فدائی شاری بلوچ نے تاریخ رقم کردی – عبدالواجد بلوچ

1104

فدائی شاری بلوچ نے تاریخ رقم کردی

تحریر: عبدالواجد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

مذہبی جنونیت سے لیس خودکش دھماکہ کرنے والے اور شعور سے لیس وطن پر مرمٹنے والی فدائی کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ فدائی حملے میں جہدکار اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کردشمن کی کئی گنا زیادہ طاقت سے ٹکرا جاتا ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔

مذہب اسلام کے آخری پیغمبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کی زندگی کو بہترین زندگی قرار دیا ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے چوکنا رہتا ہے اور جہاں سے اسے دشمن کی آمد کا غلغلہ سنائی دیتا ہے اڑتا ہوا وہاں پہنچتا ہے اور يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّهُ (صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ، باب فضل الجھاد و الرباط۔ حدیث نمبر4845)
”قتل اور موت کو ان جگہوں پر تلاش کرتا پھرتا ہے جہاں جہاں اسے ان کے ملنے کی توقع ہوتی ہے۔”

قومی غلامی سے چھٹکارا حاصل کرنے والی قوتوں کے سوچ اور عام لوگوں کی سوچ کے بَین فرق تو واضح ہوگا ہی لیکن مذکورہ بالا احادیث اور اقوال کے پیش نظر یہ تو طے پا گیا کہ مزہب اسلام نے بھی وطن اور حق کے لئے فدائی کرنے کو جائز قرار دیا ہے سو اس ضمن میں فدائی حملے کے جائز ہونے میں تو کوئی شک نہیں ہے۔

فدائی حملوں کی طویل تاریخ پر اس سے پہلے مَیں نے ایک ارٹیکل بعنوان “فدائینِ بلوچستان”دی بلوچستان پوسٹ میں لکھا تھا جو ریکارڈ پر موجود ہے قارئین کے لئے آج میں بلوچ سرزمین کی مکمل آجوئی اور پاکستان و چائینیز کی استعماریت کیخلاف بلوچ تاریخ سمیت خطے میں اک نئی تاریخ رقم کرنے والی ہستی شاری عرف برمش بلوچ کے بارے میں لکھ رہا ہوں, بلوچستان کی سیاسی و مزاحمتی تحریک ارتقاء کے ساتھ ساتھ خطے میں اپنا مقام مزید منظم و توانا کرتا جارہا ہے(اس بات سے قطع نظر کہ کمزوریاں اب بھی موجود ہیں).

تاریخِ دنیا اس بات کا گواہ ہیکہ جن لوگوں میں شعور نہیں تھا, سوچنے و سمجھنے سمیت چیزوں کو پرکھنے کا ہنر نہیں معلوم تھا وہ لوگ استعمال یا برین واش ہوسکتے تھے لیکن جن لوگوں میں شعور, سیاسی سمجھ بوجھ اور اپنے ارد گرد روا رکھی جانے والی بربریت کا اندازہ و احساس ہو وہ کبھی بھی استعمال یا برین واش نہیں ہوسکتیں, اسی طرح جو لوگ یہ تاویلیں پیش کرتے نہیں تھکتے کہ رواں بلوچ تحریک کے اندر تحریک جب جب ارتقائی عمل سے گزر کر فدائینِ وطن تیار کر رہا ہے وہ استعمال ہورہے ہیں انہیں غلط برین واش کیا جارہا ہے, اصل میں ان قوتوں کے اس دلیل میں کوئی منطق ہی نہیں ایسا لگتا ہیکہ وہ دنیا میں رونماہونے والی قومی جنگوں میں اپنے بقاء کی حفاظت اور وطن پر مرمٹنے کے جذبے سے لیس ہوکر قربانی دینے کی مٹھاس سے نا آشنا ہیں.

جب ایک عورت دو بچوں کی ماں ہو, خوشحال خاندان سے تعلق رکھتی ہو, تعلیمی لحاظ سے ماسٹر کرکے ایم فل کررہی ہو اور برسر روزگار ہو انہیں کیا ضرورت کہ وہ خود کو فنا کردیں؟ یہی وہ سوال ہے جن کا جواب ہر زی شعور کو تلاشنا ہے کہ جب کوئی اپنے مادرِ وطن کی حرمت کا پاسباں ہو انہیں ہر لمحہ یہ احساس ستاتی ہو کہ ان کی آنکھوں کے سامنے لمحہ بہ لمحہ فرزندانِ وطن خواہ وہ بوڑھا ہو یا بچہ ان کی عصمت دری ہو وہ کس طرح ایک جگہ بیٹھ کر خوشحال زندگی گزار سکتا ہے؟ وہ لوگ جو ایک مقصد کے لئے جیتے ہیں ان کا ایک منزل ہو ان کے قدم کسی بھی طرح کا فیصلہ لینے سے نہیں ڈگمگاتے اور فدائی شہید شاری بلوچ انہی لوگوں میں شامل تھیں ہوسکتا ہے کہ اُن کے بعد قربانیوں کا یہ سلسلہ نا تھم جائے لیکن پاکستان کے ساتھ بلوچ کا تعلق کس نوعیت کا ہے یہ جواب ہر پاکستانی کو ملے گا۔

