بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں اور تعلیمی اداروں میں ہراساں کرنے پر طلباء تنظیموں میں تشویش

89

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ،بلوچ ایجوکیشنل کونسل اور بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کی طرف سے جاری کردہ الگ الگ پریس ریلیز میں تعلیمی اداروں کے اندر طلباء کو ہراساں کرنے اور جبری گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا –

بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں راولپنڈی اور کراچی سے بلوچ طالب علموں کی گُمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بلوچ طالب علموں کو تعلیم سے دور رکھنے کے لئے حکومت کی طرف سے ایک بنی بنائی سازش ہے جو کہ تمام بلوچ طلبہ کے دلوں میں خوف و حراس پھیلانے کے مترداف ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ ہم اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جو بلوچ طلبا کے حوالے سے نہ صرف ریاست کے تعصبانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ بلوچ طلبا کو اجتماعی سزا دے کر اُن کے لئے تعلیم کے راستے بند کرنے کے مترادف ہے۔ بلوچ طلباء کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں، آئے روز بلوچ طلباء کو یونیورسٹی کیمپسز کے اندر سے جبراً لاپتہ کیا جاتا ہے۔ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں بلوچ طلباء کی پروفائلنگ اور ہراسمنٹ بلوچ طلباء کو تعلیم سے دور کرکے پسماندہ زندگی گزارنے پے مجبور کیا جارہا ہے جو کہ ریاست کی ایک بنی بنائی دوغلا پالیسی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے بلوچ طلباء کو آئے روز پاکستان کے مختلف شہروں سے جبراً لاپتہ کیا جارہا ہے۔طلباء کی ماورائے عدالت گُمشدگی حکومت وقت کے لیے سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ ریاستی فورسز نے راولپنڈی اور کراچی سے چار بلوچ طلبہ کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔ لاپتہ ہونے والے بلوچ طلبہ میں سے تین کو کراچی ایک کو راولپنڈی سے حراست میں لیا گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا ہے کہ کراچی کے علاقے لیاری سے وحید بلوچ نامی نوجوان کو فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا ہے۔ سندھ رینجرز اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار جو ایک سیاہ رنگ ویگو گاڑی میں سوار تھے انہیں حراست میں لے کر لاپتہ کیا۔ جبکہ کراچی ہی سے اطلاعات ہیں کمبر سلیم سکنہ بلیدہ مہناز جو کراچی یونیورسٹی میں بی ایس ایگریکلچرل کا طالب ہے جنہیں فورسز نے کل کراچی سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا ہے۔ ایک اور واقعہ کراچی میں پیش آیا ہے جہاں کراچی یونیورسٹی کے بائیو کیمسٹری کے طالب علم عرفان ولد عبدالرشید سکنہ بلیدہ مہناز کو گذشتہ شب کراچی کے علاقے گلشن اقبال سے فورسز نے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ پنجاب کے شہر راولپنڈی سے اطلاعات ہیں کہ فیروز بلوچ جو ایریڈ یونیورسٹی میں بی ایڈ سیکنڈ سیمسٹر کے طالب علم تھے۔ فیروز بلوچ کو گزشتہ روز راولپنڈی سے لاپتہ کیا گیا۔

اُنہوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں بلوچ طلباء پر تشدد کرکے کئی طلبہ کو ماورائے عدالت لاپتہ کرکے زندانوں میں ڈالنا پوری طرح غیرجمہوری، غیر سیاسی اور غیر انسانی عمل ہے۔ ان حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بلوچ طلباء کو جان بوجھ کر اُنہیں تعلیم سے دور رکھنے کی پالیسی اپنائی جارہی ہے۔ملک بھر میں تیزی سے مختلف تعلیمی اداروں میں بلوچ طلباء کو ہراساں کرنے اور مُختلف تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بلوچ طُلبہ کی جبری گُمشدگی ایک سوالیہ نشان ہے۔ طلباء کو اغوا کرنا بلوچ قوم و بلوچ طلباء کے ساتھ اجتمائی زیادتی ہے جو کہ ایک خوف و ہراس کے ماحول کو جنم دے چکا ہے۔ ہم مقتدرہ قوتوں سے پُر زور اپیل کرتے ہیں کہ بلوچ طلبہ کا یوں ماورائے عدالت مختلف تعلیمی اداروں، ہاسٹلوں اور گھروں سے لاپتہ کرنا بند کریں اور تمام بلوچ طلبہ کو جلد از جلد باحفاظت بازیاب کیا جائے۔

دوسری جانب بلوچ سٹوڈنٹس کونسل (اسلام آباد) کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں اس امر کی تائید کی ہے کہ بلوچ طلباء کی پروفائلنگ اور جبری گمشدگیوں میں مسلسل اضافہ انتہائی تشویشناک ہے جس کی وجہ سے بلوچ طلباء خوف و ہراس کا شکار ہیں۔

