سوئی گیس کے سنگم میں عوام پانی کے بوند کو ترس رہے ہیں۔ این ڈی پی

88

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان میں انسانی زندگی کے بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں ہے. ریاست نوآبادیاتی پالیسی کے تحت بلوچستان کے معدنیات اور ساحل و سائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے. بلوچستان کے باسی آج کے دور جدید میں بھی پانی نہ ہونے سبب جان کی بازی ہار رہے ہیں. لیکن ریاست اور اس کے حکمرانوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی.
ترجمان نے کہا کہ وہ ڈیرہ بگٹی جو اس ریاست کو 1952 سے سوئی گیس فراہم کرتی آ رہی ہے، شہر اقتدار سے لے کر پوری ریاست کی چولھے اور فیکٹریاں اسی سوئی گیس کے بدولت آباد ہیں. لیکن ڈیرہ بگٹی میں سوئی گیس کے سنگم پر واقع پیر کوہ کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پیر کوہ میں پانی کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے نجی کمپنی کی جانب سے کچھ وقت علاقے کو پانی فراہم کیا گیا تھا جو اب نہیں کیا جا رہا۔ گزشتہ حکومت میں بھی ایک پراجیکٹ کے تحت کچھ سالوں تک پیر کوہ کے عوام کو پانی کی چند بھوندیں فراہم کی گئی تھیں۔ پیر کوہ کے عوام اب محض نہر کے پانی پر انحصار کر رہے ہیں اور اسی مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں مگر اب وہ بھی میسر نہیں۔ پینے کے پانی کی قلت کے سبب، جوہڑ اور مضر صحت پانی پینے کی وجہ سے بچے، خواتین سمیت 20 سے زائد لوگوں کی اموات ہوئی ہے.

ترجمان نے آخر میں کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ ریاست اور اس کے حکمران نوآبادیاتی پالیسیوں کو ترک کرکے بلوچستان کے ساحل وسائل اور قدرتی معدنیات پر بلوچ کی حق ملکیت کو تسلیم کرکے بلوچ عوام کو ان کی بنیادی ضروریات سے محروم نہ کرے. بصورت دیگر اس کے بہت خطرناک نتائج ہونگے، اس ریاست اور ان کے حکمرانوں کے ہاتھوں اس کا ازالہ ناممکن ہوگا.