شاریِ ازم ۔ افروز رند

342

شاریِ ازم

تحریر: افروز رند

دی بلوچستان پوسٹ

زندہ رہنے کیلئے سو سال ضروری نہیں بلکہ ایسی کارستانی، کردار، جرت اور جسارت دکھائی جائے جو انسان کو ہزاروں سال تک زندہ رکھے۔ سقراط پر الزام لگا کہ وہ نوجوان سے کہتاہے کہ سچائی کیلئے نکلو علم تلاش کرو ‘ یہ اس وقت کے گریک الیٹ اور حکمرانوں کیلئے خطرے کی گھنٹی تھی، انہوں نے سقراط پر گریک خداوں کی توہین کرنے اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے الزام لگائے اور اسے گرفتار کرکے اس وقت کے عدالت کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے تمام الزامات قبول کرلئے، اس کے سامنے دو آپشن تھے ایک زہرہ کا پیالہ پینا دوسرا قدرے آسان جلا وطنی ‘ لیکن حیران کن طورپر اس نے پہلے والے خطرناک آپشن کا انتخاب کیا اور زہر کا پیالہ پینے کی حامی بھرلی۔

عدالت میں موجود اس کے شاگردوں سمیت 46 دیگر لوگوں نے اس سے کہا کہ وہ جلا وطنی قبول کرے ‘ اس نے بڑی راحت و احترام سے کہا کہ بھاگنے کا مطلب اپنے کہی ہوئی بات کو غلط ثابت کرنا ہے’ کیا تم لوگ چاہتے ہیں کہ میں ہمیشہ زندہ رہوں؟ اسکے شاگردوں نے کہا بالکل ہم یہی چاہتے ہیں ‘ اس نے کہا کہ سچ کیلئے جان دینا ہی مجھے ہمیشہ کیلئے زندہ رکھ سکتا ہے، سو مجھے قبول ہے۔

آخری رات کو اس کے شاگردوں نے زندانی آفیسر کو اپنے ساتھ ملاکر سقراط کو جیل سے نکالنے کی تدبیر کی اور وہ سقراط کے پاس گئے منت سماجت کی اس نے کہا میرا فیصلہ اٹل ہے پھر اس کے شاگرد مایوس ہوکر جیل نما بنکر سے نکل گئے’ پھر صبح کو فیصلے کے مطابق ایتھنز سے زہر لایا گیا اور سقراط کو باہر مجمع کے سامنے لاکر پیش کیا گیا اس نے نوش فرماکر اپنے شاگردوں کو ہمیشہ کیلئے سوگوار چھوڑ کر چلے گئے لیکن تاریخ کے اوراق میں آج وہ پہلے نمبر پر ہے۔ یہ وہی سقراط ہے جسے ہم مغربی فلاسفی کے باپ کے طورپر جانتے ہیں ‘ ہر وہ طالب علم جو تاریخ ‘ سیاست اور فلاسفی پڑھے پہلے اسے سقراطی میتھڈ ہی پڑھنا پڑتاہے ‘اسے Moral فلاسفئ اور اخلاقیات کا بھی باپ کہا جاتاہے۔

اس سے ایک دلیل اور منطق ثابت ہوجاتی ہے کہ ظالم قابض کے خلاف اور مظلوم کے حق میں جان دینا اخلاقی سیاسی اور فلاسفیکل طورپر درست ہے۔ گزشتہ دنوں کراچی میں چائنیز پراپگنڈہ مشینری ( کنفیوشس ) انسٹیٹوٹ کے استادوں پر ایک حملہ ہوا ‘ اور یہ حملہ پہلی بلوچ خواتیں جنگجو سرمچار )جانثار ) شاری بلوچ نے کی تھی اور پھر سوشل میڈیا سے لیکر بین الاقوامی خبر ناموں میں یہ ایک اہم ٹرینڈ بن گئی اور اب شاری بلوچ تاریخ میں واقعی لیجنڈ بن چکی اور اب شاری ازم بلوچ مزاحمتئ تاریخ میں ایک نئی مثال اور پلر بن چکی ہے-

