اقوام متحدہ بلوچستان کو جنگ زدہ قرار دے کر مداخلت کرے۔ بی این ایم

295

بدھ کے روز بی این ایم کے زیر اہتمام لندن میں ھوشاپ میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں نور جان بلوچ کی غیرقانونی گرفتاری، جعلی بے بنیاد ایف آئی آر اور بلوچ طالب علموں کی جبری گمشدگیوں، طلباء کی پروفائلنگ کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔

مظاہرے میں بڑی تعداد میں بی این ایم کے کارکنان نے شرکت کی۔

مظاہرین نے بلوچستان میں جاری پاکستانی بربریت اور انسانی حقوق کی پائمالیوں کے بارے میں پلے کارڈ اٹھائے تھے ۔

مظاہرین سے بی این ایم کے مرکزی جونیئر جوائنٹ سیکرٹری حسن دوست بلوچ، سنٹرل کمیٹی کے ممبر نیاز بلوچ، مھناز بلوچ اور ماسٹر منظور بلوچ نے خطاب کیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں ھوشاب بلوچستان میں نور جان بلوچ کی ماروائے قانون گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان بلوچستان میں وہ تمام جنگی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے ، بلوچ چادر و چاردیواری کی پائمالی کرتے ہوئے خواتین کے خلاف جعلی ایف آئی آر درج کرکے ان کو گرفتار کیا جارہا ہے ۔ جو انسانی حقوق اوربین الاقوامی قوانین کے ساتھ انسانیت کی بھی تذلیل ہے۔ ریاست پاکستان آج سے نہیں کافی عرصے سے بلوچستان میں خواتین کو اغواء نما گرفتاری کرکے لاپتہ کر رہی ہے ۔

انکا کہنا تھا کہ آج بلوچ خواتین بھی مردوں کے ساتھ پاکستانی اذیت خانوں میں اذیت سہہ رہے ہیں۔ جس میں اب پاکستان نے مزید شدت پیدا کی ہے ۔

مقررین نے کہا کہ آج دشمن جس چالاکی سے بانک شاری بلوچ کے عمل کو جواز بنا کر بلوچ خواتین کی تذلیل کررہا ہے اور تمام بلوچ مرد اور خواتین کو ڈرانے کی اپنی ناکام کوشش کررہا ہے ۔ زرینہ مری سے لے کر سینکڑوں کے حساب سے بلوچ خواتین کو کس عمل کے ردعمل میں اغواء کرکے جبری لاپتہ کیا گیا ؟۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کو اپنی شکست نظر آرہی ہے ۔ وہ اپنی شکست کو چھپانے و بلوچ سرمچاروں کو بلیک میل کرنے کے لیے ایسے غیر اخلاقی ہتھکنڈوں پے اتر آئے ہیں تاکہ بلوچ اپنی آزادی کی تحریک سے دستبردار ہو۔ لیکن بلوچ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ غلامی کی زنجیروں سے نکلنے کے لیے تمام مظالم اور زور زیادتیوں کو خندہ پیشانی سے قبول کریں گے اور آزادی کی تحریک کے بارے میں کسی مصلحت پسندی کا ہرگز شکار نہیں ہوں گے۔

مقررین نے کہا آج بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سمیت اقوام متحدہ کو بلوچستان میں مداخلت کرنا چاہیے ۔ کیونکہ آج پاکستان آرمی اور اس کے بنائے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ انسانی حقوق کی تمام قوانین کو روند کر سرعام بلوچ نسل کشی میں ملوث ہیں اس لیے اقوام متحدہ کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ بلوچستان کو ایک جنگ زدہ علاقہ قرار دیے کر مداخلت کرئے ۔