کراچی میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا احتجاج جاری

160

سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ کو 4562 دن ہوگئے۔ کراچی سے سیاسی و سماجی کارکن میر حمل خان بلوچ، کامریڈ محمد ایوب بلوچ اور محمود دشتی نے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

اس موقع پر لاپتہ عبدالحمید زہری کے بچے اور دیگر لواحقین سمیت لاپتہ انسانی حقوق کی کارکن راشد حسین بلوچ کی والدہ نے کیمپ آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر بلوچ نے وفد سے مخاطب ہوکر کہا کہ بلوچ شہداء کی خون اور بلوچ پرامن جدوجہد رنگ لے آئی ہے۔ ان شہداء کی خون اور بلوچ جہدکاروں کی بہتر حکمت عملی کی وجہ سے ہم منزل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچ قوم جہاں ریاستی بربریت و تشدد کا شکار ہے وہاں آئے دن مسخ لاشوں کی برآمدگی اور گمشدگی میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے۔ ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ فوج کی بڑی تعداد نقل حرکت اور اس میں آئے روز اضافہ ایک سنگیں سلسلہ ہے اگر اسی طرح میڈیا اور انسانی ادارے گھونگے اور اندھے رہیں تو بلوچ قوم کی نسل کشی کے اس سنگیں دور میں یہ ادارے بھی مورخ کی غضب سے نہیں بچ پائیں گے۔