مستونگ میں ریاستی ڈیھ اسکواڈ کارندہ نور احمد بنگلزئی کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی ایل ایف

802

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے انتہائی اہم کارندے نور احمد بنگلزئی کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ تنظیم کے سرمچاروں نے آج بروز ہفتہ کوپاکستانی فوج کے دست راست اور مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندہ نور احمد بنگلزئی کوبلوچستان کے علاقے مستونگ میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال کے سامنے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے جس کی ذمہ داری تنظیم قبول کرتی ہے۔

مذکورہ شخص بلوچ قومی تحریک کے ہمدردوحمایتی اور تحریک سے جڑے افراد سمیت بے گناہ ومعصوم لوگوں کے قتل اور جبری گمشدگیوں میں ریاستی فورسز کی معاونت کار تھا۔

ترجمان نے کہا کہ نور احمد بنگلزئی ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سابق سربراہ سراج رئیسانی کی بلوچ نسل کش مشن کا اہم ساتھی تھا جس کی ہلاکت کے بعد انہیں تمام ذمہ داریاں سونپ کر بلوچستان عوامی پارٹی(باپ) کے رہنما کے طور پر سیاسی منظر نامے پر پیش کیا گیاتھا۔

مستونگ،بولان اور گرد نواح کے علاقوں میں اسکا گروہ سرگرم تھا اور بلوچ جہد کاروں کی اغوا و شہادتوں میں ملوث ہونے کے ساتھ سماجی برائیوں جیسے کہ ڈکیتی،،اغوا برائے تاون اور بھتہ خوری میں بھی ملوث تھا۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ بلوچ قومی تحریک کیخلاف کام کرنے والے اور اسے گزند پہنچانے والے ریاستی آلہ کاروں کا انجام یہی ہوگا۔ تمام ریاستی آلہ کارو معاونین جن میں مقامی پولیس و لیویز اہلکار بھی شامل ہیں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ بلوچ قومی تحریک سے جڑے افراد اوران کے ہمدردوخیر خواہوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں، تحریک کے سامنے رکاوٹیں نہ ڈالیں ورنہ تنظیم کسی قسم کی لحاظ کئے بغیربلوچ قوم وبلوچستان کی مفادات و دفاع میں ہر حد پار کرسکتی ہے۔