لوگوں سے احتجاج کا بھی حق چھینا جارہا ہے – ماما قدیر بلوچ

106

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 4652 دن ہوگئے، آج کیمپ میں مشکے سے سیاسی اور سماجی کارکنان حبيب اللہ، رسول بخش اور دیگر نے آکر اظہارِ یکجہتی کی، جبکہ کیمپ میں وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ اور لاپتہ افراد کے لواحقین بیٹھے رہیں۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ کسی نہ کسی کو جبری لاپتہ نا کیا جائے، بلوچستان سمیت کراچی اور دوسرے شہروں سے بلوچ نوجوانوں کو چن چن کر جبری طور پر اٹھایا جا رہا ہے، جب لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے آواز اٹھانے نکلتے ہیں تو ان پہ ریاستی فورسز ظلم ڈھاتے ہیں، ان کی بے عزتی کی جاتی ہے ان پہ تشدد کیا جاتا ہے اور ان کو غیر قانونی حراست میں لیا جاتا ہے، جس طرح ہم نے کل کراچی میں دیکھا تھا کہ کس طرح بلوچ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین پہ کھلے عام سندھ پولیس نے جبر کا مظاہرہ کیا ان کو غیر قانونی حراست میں لیا انکو حراساں کیا گیا ان کو چار سے پانچ گھنٹے بلا وجہ پولیس حراست میں رکھ کر انکی پروفائلنگ کی گئی اور ان سے غیر ضروری سوالات پوچھے گئے۔

انہوں نے کہا کہ گچک سے دو خواتین شاہ بی بی، شہزادی اور انکے نوزائیدہ بچے کو پچھلے ایک ماہ سے گچک سیاہ دمب کے فوجی کیمپ میں رکھا ہوا ہے، ہوشاپ سے سی ڈی ٹی کے اہلکاروں نے بیگناہ بلوچ خاتون نورجان کو رات کے اندھیرے میں اٹھا کر لاپتہ کر دیا پھر اس پہ ناجائز اور جھوٹے مقدمات لگائے گئے، اس ملک میں بلوچ کیلئے قانون اور عدالتی نظام کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ اس طرح کے غیر انسانی عمل کا سختی سے نوٹس لیں، جدید دنیا کے صحافتی اداروں کو مسسنگ پرسنز کا کھلے عام لگا ہوا کیمپ نظر نہیں آتا ہے –