بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کیخلاف احتجاج 4638 ویں دن میں داخل

80

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جبری گمشدگیوں کیخلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 4638 دن مکمل ہوگئے۔ اظہار یکجہتی کرنے والوں میں مشکے سے سیاسی اور سماجی کارکن خدا بخش بلوچ اور دیگر شامل تھے۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو عملی اقدامات اٹھانا ہوگا، ڈرافٹس یا مراسلے کے ذریعے ان انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکا نہیں جاسکتا، اس ریاست اور اسکے اداروں پہ فرق نہیں پڑ رہا ہے، ان حالات میں اقوام متحدہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عملی اقدامات اٹھائے اور ان مظالم کو روکنے کیلئے براہ راست مداخلت کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے ایک پر امن جہد مسلسل کر رہے ہیں، انکے جائز مطالبات سننے ہوں گے اب بھی وقت ہے کہ تمام جبری لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے یا جن پہ مقدمات ہیں ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے لیکن انکے لواحقین کو اس لمبی انتظار کے درد اور کرب سے نکالا جائے۔