ترجمان نے یہ بات واضح کیا ہے کہ فیروز بلوچ ولد نور بخش بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں شعبہِ ایجوکیشن کا طالب علم ہے۔  وہ گیارہ مئی شام چار (4) بجے کے قریب یہ کہہ کر روم سے نکل گیا کہ وہ یونیورسٹی لائبریری جا رہا ہے اور راستے میں اُنہیں جبراً لاپتہ کیا گیا جس کی ہم پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اسطرح نہتے بلوچ طلباء کی پروفائلنگ اور بعد ازاں انہیں جبری گمشدگی کا شکار بنانا بلوچ طلباء کو ہمیشہ کی طرح تعلیم سے محروم رکھنے کی ریاستی پالیسیوں کا تسلسل ہے. ایک طرف حکومتی ادارے بلوچستان میں اسکالرشپ دینے کا جھوٹا وعدہ کرتے ہیں تو دوسری طرف آئے روز بلوچ طلباء کو ملک کے تعلیمی اداروں میں نسلی بنیادوں پہ ہراساں کیا جاتا ہے اور ہراساں کرنے کہ بعد جبری گمشدگی کا شکار بنایا جاتا ہے

انکا کہنا تھا کہ گزشتہ چند عرصے سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچ طلباء کو مخصوص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہاں بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیاں روز بروز بڑھتی جارہی ہیں۔ ایک کے بعد دوسرے کو لاپتہ کرنے کی ریاستی پالیسی سے بلوچ طلباء تنگ آ چکے ہیں۔ اِن غیر انسانی سلوک نے بلوچ طلباء کو انتہائی دشوار حالات میں مبتلا کیا جہاں ماسوائے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو خیر باد کہنے کے اور کوئی آپشن نہیں بچا ہے

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں یہ التجا کی ہے کہ متعلقہ ادارے اس سنگین مسئلہ کو سنجیدگی سے لیں بصورتِ دیگر ہم قانونی طریقے سے اپنے آئندہ لائحہ عمل طے کریں گے جو اِنتہائی سخت ہونگے-

  فیروز بلوچ سمیت تمام گمشدہ بلوچ طلباء کو رہا کیا جائے اور اُن کے گھر والوں اور دوستوں کو ذہنی کوفت و کرب سے نجات دی جائے۔

‎‏دریں اثناء بلوچ ایجوکیشنل کونسل بہاولپور کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ غازی یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بلوچ طلباء کے اسٹڈی سرکل پر حملہ کرکے وہاں موجود طلباء و طالبات کی وڈیو بناکر طلباء کی پروفائلنگ کی گئی اور انہیں ہراساں کیا گیا –

‎ترجمان نے کہا بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کا سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے اب اس میں مذید شدت لائی گئی ہے طلباء کے خلاف جاری ریاستی کریک ڈاؤن اور غیر انسانی عمل سے بلوچ طلباء شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوکر ازیت میں مبتلاء ہیں-

‎‏‎ترجمان نے کہا کہ گذشتہ روز بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طالب فیروز بلوچ ولد نور بخش جو بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے شعبہ ایجوکیشن میں زیر تعلیم تھا اور عرفان رشید وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی میں شعبہ بائیوکیمسٹری کے طالب علم ہے جبری گمشدگی کا شکار ہوئے ہیں –

ترجمان نے کہا کہ بلوچ طلباء کو مسلسل ہراساں کرنا اور کیمپسزز کے اندر اُن کی پروفائلنگ کرنا اور جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا انتہائی تشویشناک عمل ہے جسے روکنے کے بجائے آئے دن اس میں اضافہ کیا جارہا ہے-

‎ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تسلسل سے جاری بلوچ طلباء کی اغوا نما گرفتاریوں کے باعث کئی طلباء نے اپنے تعلیم کو خیر آباد کردیا ہے جبکہ ایک بڑی تعداد نے محفوظ تعلیم کی حصول کے لئے پنجاب سمیت اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں کے تعلیمی اداروں کا رخ کیا لیکن پنجاب سمیت ملک کے دوسرے شہروں سے بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے تسلسل نے طلباء میں مزید خوف پیدا کردیا ہے بلوچ طلباء اپنی تعلیمی مستقبل کے بارے شدید غیر یقینی کیفیت کا شکار ہوچکے ہیں-

‎ترجمان کا کہنا تھا کہ ریاست کی ان تعلیم دشمن پالیسیوں کی باعث بلوچ طلباء میں خوف پیدا ہوچکی ہے جبکہ کئی طلباء اپنے تعلیمی ڈگریاں چھوڑنے پر مجبور ہیں۔

‎ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ غازی یونیورسٹی انتظامیہ بلوچ طلباء کے خلاف انتقامی کاروئیاں ترک کرتے ہوئے طلباء کو فوری طور پر بحال کرے اور
‎ انسانی حقوق کے علمبردار اور تمام عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جبری گمشدگی کا شکار بلوچ طلبا کی بازیابی میں کلیدی کردار ادا کریں تاکہ بلوچ نوجوانوں کو د دیگر اقوام کی طرح تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی حق میسر ہو