اسٹریٹجیکلی بلوچ جنگ واقعی ایک اہم منزل کی طرف نکل رہی ہے اور اس کا سہرا جنرل کے کاروان کے دوستوں کو جاتاہے کہ انہوں نے سخت وقت میں اہم فیصلے کئے بلوچ تحریک کی سمت تبدیل کی ‘ عملاً جنگ کئی طرح کے ہوتے ہیں لیکن ہمیشہ ایک وہ ہوتاہے جسے offensive یعنی جارحیت کہا جاتاہے ‘ اور دوسراdefensive یعنی دفاع کہلا تاہے۔ اگر چہ جنگ میں کوئی اخلاقیات نہیں یہ صرف طاقت کے بل بوتے پر ہی لڑی جاتی ہے ‘ اور ہمیشہ دفاع کرنے والے پر کوئی بھی اخلاقی قانون لاگو نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنے محدود طاقت سے طاقتور کو للکار کر کہتاہے کہ جارحیت بند کرو ‘ شاری نے صرف یہ حملہ ایک پیغام کے طور پر کی تھی اور جس مقصد کیئلے اس نے کی تھی اس نے سو فیصد کامیابی حاصل کی اور کئی محققین نے بر ملا یہ کہا کہ چین دفاعی اور معاشی اشتراک کے معاملے نہ صرف پاکستان کے ساتھ ملا ہواہے بلکہ آنے والے سالوں میں چین جیونی اور پسنی میں اپنا نیول بیس قائم کرنا چاھتاہے’ اور چیں براہ راست بلوچستان کے جفرافیائی
‏ ( oceanography)resourcefulness/political economy
سے فائدہ حاصل کرنا چاہ رہاہے اور چائنا بہت ہی خاموشی کے ساتھ یہ تمام کام بڑی چالاکی کے ساتھ کررہاہے ‘operational Reality
کے بَر خلاف کچھ لوگ درس دے رہے ہیں کہ اس طرح کے عمل سے اجتناب کیا جائے، انہیں ایک بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ بلوچستان نہ کسی ووٹ الیکشن اور عوامی مرضی سے پاکستان کے ساتھ شامل ہوا ہے بلکہ یہ تمام بہ جبر ہوا ہے اور پاکستانی فوج نے 1947 سے لیکر آج تک کتنے ظلم کئے ہیں کیا قلات پر قبضہ کسی اخلاقیات کے تحت ہواتھا یا کہ جبر کےساتھ، اسد مینگل سے لیکر آج تک لا حساب بلوچوں کے لاشیں کبھی نہیں ملے کیا یہ کسی اخلاقیات کے زمرے میں آتے ہیں؟

ڈاکٹر شازیہ کو ریپ کرنے والا کپٹن حماد آج بھی خوش و خرم ہے’ نواب بگٹی کا قتل کس ethics کے تحت ہواتھا ‘ سب سے بڑھ کر قبضہ اور پھر استحصال ہی بر خلاف اخلاقیات ہی ہے ‘ آج تک تاریخ ایک بات ہی بتاتی ہے کہ قبضہ گیر کو صرف اور صرف مسلح اور منظم طاقت سے ہی روکا جاسکتاہے- لیکن محکوم کا تاریخی ورژن اس وقت تک سامنے نہیں آتا جب تک قابض اس پر حکمران ہے ۔

جب آپ ایردست ہوں تو آپ پر طرح طرح کے الزام لگتے ہیں، اس معاملے میں تاریخ کے دو ورژن ہوتے ہیں ایک قابض کا دوسرا محکوم کا ، جب قابض نکل کر چلا جائے پھر اسی وقت اس کا تاریخی ورژن مات کھا جاتاہے ۔ جبکہ محکوم تاریخ بدلنے میں کامیاب ہوکر غلامی کی پٹھے اتارے تو تاریخ اس کی توصیف لکھنا شروع کرتاہے۔ مثلاً 1947 سے پہلے بھگت سنگھ دہشت گرد تھا جب ہندوستان آزاد ہو تو وہ ہیرو کے طورپر سامنے آگیا’ چیئرمین ماو کی وجہ سے 5 کروڑ لوگ قتل ہوئے یا فاقوں میں مرے لیکن جب وہ کامیاب ہوا تو یہ تمام ریکارڈ منظر سے ہئ غائب ہوگئے اسٹالن نے 30 لاکھ لوگوں کی جان لی لیکن روس میں آج بھی وہ مرد آھن کہلاتاہے ‘ چچنیا میں پوٹن نے 15 لاکھ مسلمان قتل کئے لیکن وہ آج بھی روس کا ہیرو ہے ‘ البتہ یہ کہا جاسکتاہے کہ اپنی تاریخ کو زندھ رکھنے کیلئے قوموں کو زندہ رہنا پڑتاہے اور تاریخ میں اپنا باب بنانے کیلئے اپنی قومی ریاست حاصل کرنا ضروی ہوجاتاہے تاکہ آپ اپنے ان لا تعداد ہزاروں ہیرووں کو یاد رکھ سکیں جنہوں نے اپنی وطن سے قابض کو بھگانے کیلئے نہ اپنے سروں کی پرواہ کی نہ بچوں کی اور نہ اپنی قیمتئ زندگیوں کی ‘ اب شاری ایک نام نہیں بلکہ بلوچ مزاحمتئ سیاست میں ایک سیاسی اصلاح بن چکی ہے )Sharism.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں