بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات عام لوگوں کی عدم دلچسپی

324

بلوچستان کے 32 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات 29 مئی کو ہوں گے۔

امیدواروں کا انتخابات کیلئےسرگرمیوں کے لیے آج آخری دن ہے۔ تمام پولنگ سٹیشن میں پولنگ کا سامان کل 28 مئی کو پہنچا دیا جائے گا-

جبکہ بلوچ اکثریتی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، بلوچستان کے 32 اضلاع میں 5236 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں بلدیاتی انتخابات میں 17774 امیدواران حصہ لے رہے ہیں الیکشن کمیشن نے دو ہزار کے قریب پولنگ سٹیشن کو حساس قرار دیا ہے –

بلدیاتی الیکشن میں جنرل سیٹوں پر 132 خواتین امیدوار یہ حصہ لے رہے ہیں ضلع موسی خیل پشین ژوب اور دیگر اضلاع میں 102 وارڈ پر بلدیاتی انتخابات نہیں ہوں گے-

بلوچستان کے 32 اضلاع میں مردوں کے رجسٹرڈووٹوں کی تعداد 2043828 ہے بلوچستان کے 32 اضلاع میں خواتین کے رجسٹر ووٹرز کی تعداد 1570896 ہے۔ 5624 پولنگ سٹشن میں 13533 پولنگ بوتھ قائم کئے جائیں گے۔

جبکہ بعض علاقوں میں کئی کونسلر بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں –

بلوچستان میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے علاوہ عام طور پر عوام کی عدم دلچسپی نظر آرہی ہے –

جبکہ بلوچستان میں سرگرم بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی امبریلا آرگنائزیشن بلوچ راجی آجوئی سنگر کے ترجمان بلوچ خان نے رواں مہینے اپنے ایک پالیسی بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا نام نہاد پاکستانی بلدیاتی انتخابات نہ صرف بلوچستان پر پاکستانی جبری قبضہ کو نچلی سطح پر منظم کرنے کا ایک نوآبادیاتی حربہ ہے بلکہ یہ بلوچ سماج میں شخصی، خاندانی، قبائلی اور سیاسی مخاصمت کو فروغ دینے، بلوچ قوم کو تقسیم کرنے اور ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ جیسے آزمودہ استعماری پالیسی کو عملی شکل دینے کا ایک موثر ذریعہ بھی ہے۔

بلوچ خان نے مزید کہا تھا کہ “ براس جمہوریت اور جمہوری عمل کے اہمیت کو تسلیم کرتی ہے لیکن کسی مقبوضہ علاقے میں انتخابات کا ڈھونگ جمہوریت کی آبیاری کیلئے نہیں بلکہ قابض کے اکھڑے قدموں کو سہارا دینے کیلئے رچایا جاتا ہے۔ قابض پاکستان روز اول سے ہی بلوچستان میں انتخابات کے نام پر فوج کے کاسہ لیس مقامی حواریوں کو چن چن کر بلوچ عوام پر مسلط کرتی ہے تاکہ لوگ اپنے معمولات زندگی میں بالواسطہ طور پر فوج اور خفیہ اداروں کے رحم و کرم پر رہیں۔ ہم سب کو اچھی طرح یاد ہے کہ 2013 میں بلوچ سرمچاروں کی درخواست پر بلوچ قوم نے پاکستانی عام انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کیا جو پاکستانی استعماری قبضہ کو مسترد کرنے اور بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد کے حق میں عملاً ایک ریفرنڈم تھا مگر بلوچ قوم کے اس جمہوری رائے کا احترام کرنے کے بجائے پاکستان نے انتخابی عمل سے گزرے بغیر اپنے منظور نظر عناصر کو اسمبلیوں میں براجمان کرکے بلوچ قوم پر مسلط کیا-

اسی طرح بلوچ آزادی پسند سیاسی جماعتوں نے بھی ان بلدیاتی انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے لوگوں سے ووٹ نہ ڈالنے کی اپیل کی ہے –

وہاں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بھی بلوچ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس اور دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے بلوچ نوجوانوں نے گذشتہ شپ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اپنے خیالات پیش کیے اور ان انتخابات کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں الیکشن بلوچ کے لیے ابتک کوئی مفید ثابت نہیں ہوئے ہیں –

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں عام لوگوں کی عدم دلچسپی سے انتخابات کا ڈرامہ 29 مئی سے پہلے ناکام ہوچکا ہے-

بعض نوجوانوں نے اپنے خیالات کا اظہار میں کہا کہ کامیاب امیدواروں کا لسٹ عسکری قیادت نے تیار کی ہے بلوچستان میں الیکشن کی حقیقت یہی ہے –

تاہم بلوچستان میں پارلیمانی سیاسی جماعتوں نیشنل پارٹی، بی این پی مینگل اور دیگر کے کارکنان بلدیاتی انتخابات میں اپنے اپنے پارٹی امیدواروں کی کامیابی کے لیے سرگرم عمل ہیں اور وہ ان انتخابات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ
بلدیاتی نظام میں اختیارات اور انتظامی معاملات کی نچلی سطح پر منتقلی ہوتی ہے جس سے جمہوری اقتدار اعلیٰ کی تعریف کے مطابق مقامی لوگ انتظامی امور اوراشتراکی ترقیاتی اپروچ کا حصہ بنتے ہیں۔