جامعہ بلوچستان: ملازمین کا احتجاج مذاکرات کے بعد ختم

92

جامعہ بلوچستان میں ملازمین کا طویل احتجاج آج مذاکرات کے بعد اختتام پزیر ہوگیا ہے-

جوائنٹ ایکشن کمیٹی یونیورسٹی آف بلوچستان کی جانب سے ملازمین کو درپیش مسائل کے حل کیلئے پچھلے 35دنوں اور 19ویں رمضان میں بھی اپنے جائز حقوق کے لئے جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں آرٹس بلاک سے ریلی نکالی گئی جو مختلف شعبہ جات سے ہوتے ہوئے وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنے میں تبدیل ہوئی-

احتجاجی دھرنے سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاہ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی، پروفیسر فرید خان اچکزئی، عبدالباقی جتک، ڈاکٹر عابدہ بلوچ، عنایت اللہ بڑیچ، نجیب ترین، ڈاکٹر شبیر شاہہوانی حافظ عبدالقیوم،، محبوب شاہ اور بی بی ایس او کے چیئرمین زبیر بلوچ اور دیگر نے خطاب کیا-

دریں اثنا جامعہ بلوچستان کے پرو وائس چانسلر کی سربراہی میں بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی رہنماں سے مذاکرات کئے جو کامیاب ہوئے جس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات تسلیم کئے گئے جو اس مہینے کی تنخواہ میں شامل کئے جائیں گے۔

مذاکرات کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے احتجاجی تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان نے صوبائی حکومت اور ممبران صوبائی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ صوبے کی تمام سرکاری جامعات کیلئے صوبائی اسمبلی میں پیش کردہ تعلیم دشمن بل پر اساتذہ کرام، آفیسرز ملازمین، طلبا وطالبات کی جانب سے قانونی اور جائز سفارشات کو اس ایکٹ میں شامل کرکے تعلیم وصوبہ دوستی کا ثبوت دیں-

انکا کہنا تھا صوبائی اسمبلی کی قواعد وضوابط کے برخلاف جلد بازی میں پاس کرکے تعلیم وصوبہ دشمنی کے مرتکب ہوئے ہیں حالانکہ صوبائی حکومت نے اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہماری سفارشاتکو زیر غور لاکر بل کا حصہ بنانے گے۔

ا نہوں مطالبہ کیا کہ جامعات کے اساتذہ، آفیسرز، ملازمین اور طلبا وطالبات خصوصاً ممبران صوبائی اسمبلی کی سفارشات کو تسلیم کر کے بل میں شامل کرکے تعلیم و صوبہ دوستی کا ثبوت دیں۔