سبین کے لیے، سمندر کو رونے دو! – محمد خان داؤد

168

سبین کے لیے، سمندر کو رونے دو!

تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

اب تو سبین محمود نہیں ہے۔ وہ تو ناکردہ گناہ کی پاداش میں اپنے سینے پر گولی کھاکر گذر کے قبرستان میں سو رہی ہے۔ ان گڑھوں کے بیچ جو قبریں ہوا کرتی تھیں۔ اب وہ قبریں بس یادِ ماضی کے گڑے ہیں۔ ایسے جیسے کبھی کبھی گٹر کے تالاب میں بھی کنول کے پھول کھل آتے ہیں اور انہیں دیکھ کر بہت حیرت ہوتی ہے کہ یہ یہاں کیسے کھلیں ہیں؟ ایسے ہی ان قبروں کے بیچ سبین کی میت لائی گئی تھی۔ جو پہلے پھولوں سے اٹھی ہوئی تھی۔ پھر اس کی قبر پھولوں سی اٹ گئی۔ وہ قبر ایسے پھولوں سے اٹ گئی تھی جسے دیکھ کر ایاز کا یہ شکایت بھرا شعر کانوں میں گونجنے لگا تھا کہ
،،ھن گدلے سینور میں
ہی نیل کنول بھی تہ ڈوھی آ؟!،،
،،اس گندے جوھڑ میں
یہ نیل کنول،کیا مجرم ہے؟!،،
پر اب اتنے سال گزرنے کہ بعد وہ قبر مٹی سی اٹی ہوئی ہے۔ وہ گولی سے گھائل ہوکر چلی تھی سوئے ازل
پھر بھی اس کی قبر پر کوئی سرخ پھول کیوں نہ کھلا؟!
بس ڈھونڈنے پر وہ قبر ملتی ہے۔ دعا کر تے ہیں اور واپس لوٹ آتے ہیں۔
کیوں کہ اب اسے کوئی یاد ہی نہیں کرتا۔ وہ جو کسی کو نہیں بھولتی تھی۔
اس کے لیے اب کوئی نہیں روتا۔ جو روتی آنکھوں میں خوشی لاتی تھی۔ جس کی آنکھوں میں نمی رہتی تھی۔
جو سب کے آنسوں پونچھتی تھی۔ اب اس کے لیے کوئی بھی آنسو نہیں بہاتا۔

ایسے جیسے نا چاہتے ہوئے بھی ۱۴ویں کا چاند ان قبروں پر روشنی کرتا ہے جو ناحق قتل ہوئے ۔
ایسے جیسے نا چاہتے ہوئے بھی وہ چاندچلتا چلتا اس پھاسی گھاٹ پر بھی جا پہنچتا ہے جہاں پر وہ کبھی نہیں جانا چاہتا پر چلا جاتا ہے اور وہیں پر پھاسی پر جھول جاتا ہے۔

جب سے سبین قتل ہوئی ہے تو بہت سے آنسوں آنکھوں پر آکر رک گئے ہیں۔
پروہ آنسو جو ان کے عزیزوں کی آنکھوں میں کسی یاد کی طرح آئے اور ڈھلتی شام کی طرح ڈھل گئے ۔
وہ آنسوں جو ان کے دوستوں کی آنکھوں میں تھے وہ بھی ان دوستوں نے اپنی مہنگی سستی شرٹوں کے آستینوں پر پونچھ دیئے!
وہ آنسو جو لکھنے والوں کی آنکھوں میں تھے وہ انہوں نے کاغذوں پر منتقل کر دیے۔
اب نہ تو انہیں وہ سبین یاد آتی ہے۔ نہ آنکھوں میں آنسو آتے ہیں اور نہ ہی ایسی لائین لکھتے ہیں کہ
،،سبین کی باتیں، سبین سے پوچھو!،،
وہ آنسو جواستاد میر محمد ٹالپر کی آنکھوں میں آتے ہیں۔ وہ انہیں دبانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ آنکھوں میں نمی رہ جاتی ہے۔ اور پابلو نیرودا کا یہ شعر سنا کر سب کو خاموش کر دیتے ہیں کہ
؛میں نے کلی کے مرجانے پر
پھولوں کو سوگوار ہوتے نہیں دیکھا!،،
وہ آنسو جو واحد بلوچ سے لیکر محمد حنیف اور وسعت اللہ خان سے لیکر مشتاق راجپر کی آنکھوں میں آتے ہیں تو وہ ان آنسوؤں کو ایک ناکام ہنسی اور ناکام بات میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کہ
،،ہاہاہاہاہاہاہاہا
سبین!
ارے وہ تو جدید زمانے کی جپسی تھی
ناکام ملنگ !ناکام سوشل ایکٹیویسٹ!
آدھی سیاسی۔ پوری ادب دوست
اور محبت سے بھرا دل!،،

