سندھ میں ریاستی آپریشن کا سلسلہ تیز، قوم پرست رہنماؤں کے رشتہ دار اغواء کئے گئے۔ سورٹھ لوہار

232

لاپتہ سندھیوں کی بازیانی کے لیے کوشاں تنطیم وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کے کنوینئر سورٹھ لوہار نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ سندھ میں ریاستی آپریشن کا سلسلہ تیز، گذشتہ شب قوم پرست رہنماء معشوق قمبرانی کے گاؤں ٹھوڑھا، میہڑ (دادو) کا محاصرہ کرکے رینجرز اور پولیس کے اٹالوں نے آپریشن کرتے ہوئے گھروں توڑ پھوڑ، عورتوں پر تشدد کیا اور دو دن قبل جبری لاپتا کیئے گئے مظفر قمبرانی کے ایک اور بھائی ظفر قمبرانی کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے آنکھوں پر پٹی باندھ کر اٹھا لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ جبکہ مظفر قمبرانی اور ظفر قمبرانی کے ورثاء نے میہڑ پریس کلب پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فورسز نے مظفر کو جامشورو اور ظفر کو گائوں میہڑ سے اٹھاکر لاپتا کیا ہے۔ ہم سندھ کی تمام سیاسی سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کو اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے بیگناہ اٹھائے گئے دونوں بھائیوں کو بازیاب کرانے کے لیئے آواز اٹھائیں اور ہماری جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جانب سندھ میں لاپتا افراد کی نمائندہ تنظیم وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کے رہنما تاج جویو اور سورٹھ لوہار نے کہا ہے کہ جامشورو اور میہڑ سے اٹھائے گئے دونوں بھائیوں مظفر قمبرانی اور ظفر قمبرانی کو فوراٙٙ آزاد کیا جائے۔ ان پر اگر کوئی کیس ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، اگر اسی طرح دونوں بھائیوں کو گرفتار کرکے گم رکھا گیا تو اس پر سخت احتجاج کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جبکہ اسی رواں ہفتے سندھ کے دیگر علاقوں قمبر شہداد کوٹ سے قوم پرست رہنما فقیر نور چانڈیو اور عاقب چانڈیو کے رشیدار محمد علی چانڈیو، پرویز چانڈیو، حامد چانڈیو، کوٹری سے زاہد چنا ، اشفاق دل ، جامشورو سے جاوید شورو ، وقار پنہور ،سکرنڈ سے فدا لاکھو، نوشہروفیروز سے امان اللہ لاشاری اور ثناءاللہ لاشاری سمیر دیگر درجنوں قومپرست کارکنان لاپتا کیئے گئے ہیں ۔ جن کی آزادی کے لیئے کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں بھرپور احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