یا جدوجہد کسی انسان کا حق نہیں کیا سیاست یا سیاسی عمل شجر ممنوعہ ہے ہر احتجاج کرنے والا سیاسی ہے ہر آواز اٹھانے والا سیاسی ہے سیاست ایماندارانہ جو منافقت سے پاک ہو وہ راہ نجات کا ایک شاہراہ ہے وہ ایک سنگ میل ہے ہر وہ عمل سیاسی ہے جو ہماری نجات کے لئے ہو یا کسی کی بازیابی کے لئے مسنگ پرسنز کے جدوجہد کے ساتھ انصاف کا پیمانہ یہ نہیں ہے کہ ہم قسطوں میں فہرست اٹھاکے دیں گے کہ پہلے ان کو بازیاب کرو ہزاروں کا قسط میں کتنے سال اور بیتے گے وہ لاپتہ افراد جو ہماری نظر میں لاپتہ ہے کیا وہ ازیتوں کا راستہ اس لئے چنا کہ آج ہم انہیں صرف لاپتہ سمجھیں وہ لاپتہ نہیں وہ ایک فکرکے علمبردار ہیں، وہ جنہوں نے بلوچ سماج کو اپنے خون اور پسینہ سے توانائی طاقت اور تراوٹ دی آج وہ زندان میں ہیں تکلیف سہہ رہے ہیں۔

کیا وہ پاگل تھے وہ جذباتی تھے وہ اوباش تھے یا وہ حقائق اور انجام سے بے خبر تھے؟ نہیں تاریخ بار بار کہہ رہاہے ان کی زہنی اور علمی صلاحیت کا سطح بلند ہے وہ عالم ہے دانشور ہے آگاہ ہے وہ ہمارے کیڈر ہمارے رہنماء اور لیڈر ہے ان کا کردار ان کا جدوجہد تاریخی عمل میں بروقت اور بر محل ہے ان کی احساسات ان کی سوچ ان کی جذبات باشعور تھے وہ ایک تاریخ بنانے جارہے ہیں وہ ایک مستقبل کی تعمیر کررہے ہیں وہ ایک روشن مستقبل کے خواب لئے تاریخ کے اس آتش دان میں کھود پڑیں وہ پارلیمنٹ کے فریبوں سے واقف لوگ تھے یہ لاپتہ لوگ لاپتہ نہیں ہے میری گلزمین کے دیس وادی جو بھی اپنی آزادی شناخت اور سرزمین کی بات کرتے ہیں تو وہ گم کیا جاتاہے بس یہی ان کا گناہ یہی ایک قصور یہی ایک جرم ہے جس کی سزا کے طور پر انہیں لاپتہ کیا جاتا ہے لیکن یہ لاپتہ نہیں یہ گم نہیں لاپتہ وہی ہوتے ہیں جن کے بارے میں معلومات نہ ہو شوائد نہ ہو ثبوت نہ ہو حقائق نہ ہو ان کے بارے میں معلوم ہے کہ کس کے تحویل میں کس نیت سے اٹھا یا گیا ہے وہ کونسے ارادے اور پالیساں اور طاقت ہیں جو سالوں ہمارے بھائیوں کو سورج کی کرنوں سے بھی چھپایا جارہاہے کالی اور تنگ حراست گاہوں میں انہیں کیوں پابہ زنجیر کیا گیا ہے؟


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں