کراچی حملہ: بی ایل اے سربراہ بشیر زیب بلوچ و دیگر پر مقدمہ درج

1829

سندھ کے مرکزی شہر کراچی میں منگل کے روز یونیورسٹی میں چینی شہریوں پر ہونے والے خودکش بم دھماکے کا مقدمہ انسداد دہشت گردی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر نمبر 30/2022 میں ٹاون تھانے کے ایس ایچ او سب انسپکٹر بشارت حسین مدعی ہیں۔

ایف آئی آر زیر دفعہ 302، 324، 427، 190، 34 ایکسپلوزیو ایکٹ 3/4 مجریہ 1908 اور 7 اے ٹی اے مجریہ 1997 درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق وقوعہ 26 اپریل 2022 کی دوپہر لگ بھگ دو بجے کراچی یونیورسٹی کے اندر مسکن چورنگی آئی بی اے کیمپس کے قریب کنفیوشس انسٹیٹیوٹ میں پیش آیا۔

مدعی مقدمہ کے مطابق اسے دوپہر دو بج کر آٹھ منٹ پر بم دھماکے کی اطلاع ملی۔ وہ سوا دو بجے یونیورسٹی میں پہنچا تو ٹیوٹا ہائی ایس میں آگ لگی ہوئی تھی۔ قریب ہی موجود موٹرسائیکل میں بھی آگ لگی ہوئی تھی۔ فائر بریگیڈ کو طلب کرکے آگ بجھائی گئی اور وین کے اندر سیٹوں پر سے تین افراد کی سوختہ لاشیں نکالی گئیں۔ مدعی کے مطابق بم ڈسپوزل یونٹ کو طلب کرکے جائے وقوعہ کا معائنہ کروایا گیا، تجزیہ کے لئے کچھ نمونے حاصل کیے گئے۔ مقدمے میں بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بشیر زیب بلوچ، کمانڈر رحمان گل اور جیئند بلوچ کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے کی تفتیش سی ٹی ڈی کے القاعدہ داعش یونٹ کراچی کے انچارج انسپکٹر ثناءاللّٰہ کریں گے۔