سیاسی فرقہ (cult) ۔ اعظم الفت بلوچ

160

سیاسی فرقہ (cult)

تحریر: اعظم الفت بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

عمران خان نے حامیوں کے جس گروہ کو جنم دیا ہے اس کے لیے موزوں لفظ ”سیاسی فرقہ” (cult) ہے۔
تفہیم کی آسانی کے لیے، اسے ”پاپولزم” سے اگلا درجہ کہا جا سکتا ہے۔۔۔ انگریزی کی یہ اصطلاح، دیگر اصطلاحوں کی طرح ارتقا سے گزری۔ ابتدا میں یہ مذہب کے لیے خاص تھی۔ جدید دور میں یہ ان گروہوں کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے جو کسی فرد کی کرشماتی شخصیت کے زیرِاثر وجود میں آتے ہیں اور اسے وہی درجہ دیتے ہیں جو کسی مذہبی فرقے میں اس کے بانی کو دیا جاتا ہے۔ یعنی خطا سے پاک، معیارِ حق اور تنقید سے بالاتر۔
ایسی شخصیات اگر سیاست میں ہوں تو ان کے ساتھ وابستگی کی نوعیت وہی ہوتی ہے جو مذہبی فرقوں میں پائی جاتی ہے۔ چونکہ ”کلٹ” کی بنیاد عقلی نہیں ہوتی، اس لیے ایسے گروہوں سے دلیل کی بنیاد پر مکالمہ ممکن نہیں ہوتا۔ مذہب ایمان بالغیب پر کھڑا ہوتا ہے، اس لیے مذہبی طرز پر وجود میں آنے والے گروہ بھی اپنے لیڈر اور خیالات پر ایسا ہی ایمان رکھتے ہیں۔

“پاپولزم” ایک سیاسی عمل ہے۔ اس میں عوام کو درپیش پیچیدہ مسائل کا ایک سادہ حل پیش کیا جاتا ہے اورایک فرد کی کرشماتی شخصیت کے زیرِ اثر، عوام کو باور کرایا جاتا ہے کہ فردِ واحد کا عزم قوم کو مسائل سے نجات دلاسکتا ہے۔ اس میں موجود سیاسی کرداروں کے خلاف نفرت کو بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ عوام میں ہیجان برپا کرکے، انہیں سوچنے سمجھنے سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ معاشرہ اگر مذہب یا توہمات پر یقین رکھنے والا ہو تو لیڈر کے بارے میں دیومالائی داستانیں تراشی اور پھیلائی جاتی ہیں۔ یوں ”پاپولزم” ایک سیاسی فرقے(cult) کو جنم دیتا ہے۔”
ہم دیکھ رہے تھے کہ ریاستی طاقت ور ادارہ بہت ہی مربوط طریقے اور ذہانت سے اس قوم کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے عمران خان کی مارکیٹنگ کی تھی کہ یہ بہت ایماندار ہے۔ کبھی موریوں والی قمیص دکھائی گئی۔ کبھی ٹوٹی جوتی، کبھی چائے کے ساتھ سوکھی روٹی کھاتے ہوئے اور کبھی ٹوٹی پھوٹی چارپائی پر عمران خان کو استراحت فرماتے دکھایا گیا۔

اتنی شاندار مارکیٹنگ تھی کہ عام لوگ تو کجا، بڑے بڑے دانشور اور اس ملک کی انٹیلیجنشیا بھی اس مارکیٹنگ سے متاثر ہوگئیں اور ان کو عمران خان کے روپ میں ایک مسیحا نظر آنے لگا کہ جو آئے گا اور پاکستان کی تقدیر کو بدل دے گا۔ پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ قانون کی بالا دستی ہوگی۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پئیں گے۔ میرٹ کا دور دورہ ہوگا۔

بحرحال عمران خان نے قوم کے ساتھ جو کیا وہ اپنے اندھے پیروکاروں کو سکھانا واقعی مشکل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف حکومت کی معاشی محاذ پر ناکامی، منی بجٹ، فضول انتظامیہ اور بدانتظامی کو چھپانے کے لیے اور قومی سطح پر شرمندگی سے بچنے کے لیے ڈرامہ رچایا گیا اور غنڈوں کی ناکام ٹیم نے ذمہ داریاں لینے کے بجائے سیاسی شہید بننے کا فیصلہ کیا۔ نیازی نے قوم پرست بیانیہ کے طور پر سلائی کرنے کی کوشش کی تاکہ کارڈز میں حکومت کی برطرفی کو روشن کیا جاسکے۔ یہ نیازی صاحب کا پاگل پن تھا لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کبھی بھٹو نہیں بنیں گے وہ نیازی ہیں۔

مسٹر نیازی جب پوری ریاست اور ریاستی مشینری آپ کے ساتھ تھی، آپ پھربھی ہر محاذ پر ناکام رہے، اور اب آپ ریاست سے لڑ کر تبدیلی کے نئے خواب دکھا رہے ہیں! آپ کا وجود صرف تقاریر میں ہے، میدان عمل میں آپ نے قوم کو مایوسی، تقسیم، دھوکہ، فریب اور یوٹرن کے سوا کچھ نہیں دیا۔ کپتان نے پچھلا الیکشن نواز شریف اور زرداری کی کرپشن کے بیانیے پر لڑا تھا۔ اس مرتبہ اسکا پروگرام امریکہ اور فوج مخالف بیانئے پر الیکشن لڑنے کا ہے۔ یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ایک خطرناک حرکت ہے۔ صدام قذافی اور بھٹو وغیرہ کا حشر ہم دیکھ چکے ہیں۔ لگتا ہے کچھ فائلیں وغیرہ دکھا کر چند دنوں میں کپتان کی زبان بند کروا دی جائے گی۔ اگر نہیں مانا تو انجام کافی تکلیف دہ ہوگا۔

پاکستان کی قسمت میں پتہ نہیں اور کتنی اداس راتیں لکھی ہیں۔ کتنی اداس نسلیں نسیم سحر کی آرزو میں منوں مٹی تلے جا سوئیں۔ پتہ نہیں اس شب کی صبح اور کتنی دور ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک مداری اس ملک کے نصیب میں لکھا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں