روسی صدر پرقاتلانہ حملے کی ناکام کوشش کا انکشاف

155

یوکرین کے انٹیلی جنس ڈائریکٹر Kyrylo Budanov نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین دو ماہ قبل یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے وسط میں قاتلانہ حملے میں بال بال بچے تھے۔ یوکرین کے اخبار یوکرائنسکا پراودا نے پیر کو ایک رپورٹ شائع کی جس میں وضاحت کی کہ قفقاز کے علاقے سے تعلق رکھنے والے افراد جہاں آرمینیا، آذربائیجان، جارجیا اور جنوبی روس کے کچھ حصوں کے لوگ رہتے ہیں، نے صدر پوتین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

بوڈانوف نے کہا کہ ماسکو کی جانب سے قاتلانہ حملے کی ناکام کوشش کا اعلان نہیں کیا گیا تھا تاکہ نازک وقت میں روسی عوام کے حوصلے متاثر نہ ہوں۔ تاہم ایک روسی اخبار نے قاتلانہ حملے کے فوراً بعد کہا تھا کہ پوتین ایک جنازے میں اپنا جوہری بیگ لے کر جا رہے تھے۔ ایک ایسا بیگ جو ریموٹ حملہ کرسکتا ہے جس سے ان کے کسی بھی لمحے قاتلانہ حملے کا خدشہ ظاہر ہوتا ہے۔

برطانوی اخبار “ڈیلی مرر” کی گذشتہ ہفتے کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پوتین کریملن میں اعلیٰ حکام کی اقتدار پرقبضے اور انہیں معزول کرنے کی خواہش کے خوف سے ایک زیر زمین پناہ گاہ میں چھپے ہوئے ہیں۔ اخبار نے لکھا کہ وہ ” بے وقوف ہیں جو اپنی زندگی ایک زیر زمین پناہ گاہ میں گزارتے ہیں۔ وہاں بھی انہیں خوف لاحق ہے کہ کہیں انہیں کھانے میں زہر نہ دے دی جائے‘۔

’ڈیلی مرر‘ نے کہا کہ پوتین اپنے صبح کے سوئمنگ پول میں پانی کی کیمیائی سطح کے بارے میں فکر مند ہیں اور قتل کیے جانے کے اس قدر خوف میں ہیں کہ وہ اپنے ایک بار قابل اعتماد اندرونی حلقے سے دور ہو گئے ہیں۔