بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کیخلاف تربت میں بھی دھرنا

304

بلوچ شاعرہ حبیبہ جان کی جبری گمشدگی کے خلاف بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں ڈی بلوچ کے مقام پر شاہراہ کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے –

18مئی کی شب سندھ کے مرکزی شہر کراچی گلشن مزدور سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والی بلوچ شاعرہ حبیبہ پیر جان کے لواحقین، حق دو تحریک اور سول سوسائٹی سے وابستہ مرد اور خواتین کی بڑی تعداد نے تربت سے گوادر اور کراچی جانے اہم شاہراہ پر دھرنا دے کر ٹریفک کی روانی معطل کر دی ہے –

اس موقع پر حبیبہ پیر جان کی لواحقین اور دیگر نے فورسز کے رویہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ خواتین کے خلاف اس طرح کے عمل سے ریاست کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا بلکہ یہ مزید نفرت کے جذبات کو ابھارنے کے سبب بنیں گے –

واضح رہے کہ کل تربت اور ایران سے متصل تحصیل مند کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے –

حبیبہ کی بیٹی کے مطابق انکی والدہ کو رواں ہفتے بدھ کی شب گھر سے اغوا کیا گیا۔ کچھ لوگوں نے ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، جب میں نے کھڑکی سے دیکھا تو چند گاڑیاں اور رینجرز اہلکار موجود تھے۔ جب والدہ نے دروازہ کھولا تو اہلکار انہیں ایک طرف لے گئے اور پوچھ گچھ کی۔

حنا کے مطابق رات کی تاریکی میں گھر آنے والے اہلکار لیپ ٹاپ اور موبائل وغیرہ بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

بیٹی کے مطابق اگر میری والدہ کو باعزت رہا نہیں کیا گیا تو خاندان سمیت احتجاجاً شاہراہوں پر دھرنا دونگی –

واضح رہے کہ حبیبہ پیر جان جبری گمشدگی کے خلاف کل تحصیل تمپ بھی احتجاج اور مند جانے والی سڑک بند کی گئی تھی جبکہ آج پنجگور میں بھی اسکول طلباء نے خواتین کے اغواء نما گرفتاریوں کیخلاف احتجاجاً شاہراہ بند کردی۔

دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے ھوشاب سے 5 روز قبل نور جان بلوچ نامی عورت کی جبری گمشدگی اور بعد ازاں سنگین الزامات اور مقدمات قائم کرنے پر مکران، کوئٹہ شاہراہ گذشتہ چار دنوں سے بدستور بند ہے-

جبکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بلوچستان سمیت دنیا بھر سے بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچ، سندھی پشتون سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس اور دیگر مکاتب فکر کے لوگ اپنے غم غصے کا اظہار کررہے ہیں –