مزاحمت کرنے والے قومیں ہی تاریخ میں زندہ رہتے ہیں – بشیر زیب بلوچ

2016

بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا چینل ہکل پر گذشتہ روز بی ایل اے سربراہ بشیر زیب بلوچ کا ایک ویڈیو جاری کیا گیا جس میں وہ بلوچ قوم کے نام پیغام دے رہے ہیں-

بی ایل اے سربراہ تین سال بعد میڈیا پر نظر آئے ہیں، گذشتہ سالوں میں ان کی تحریری بیان ہی دیکھنے میں آئے ہیں۔ بی ایل اے سربراہ نے ایسے موقع پر ویڈیو پیغام دیا ہے جب گذشتہ دنوں نوشکی اور پنجگور میں بی ایل اے مجید بریگیڈ کیجانب سے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر شدید نوعیت کے حملے کیے گئے۔ بی ایل اے سربراہ کو ویڈیو میں جدید اسلحہ سے لیس وردیاں پہنے نقاب پوش بلوچ جنگجووں کیساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔

اپنے پیغام کے شروعات میں بی ایل اے سربراہ گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کون یہاں قوم کے مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر ہمارے لوگوں کو گمراہ کررہا ہے انکو ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے خاص کر وہ افراد جو حکومتوں کا حصہ تھے انکا دور حکومت رہا ہے، یہ وزیر اعلیٰ ہوئے ہیں، یہ سینیٹر ہوئے ہیں پیپلز پارٹی سے لے کر مسلم لیگ ان سب کے دور میں کئی بلوچ لاپتہ ہوئے جن کی مسخ شدہ لاشیں ملی آج اگر بلوچ اٹھ کر اپنی فریاد لے کر انکے سامنے جاتے ہیں اور انکے سامنے روتے ہیں، اور یہ لاپتہ افراد کی بات کرتے ہیں یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔

بی ایل سربراہ نے کہا ہے کہ یہ کٹھ پتلی ہیں، جس دن انکو لات مار کر نکال دیا جاتا ہے یہ آکر تمہارے ہمدرد بن جاتے ہیں۔

بشیر زیب بلوچ نے بلوچ قوم سے سوال کیا کہ اس دور میں اتنی سادگی، اتنی نا سمجھی؟ ان سب چیزوں پر ہمیں سوچنا چاہیے، ہمیں غور کرنا چاہیے۔ دیکھنا چاہیے کہ یہی چیزیں یہی تضاد آج دنیا کے سامنے ہمیں کیا پیش کر رہی ہیں، ہمیں کیا بتا رہی ہیں؟ ہم اپنی بات کیوں سیدھا سیدھا نہیں رکھتے، کیوں نہیں بتاتے؟ اگر آج ہم کوئی مطالبہ کر رہے ہیں تو ہمیں دنیا کو بتا دینا چاہیے پنجابی ہے کون، اس سے ہمارا کیا تعلق ہے ہمارا کیا رشتہ ہے؟ بس ایک تعلق کے علاوہ ظالم و مظلوم کا تعلق ہے اور تو کچھ بھی نہیں ہے یہ تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ کیوں ہم اپنی بات الفاظ میں چھپا رہے ہیں؟ اسی وقت ہماری غلامی کی زنجیریں مضبوط ہو رہی ہیں، طاقتور ہو رہی ہیں۔ اسی میں ہمارے بہت سی چیزیں ہمارے ہاتھوں سے نکل رہی ہیں۔ ان چیزوں کو ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے انہی چیزوں کو ہمیں جاننے کی ضرورت ہے، ان چیزوں کے اوپر ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا اصل مرض کیا ہے؟ کیا ہے ہماری اصل تکلیف ؟

بشیر زیب بلوچ کا کہنا تھا اگر ہم اپنی زمین پر امن چاہتے ہیں تو ہمیں جنگ لڑنی ہوگی۔ اگر ہم جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں تو اسکے لئے بھی ہمیں ایک شدید جنگ لڑنی ہوگی، اپنے جنگ میں تیزی لانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ہم نہیں کہہ رہے یہ تاریخ کہہ رہی ہے۔ تاریخ کو کوئی دیکھے اور دیکھنے کیساتھ جانے اور سمجھے تو وہ اقوام جنہوں نے جنگیں لڑیں وہ زندہ ہوئے اور وہ اقوام جو خاموش ہوگئے، خوف کا شکار ہوئے وہ نہیں بچ سکے وہ بھی مر گئے فنا ہو گئے آج تک ایسا نہیں ہوا کہ جو لوگ بزدل ہوگئے، خوف کا شکار ہوئے، لالچ کا شکار ہوئے وہ زندگی بھر بچے رہیں۔

