تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کو دانستہ طور پر ہراساں کیا جارہا ہے – بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل

96

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں 27 اپریل بروز بدھ کو یونیورسٹی انتظامیہ نے بلوچ طلبہ کے اسٹڈی سرکل پر دھاوا بول کر طالبات کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ جس کے بعد جب طلبہ نے احتجاجاً مین گیٹ پر دھرنا دیا تو انتظامیہ نے پولیس، ڈالفن اور اپنے یونیورسٹی  سیکورٹی گارڈز کے ذریعے بلوچ طلبہ پر تشدد کرنا شروع کیا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ بجائے اس کے کہ بلوچ طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے، غازی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے انتقامی کاروائی کرتے  ہوئے متعدد بلوچ طلبہ کو یونیورسٹی سے ایکسپل کیا، جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پروفیسر رفیق قیصرانی نے جب اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے غازی یونیورسٹی میں بلوچ طلبہ پر ہونے والے تشدد کی مذمت کی اور غازی یونیورسٹی میں پرامن ماحول کے قیام کا مطالبہ کیا، تو یونیورسٹی انتظامیہ نے انہیں بلوچ طلبہ کے حق میں بولنے پر یونیورسٹی سے ٹرمینیٹ کردیا۔ غازی یونیورسٹی کے انتقامی سلوک کے خلاف طلباء وطالبات اس تپتی دھوپ اور گرمی میں یونیورسٹی مین گیٹ کے سامنے اپنی احتجاجی کیمپ لگائے بیٹھے ہیں۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کو دانستہ طور پر ہراساں کیا جارہا ہے۔ اس سے پہلے بھی اسلام آباد اور پنجاب کے تعلیمی اداروں کے اندر بلوچ طلبہ کو ہراساں کیا گیا جس کے نتیجے میں بعدازاں بلوچ طلبہ کو لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ ہم ایک بار پھر حکومت وقت اور متعلقہ اداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ بلوچ طلبہ کی پروفائلنگ بند کی جائے۔ واضح رہے کہ عدالت نے نہ صرف اس بات کی یقین دہانی کرائی بلکہ حکم نامہ بھی جاری کیا تھا کہ بلوچ طلبہ کی پروفائلنگ بند کی جائے گی۔ عدالت کے نوٹس کے باوجود بلوچ طلبہ کو ہراساں کرنا اور ان کی پروفائلنگ کرنا باعثِ تشویش ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی اس غنڈہ گردی کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

ترجمان نے مذید کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل سے بیبگر امداد بلوچ کو یونیورسٹی انتظامیہ کی مدد سے جبراً لاپتہ کرنا اور غازی یونیورسٹی کے بلوچ طلباء و طالبات کو یونیورسٹی سے ایکسپل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچ طلبہ کو تعلیم سے دور رکھا جارہا ہے۔
لہٰذا بے گناہ بلوچ طلبہ کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں اور انہیں پُرسکون طریقے سے پڑھنے کا حق دیا جائے۔

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ غازی یونیورسٹی کی انتظامیہ کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور ہم غازی یونیورسٹی کے بلوچ طلبہ کے ساتھ ساتھ پروفیسر رفیق قیصرانی کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم تمام انسان دوست تنظیموں اور سماجی کارکنوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچ طلبہ کو تعلیم سے دور رکھنے کی اس منظم سازش کے خلاف آواز اٹھانے میں ہماری مدد کریں۔