نام نہاد بلوچ پارلیمان پرست ٹولہ جب اپنے مفاد کے حصول کی خاطر ان قربانیوں پر پانی پھیرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں اس لمحہ یہ سوچنا ہوگا کہ جی ہاں جب جب سوئی ڈیرہ بگٹی میں گیس نکل کر پنجاب کے صنعتوں اور پنجاب کو خوشحال کرنے لگتے ہیں اسی لمحہ اس گیس پائپ لائن کے قریب ایک بلوچ ماں لکڑیاں چُن رہا ہوتا ہے, انہیں یہ جان لینا ہوگا کہ جب جب ریکوڈک و سیندک سے سونا نکال کر پاکستان و چائنا خوشحال ہورہے ہوتے ہیں اسی اثناء چاغی و نوکنڈی میں عام بلوچ مزدوروں کو بے آب و گیاب صحرا میں موت کے منہ میں پھینک دیا جاتا ہے اور دوسری جانب جب اس ظلم کیخلاف آواز اٹھتی ہے تو صدا بلند کرنے والوں کی گولیوں سے چھلنی لاش ان کے گھر بھیج دیا جاتا ہے, انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب جب ریاست پاکستان چائینیز استعمار کیساتھ مل کر بلوچ ساحلِ سمندر کو لوٹ رہا ہوگا اسی لمحہ ایک بلوچ ماہیگیر اپنے حلال نان شبینہ کا محتاج ٹہرے گا, یہ وہ اذیت ناک لمحے ہیں جن سے ایک باغیرت بلوچ کا روح زخموں سے چور چور ہوگا اور وہ اپنے قومی بقاء, شناخت و تشخص کو بچانے کیلئے میدانِ کارزار میں جا پہنچتا ہے۔

بلوچ وطن میں ایسے بھی لوگ ہونگے جو دو دن زندہ رہنے کے لئے پل پل مرتے ہیں لیکن اُن وطن زادوں کی بھی کبھی کمی نہیں تھی جو اپنے ممتا کو لیکر اپنے بچوں کی پیشانیاں چوم کر وطن کے لئے فنا ہوتی ہیں.

فدائی شاری بلوچ نے بلوچستان میں موجود اُن مصلحت و آرام پسندوں کی بے تکی دلیلوں کے میناروں کو اپنے اس شعور یافتہ فیصلے سے تہس نہس کر ڈالا جو صرف اپنے مفادات کے حصول تک چار لمحہ سانسیں لے رہی ہیں ۔یقیناً فدائی شاری بلوچ نے کُرد گوریلا فدائی آرین مرکان کے فلسفے کو چار چاند لگا دیا جنہوں نے دشمن کے پیش قدمی کو روکنے کیلئے اپنے آپ کو فنا کرڈالا۔

فدائی شاری بلوچ نے اُن مصلحت پسندوں کے عزائم کو بھی چکناچور کیا جو یہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ اس طرح کے عمل سے بین الاقوامی جنگی اصول پامال ہوتی ہیں لیکن انہیں وہ لمحہ یاد نہیں رہتا کہ انہی بین الاقوامی جنگی اصولوں کو مدِنظر رکھ کر حالیہ یوکرین و رشین کے جنگ میں رشین فوج کی پیش قدمی کو روکنے کیلئے یوکرینی سولجر فدائی حملہ کرکے انہیں بڑی تباہی پھیلانے سے روک دیتے ہیں, انہیں یہی یورپ, امریکہ و برطانیہ خراج پیش کرتی ہیں, فدائی شاری بلوچ نے شعور سے لیس ہوکر پاکستانی قبضہ گیریت سمیت بلوچستان میں چائینز کی استعماریت کو مزید روکنے کیلئے خود کو فناہ کرکے یہ پیغام دیا کہ بلوچستان کی حرمت پر کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے نہیں دیا جائے گا .


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں