بلوچ عورتوں کی جبری گمشدگی پر احتجاج – اسد بلوچ

78

بلوچ عورتوں کی جبری گمشدگی پر احتجاج

تحریر: اسد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں ضلع کیچ اور کراچی سے جبری حراست میں لیے گئے عورتوں کی بازیابی اور رہائی کے لیے سی پیک شاہراہ M8 ہوشاپ سیکشن پر دھرنے کے ساتھ آج سے تربت میں بھی M8 ڈی بلوچ پوائنٹ پر لاپتہ بلوچ شاعرہ حبیبہ پیرجان کی فیملی اور حق دو تحریک کے کارکنان نے احتجاج شروع کردیا ہے۔ احتجاج کے سبب تربت سے گوادر، پسنی اورماڈہ اور کراچی جانے والی شاہراہ بلاک ہے جبکہ پانچ دنوں سے M8 ہوشاپ سیکشن بھی آمدورفت کے لیے بند ہے جس کی وجہ سے تربت تا کوئٹہ ٹریفک مکمل طور پر بند اور خواتین و بچے سمیت ہوشاپ کے لوگ شاہراہ پر خیمہ لگاکر بیٹھے ہیں۔ ان کے احتجاج کا نورجان بلوچ کی باعزت رہائی سے مشروط ہے جنہیں 16 مئی کی علی الصبح سی ٹی ڈی نے سیکیورٹی اداروں کے ہمراہ ہوشاپ میں گھر سے لاپتہ کیا اور عوامی احتجاج کے بعد ان کی گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے ان پر خودکش حملہ کی منصوبہ بندی کے علاوہ تخریبی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا الزام لگایا۔

جمعرات 19 مئی کو کراچی نیول کالونی سے سیکیورٹی اداروں نے ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مار کر ضلع کیچ کے علاقے نظر آباد تحصیل تمپ سے تعلق رکھنے والی بلوچ شاعرہ حبیبہ پیرجان کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے جس کے بارے میں ان کی اہل خانہ کے مطابق انہیں تاحال سرکاری حکام نے معلومات فراہم نہیں کی ہے۔

جمعرات کو کراچی سے حبیبہ پیرجان کی جبری گمشدگی کی اطلاع کے بعد لوگوں نے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر نظر آباد میں سڑک بلاک کیا اور سرحدی شھر مند میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی۔ اس کے بعد آج جمعہ کو حبیبہ پیرجان کی فیملی نے تربت آکر حق دو تحریک کیچ اور سول سوسائٹی کے ہمراہ مل کر تربت میں M8 شاہراہ کو ڈی بلوچ پوائنٹ پر بلاک کردیا ہے جس کی وجہ سے کراچی، گوادر اور پسنی سے آنے والی گاڈیاں بڑی تعداد میں پھنس گئی ہیں جس میں سوار مسافروں کو شدید گرمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

احتجاج میں شامل حبیبہ پیرجان کی بڑی بہن نسیمہ پیرجان کے مطابق ہمیں یہ معلوم ہے کہ حبیبہ پیرجان کو سیکیورٹی اداروں نے اغوا کیا ہے کیونکہ اغوا کے وقت گھر میں حبیبہ کے دو بچے اور میری بیٹی بھی موجود تھی تاہم ہمیں سرکاری حکام نے ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ اسے کس ادارے نے کیوں اور کن الزامات کے سبب گمشدہ کردیا ہے۔

حبیبہ پیرجان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ علاقے میں حالات اور منشیات کی وجہ سے بچوں کی بہتر مستقبل کے لیے 8 سال قبل کراچی شفٹ ہوئے تھے کیوں کہ یہاں ان کا شوہر منشیات کی لت میں گرفتار ہوکر سماجی سرگرمیوں اور فیملی کی زمہ داریوں سے لاتعلق ہوگیا تھا۔

حبیبہ پیرجان کے کزن مہر دوست قومی نے بتایا کہ حبیبہ کا بظاہر کوئی ایسا قصور ہمیں نظر نہیں آتا جس کی پاداش میں انہیں اتنی بڑی سزا دی جائے وہ بلوچی زبان میں شاعری کرتی ہیں اور کراچی میں سلائی کا کام کرتی تھیں جبکہ ان کی بیٹی حنا ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھاتی تھی جس سے ان کا گزر بسر ہوتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ حبیبہ پیرجان کا کبھی سیاسی سرگرمیوں میں تعلق نہیں رہا اور نا ہی وہ کسی سیاسی جماعت میں کبھی شامل رہی ہے ان کی جبری گمشدگی ہمارے خاندان کے لیے حیرت اور پریشانی کا سبب ہے۔

احتجاج میں شامل حق دو تحریک کے رہنما غلام یاسین نے کہاکہ بلوچ عورتوں کی جبری گرفتاری ایک خطرناک رجحان ہے، سیکیورٹی ادارے بلوچ روایات سے ناواقف ہیں اس لیے انہیں اس کے ردعمل کی شدت کا اندازہ نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ اگر ہوشاپ سے گرفتار خاتون نورجان کے کیسز واپس لے کر انہیں رہا اور کراچی سے جبری گمشدہ حبیبہ پیرجان کو بازیاب نہیں کیا گیا تو ہوشاپ میں سی پیک شاہراہ پہلے ہی بلاک ہے۔ آج سے غیر معینہ مدت کے لیے M8کو تربت میں ڈی بلوچ پوائنٹ پر بلاک کردیا گیا ہے، حق دو تحریک سول سوسائٹی اور بلوچ عوام کے ساتھ مل کر کوسٹل ہائی وے کو بھی بلاک کرے گی اور اس کے ساتھ تربت اور گوادر میں غیر معینہ مدت کے لیے شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال دیں گے۔

نسیمہ پیرجان کے مطابق حبیبہ گھر میں ایک زمہ دار خاتون تھی، جب بھی ہمارے فیملی کے کسی شخص کو بیماری کے سلسلے میں کراچی جانا پڑتا تو ان کا ٹھکانہ اور ہسپتال لےجاکر ان کی تیمارداری حبیبہ اپنے زمہ لیتی تھی۔

انہوں نے بتایاکہ وہ حبیبہ پیرجان کی گمشدگی پر پریشان تو ہیں لیکن اسے اپنی کمزوری بناکر چپ نہیں رہیں گے بلکہ اس زیادتی کے خلاف اس وقت تک احتجاج کرتے رہیں گے جب تک حبیبہ کو بازیاب نہیں کیا جاتا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں