پنجگور: فائرنگ کے تبادلے میں وارداتوں میں نامزد ملزم ہلاک، 3 گرفتار

442

بلوچستان ضلع پنجگور میں آج پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے کئی واردات میں نامزد ملزم بہرام نذیر کے گھر پر چھاپہ مارکر فائرنگ کے تبادلہ کے بعد ایک کو زخمی حالت میں جبکہ دیگر تین کو گرفتار کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنجگور کے علاقے سراوان میں مختلف واردات میں مطلوب پولیس اور لیویز کا بہرام نذر کے گھر پر مشترکہ کاروائی کے دوران فائرنگ سے ایک شخص زخمی جبکہ تین افراد گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس نے زخمی کو سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں وہ زخمی کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

اطلاعات کے مطابق مذکورہ افراد کے لواحقین اسپتال میں پہنچ کر مشتعل ہوکر پولیس کے خلاف پتھراو کیا جبکہ پولیس نے انہیں مشتعل کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ بھی کی ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پہ دی بلوچستان پوسٹ کو بتایا کہ مذکورہ بہرام نذیر کئی واردات میں پولیس کو مطلوب تھا جبکہ گذشتہ ماہ قتل ہونے والے فٹبالر دادا جان بلوچ کے قتل کی تحقیات کے دوران گرفتار ہونے والے ایک مرکزی ملزم نے داد بلوچ کے قتل میں بھرام بلوچ کے ملوث ہونے کی نشاندہی کیا تھا جبکہ پولیس نے ان کے خلاف کاروائی کی تو گھر سے فائرنگ شروع کی گئی جہاں ملزم کا بھائی زخمی اور دیگر دو کو پولیس نے گرفتار کرلیا جبکہ بھرام خود دیگر ساتھیوں کے ہمراہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

علاقائی ذرائع نے مذکورہ افراد کے بارے میں بتایا کہ ان کا تعلق سرکاری حمایت گروہ ملا نوید گروپ سے ہے جو علاقے میں چوری ڈکیٹی سمیت دیگر سماجی برائیوں میں ملوث ہیں۔

پولیس کے مطابق بہرام نزر جو پولیس کو مختلف واردات میں مطلوب تھیں ان کی فائرنگ سے انکے بھائی خلیل نزر کو دو گولیاں پیٹ اور ہاتھ میں لگی اور وہ خود موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

پولیس کے مطابق ان کے قبضے سے کلاشنکوف بمہ میگزین برآمد کرلئے گئے۔

پولیس کے مطابق جب ہم نے گھر پر چھاپہ مارنے کی کوشش کی تو گھر میں موجود مسلح افراد نے پولیس پر فائرنگ کردی پولیس و لیویز فورس کی مسلسل جدوجہد سے تین افراد گرفتار کرلئے گئے مزید تفتیش پولیس کررہی ہے۔

دوسری جانب داد بلوچ کے قاتلوں کی عدم گرفتاری و علاقے میں مسلح جھتوں اور بدامنی کے علاقے خلاف سٹس فار کمیٹی ال پارٹیز اور سول سوسائٹی کی جانب سے دادجان بلوچ کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف اج دوسرے روز بھی ڈپٹی کمشنر، ایس پی پولیس آفس کو جانے والی مین شاہراہ پر دھرنا جاری رہا۔

دھرنے میں خواتین اور بچے نے بھی بڑی تعداد میں حصہ لیا اس موقعے پر ال پارٹیز سول سوسائٹی اور شہید دادجان فار جسٹس کمیٹی کے رہنماوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید دادجان کے قاتلوں کو گرفتار کرنے تک یہ دھرنا جاری رہے گا۔

مقررین نے کہا کہ پنجگور میں مسلح جہتوں کو مکمل ازادی دی گئی ہے کہ وہ جو چائیں کریں ان پر کوئی ہاتھ ڈالنے کی جرت نہیں کرسکتا ہے اج اگر دادجان کے خاندان کو انصاف نہیں ملا کل دوسروں کو بھی اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا

انہوں نے کہا کہ دادجان کا خاندان شدید کرب میں مبتلا ہے ملک کے بااختیار ادارے اس قتل ناحق کا نوٹس لیکر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کریں