بلوچوں کے نام اپنے پیغام میں بی ایل اے سربراہ نے کہا کہ نظریہ کے لحاظ سے فکر کے لحاظ سے حوصلے کے لحاظ سے بلوچ نوجوانوں میں کوئی کمی نہیں ہے اگر ہے تو وہ بے وسائلی ہے۔ آج بلوچ بے وسائلی کے باوجود یہاں تک پہنچا ہے اس جگہ پر (جہد کو) پہنچایا ہے جس دن بلوچ کے ہاتھوں میں طاقت آئی یہ ( پاکستان) خود کو سنبھال نہیں پائے گا۔ یہ اپنے پاوں نہیں سنبھال پائے گا، آج بلوچ نے اس جگہ اسے لا کھڑا کیا ہے آیا اگر آج کوئی کھڑا ہو کر یہ بولے کہ یہ جذباتی ہیں یہ نہیں سمجھتے تو اس عمر میں کوئی ایسا نہیں ہے کہ جذباتی ہو جائے۔ یہ جذبات نہیں یہ حقائق ہیں، یہ سب حقائق ہیں، یہ سب ہم جانتے ہیں، سب سمجھتے ہیں درد آئے تکلیف آئے، اپنے لوگوں کی حالت دیکھ رہے ہیں، اپنے قوم کی حالت دیکھ رہے ہیں-

بشیر زیب بلوچ نے کہا کہ آج بلوچستان یونیورسٹی میں جو سکینڈل ہوتا ہے پاکستانی فوج اپنی راہ ہموار کر رہا ہے۔ ان دنوں کے لئے راہ ہموار کر رہا ہے جو بنگال میں کیا گیا تھا آج یہ ہمیں دیکھ رہا ہے جو بھی کر رہا ہے ہمیں دیکھ رہا ہے کہ کل یہ چیزیں ہمارے ساتھ کرے لاکھوں کی تعداد میں زیادتیاں ہوئیں آج یہ یہی سوچ رہا ہے ہمارے مزاحمت کو دیکھ رہا ہے بی ایل اے سربراہ نے سوال کیا کہ تو کیا ہم پہلے سے ہی تیاری نہ کر لیں؟ کیا ان سب سے پہلے ہم اس جنگ میں شامل نہ ہو جائیں؟ یا پھر نہیں، تماشائی بنے رہیں اور دیکھتے رہیں اور غور کریں کہ کس کی بہن چلی گئی، کس کی ماں آج چلی گئی، کل کس کی باری ہے۔ ہم کم سے کم یہ نہیں کر سکتے ہیں

بشیر زیب بلوچ نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل جیسے معاملات پر ہم آنکھ بند نہیں کرتے اور ہم سے یہ کام نہیں ہوتا اس سے پہلے یا تو دشمن رہیگا یا ہم اس دن کے آنے سے پہلے ہم آپ سب سے یہی توقع رکھتے ہیں اور یہ امید کرتے ہیں اور وہ دن ضرور آئیگا، اس دن کے آنے سے پہلے آئیں ایک ہو جائیں اور مل کر اپنی لڑائی آگے لیکر جائیں۔

بی ایل اے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ اس جنگ میں ہنجابی فوج کے جتنے بھی مارے جاتے ہیں وہ (پاکستان فوج) چھپاتا ہے کہ دوسرے (اہلکار) بے حوصلہ نہ ہو جائیں میڈیا کے ذریعے ہم اپنے شہید ساتھیوں کی شہادت نہیں چھپاتے کیونکہ ہماری جنگ حق کے لئے جنگ ہے جائز جنگ ہے ہمارے چھ ساتھی مارے جائیں آٹھ مارے جائیں دس مارے جائیں ہم بتاتے ہیں ہم فخر کرتے ہیں انکے اوپر لیکن پاکستان اپنے (مارے جانے والے) لوگ چھپاتا ہے۔ بشیر زیب بلوچ نے کہا کہ ہمارے ساتھیوں کی بہنیں مائیں باپ ان پر فخر کرتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے مطلب وہ مانتے ہیں کہ انکا بیٹا اس جہد میں شامل رہا ہے جبکہ کسی مخبر کے گھر والے نہیں بولتے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ قوم کی مخبری غلط کام ہے۔

بی ایل اے سربراہ نے اپنے پیغام کے آخر میں کہا کہ اس جنگ کے لئے ذہنی حوالے سے جسمانی حوالے سے ہر حوالے سے قربانی کے حوالے سے خون پسینے کے حوالے سے خود کو تیار کریں تب ہم اپنی قوم کو بچاسکتے ہیں اس سر زمین کو اس دھرتی کو اس زبان کو اس ثقافت کو سب کو بچا سکتے ہیں ورنہ یہ سب ہمارے ہاتھ سے چلا جائیگا انکو ہم تیز تقاریر سے نہیں روک سکتے ہیں اس یلغار کو روکنے کے لئے ہم کہتے ہیں کہ شعوری جنگ نوجوان لڑ رہے ہیں نوجوانوں کا ساتھ دیں انکا حوصلہ بنیں انکے مددگار بنیں انکی حمایت کریں چار قدم انکے ساتھ چلیں یہ دشمن خود کو نہیں سنبھال پائیگا۔