پر ان کے نین اس بات کی چغلی کھا ہی جاتے تھے کہ یہ اداکاری کر رہے ہیں وہ بھی ناکام!
پر جب بھی وہ اکیلے ہوتے ہیں۔ تنہا ہوتے ہیں۔ تو وہ آنسو ں ان کی آنکھوں سے نکل کر ان گالوں پر اپنی گرمی کا احساس دے ہی جاتے ہیں ۔جو گال اس بے حس شہر میں بہت خشک ہو کر رہ گئے ہیں۔
شہر کے نلکوں کی طرح!
سندھو کے سینے کی طرح!
تھر کی ماں کے پستانوں کی طرح!
نہ کوئی رلانے والا۔نہ کوئی بوسہ دینے والا !
جب وہ اپنی اپنی راہ پر چلتے ہیں تو غالب کے اس شعر کو ضرور سمجھنے کی کوشش کرتے ہونگے کہ
؛جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب،قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
ناداں ہو،جو کہتے ہو کہ،،کیوں جیتے ہیں،،غالب!
قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور،،
وہ سبین کے ساتھ کے سوا جی رہے ہیں۔ اسے یاد کرتے ہیں اس سے غائیبانا مذاق کرتے ہیں اور اکیلے میں روتے ہیں اور آنسو اپنی قمیض پر پونچھ کر جینے کی سزا میں جی رہے ہیں۔
پر سبین کے لیے تو وہ چرچ ،وہ کلیسیا بھی رونا چاہتے ہیں جو سبین کی راہوں میں تھے ۔جسے روز گزرتے سبین دیکھا کرتی تھی جن کلیسیاؤں کے گیٹ پر بائیبل کی یہ دعا کسی ماں کے بوسہ کی طرح درج ہے کہ
،،او مریم!
گناہوں سے پاک معصوم ماں!
ہمارے واسطے ہاتھ اُٹھاؤ
ہم جو بس تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں
آمین!،،
وہ چرچ اپنے آنسو کسے دکھائیں؟! جو کئی سالوں سے شہرِ یاراں میں پرانے درختوں کی طرح کھڑے ہیں۔اور گناہ گاروں کو اپنے دامن میں تھام لیتے ہیں۔اور اب تھک سے گئے ہیں۔
سبین کی لیے وہ مسجدیں رونا چاہتی ہیں۔جو یہ بات جانتی ہیں کہ اب اس شہر میں کون نہیں ہے؟
کس کی کمی ہے؟اور مذہب کے نام پر کیوں ہنگامہ ہے۔

سبین کے لیے وہ موم بتیاں رونا چاہتی ہیں جو اس دن سے جل رہے ہیں جس دن سبین کے سینے کو دو گولیاں پار کر گئیں تھی اور دوسری طرف بند دکانوں اور گوداموں میں رکھی سب موم بتیاں اپنے آپ جل اٹھی تھیں۔وہ تو بس جلی ہیں روئی تو نہیں ہیں۔وہ رونا چاہتی ہیں۔جب سمجھو کہ وہ نہیں جل رہیں ہونگی۔ تو وہ رو رہی ہونگی۔ پر وہ تو ہر روز پریس کلب کے در پر جلائی جا رہی ہیں کبھی کس کے یاد میں کبھی کس کی یاد میں!وہ رونا چاہتی ہیں خدارہ انہیں جلانے سے معاف رکھو بس ایک دن معاف رکھو۔انہیں بھی رونے دو۔

سبین کے لیے وہ دریا، وہ سمندر رونا چاہتے ہیں ۔جس کے ساحل پر سبین ننگے پاؤں گھوما کرتی تھی۔ سیپیاں چنتی تھی اور معصوم بچوں کی طرح خوش ہوا کرتی تھی۔ سمندر تو سارا پانی ہے۔ اگر وہ روئے بھی تو آنسو کون دیکھا گا؟پر وہ رونا چاہتا ہے اتنا کہ سیلاب آجائے۔
؛قصہِ امواج دریا راز دریا دیدہ پرس
ھر دلی آگھہ ز طوفان دل من نیست نیست!،،
؛دریا کی بات دریا سے پوچھنی چاہیے ،
ہر دل طوفان کو نہیں سمجھ پائی گا!،،
تو سمندر کے آنسو بھی کون سمجھ پائے گا؟

