بلوچ طلباء کو تعلیمی اداروں سے لاپتہ کرنا ریاست کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ بی ایس سی

143

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ نمل یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اَدب میں زیر تعلیم طالبعلم بیبگر بلوچ کی اغوا نماء گرفتاری انتہائی افسوس ناک ہے۔ بلوچ طلباء کو مسلسل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہراساں کرکے اُنہیں جبری گمشدگی کا شکار بنا کر انہیں مختلف زرائع سے ذہنی اذیت کا شکار بنانا ایک ریاستی پیشہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبعلم بیبگر بلوچ کو آج صبح پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل سے 07:45 منٹ پر سی ٹی ڈی، چیف سیکیورٹی آفیسر اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بِنا کسی جرم اور بغیر کسی ایف آئی آر کے لاپتہ کردیا گیا۔ واضح رہےطالبعلم بیبگر بلوچ اپنے عید کی چھٹیاں گزارنے اور اپنے کزنز سے ملنے لاہور گئے تھے جہاں وہ انکے ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ طلباء کو یونیورسٹی احاطے سے یوں لاپتہ کرنا اور ان سے غیر انسانی سلوک کا برتاؤ کرنا واضح اجتماعی سزا کی کڑی ہے۔

ترجمان نے بیان کے اخر میں کہا بیبگر بلوچ جسے طالبعلم کو اس طرح زیادتی کا نشانہ بنا کر لاپتہ کرنا باعث تشویش ہے جسکی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں۔ متعلقہ حکام، حکومت وقت اور یونیورسٹی انتظامیہ سے گزارش کرتے ہیں کہ بیبگر امداد بلوچ کو بازیاب کیا جائے اور بلوچ طلباء کے ساتھ ناروا سلوک ترک کرکے انہیں مزید ذہنی کوفت میں مبتلا نہ کریں۔ اگر بیبگر بلوچ کو جلد از جلد بازیاب نہ کیا گیا تو ہم بھرپور احتجاج کا راستہ اپنائیں گے اور مجبوراً اپنی کلاسز کا مکمّل بائیکاٹ کرتے ہوئے تمام تعلیمی ادارے بند کریں گے اور اپنا آئینی حق استعمال کرکے تا دمِ مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