پنجگور: تیل کے کاروبار کرنے والے گاڑی مالکان نے احتجاجا انٹری پوائنٹ بند کردی

356

اہلیان پروم اور بارڈر پر کام کرنے والے گاڑی مالکان کا اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج اور احتجاجاً انٹری پوائنٹ بند کرکے تحصیل پروم میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ضلع کے پنجگور کے علاقے پروم علاقہ مکینوں نے اپنے مطالبات کے حق میں جائین انٹری پوائنٹ بند کرکے احتجاجاً دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے مطالبات قانونی اور جائز ہیں۔ ہمارے مطالبات میں پروم سے تعلق رکھنے والے غریب گاڑی مالکان کے 45دن دینے کے بجائے کم کرکے کم از کم ایک مہینے میں دو بار بارڈر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ جن غریب گاڑی مالکان نے قرضے پر گاڑی لی ہیں وہ ماہانہ اپنے اقساط وقت پر دے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پروم جو ہر لحاظ سے بارڈر کی وجہ سے متاثر ہے اور لوگوں کے فصلات کی تباہی سمیت ہزاروں کی تعداد میں گاڑیوں کے گھروں کے اندر گزرنے سے یہاں کے رہائشی شدید متاثر ہیں اور علاقے کے عوام کے درج بالا مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقہ مکینوں کیلئے ایک ریلیف کا اعلان کیا جائے۔

مزید کہنا ہے کہ پروم کے عوام کا گزر بسر صرف ایرانی بارڈر پر ہے اور جب عوام کی روزگار کو متاثر کرکے اُن پر پابندی لگائی جائے تو وہ کیا کر سکتے ہیں۔

پروم بارڈر کمیٹی کے ذمہ داران نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پنجگور بارڈر کمیٹی کی طرف سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور اُن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں کہ پروم بارڈر کمیٹی والوں نے توڑ پھوڑ کی ہے اور چند شر پسند عناصر ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم پرامن شہری ہیں اور اپنے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں، پر امن احتجاج ہمارا قانونی و آئینی حق ہے اور توڑ پھوڑ کا سوچ بھی نہیں سکتے، علاقے کے نوجوانوں کے ساتھ یہاں کے سفید ریش اور معزز شہری اس احتجاج کا حصہ ہیں۔

اُن کا مزیدکہنا تھا کہ اہلیان پروم کیلئے انتظامیہ کو کچھ ریلیف دینا ہوگا کہ پروم پھل آباد سے پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور پروم والوں کیلئے جائین یا جیرک انٹری پوائنٹ کو برقرار رکھا جائے اور پھل آباد کے تکالیف سے اُنہیں نجات دلائی جائے، 45دنوں کے بجائے کم از کم پندرہ دن فی گاڑی کو بارڈر جانے کی اجازت دی جائے اورپروم کے باقی جتنی گاڑیاں جو ابھی تک رجسٹر نہیں ہوئے ہیں اُن کے رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے۔

مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں اُن کی منظوری تک احتجاج کریں گے اور دھرنے کے مقام پر بیٹھے رہیں گے۔