سبین کے لیے وہ کتاب رونا چاہتی ہے جسے اقبال ہالیپوٹو نے کمپائل کیا کہ جس میں درج ہے کہ سبین کے جانے کہ بعد کون کس طرح رویا۔
وہ پوری کتاب گیلی ہے اداس نینوں کی طرح۔وہ کتاب رونا چاہتی ہے۔اسے بھی رونے دو!
سبین کے لئے وہT2f رونا چاہتا ہے۔جس کے اندرونی دیواروں پر ڈاکٹر فرام جی مانیوالے کے ہاتھوں کے نقش بنے ہوئے ہیں۔سبین کے لیے وہ پٹھان چوکیدار رونا چاہتا ہے جو سبین کے چلے جانے پر بہت بدتمیز ہوچکا ہے۔سبین کے لیے وہ مرد نما ں لڑکا رونا چاہتا ہے جو رسپیشن پر موجود ہوتا ہے اپنے سفید ہوتے بال کلر سے چھپانے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔اور ایسی ہی انگلش بولتا ہے جیسی بلاول زرداری اردو بولتا ہے۔

سبین کے لیے وہ کُک رونا چاہتا ہے جو فرسٹ فلور پر t2f کا کچن سھنبالتا ہے۔ جو آنے والے لوگوں کو انگریزی میں لکھا مینو دیتا ہے ان سے انگریزی میں آڈر لیتا ہے اور اپنی ٹپ اور قیمت سرائکی زباں میں وصول کرتا ہے اور بہت ہی گلابی اردو بولتا ہے۔
سبین کے لیے وہ کتابیں رونا چاہتی ہیں جو t2f میں سبین نے کسی بچے کی طرح گود لی تھیں۔ جن کتابوں میں سبین کے بعد نا تو نئی کتابوں کا اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی وہ پرانی کتابیں بکی ہیں۔ وہ کتابیں نہیں ہیں۔ وہ درد ہیں۔ وہ دکھ ہیں۔ بھلا کوئی دکھ بھی خریدتا ہے؟وہ کتابیں نہیں وہ دکھ ہیں اور وہ رونا چاہتے ہیں۔ خدارا انہیں رونے دو!

سبین کے لیے وہ تصویریں رونا چاہتی ہیں جو t2f کی رنگین دیواروں پر آویزاں ہیں۔ جو سبین کے چلے جانے پر ایسی معلوم ہوتی ہیں کہ جیسے ،،پھاسی گھاٹ تے چنڈ!،، مقتل میں چاند!

سبین کے لیے وہ شعر رونا چاہتے ہیں۔جو t2f کی دیواروں پر ایسے لکھے ہوئے تھے جیسے کسی نے پہلی محبت کے خط میں لکھے ہوں اور اب وہی شعر ان دیواروں پر ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے کہ کوئی جیل کی کوٹھڑی میں اپنوں کی یاد میں لکھ گیا ہو کہ
؛ملنا ترا اگر نہیں آساں، تو سہل ہے
دُشوار تو یہی ہے کہ، دُشوار بھی نہیں؛

پر جو سبین کو مارنا چاہتے تھے، جو سبین کی زندگی کے دشمن تھے۔ جنہیں سبین پسند نہیں تھی۔ وہ یہ بات جانتے تھے کہ
سبین بس اک پل ہے
بس اک گیت ہے،اک خواب ہے
اک سفید فاختہ ہے
جبھی تو فاختہ کے دشمنوں نے اسے گھائل کیا اور زندگی کا در کھل گیا اور وہ سفید فاختہ جیسی سبین اُڑ گئی۔
اور پیچھے رہ گئی بس یہ بات جو سچ ثابت ہوئی کہ
؛اللہ مان اُڈری ویندو سائیں!،،
،،اللہ میں اُڑ جاؤں گی!،،
اب کو ن روئے ؟
کیوں روئے؟
اور کس سے آنسو چھپائے؟!!!۔۔۔۔۔۔
نا تمام!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں