پیغمبرِ آجوئی اُستاد اسلم ۔ سنگت فرحان بلوچ

338

پیغمبرِ آجوئی اُستاد اسلم

‏تحریر: سنگت فرحان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

‏آج پہلی بار قلم اُٹھا کر اس عظیم انسان کے بارے میں لکھ رہا ہوں جس کے بارے میں میرے جیسا نالائق شخص جتنا بھی لکھے کم ہے۔ وہ شخص جس کا نام تاریخ کے خدا کی نبیوں کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ آج میرے جیسا ناچیز اس انسان کے بارے میں لکھنے کی کوشش کررہا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے میں اس لائق نہیں کہ اس عظیم انسان کے بارے میں لکھ سکوں، مجھ ناچیز سے اِس پاک ذات کی تعریف میں اگر کچھ کمی ہوگئی تو مُجھے معاف کیجیئے۔

انہوں نے مُجھے یہ باور کرایا کہ میں بھی زِندہ ہوں اور میں ایک قوم کا وارث ہوں۔ میرا بھی ایک زمین ہے، میں بھی ایک زمین کا مالک ہوں۔ میرا بھی ایک تاریخ ہے اور میرے اِس پاک زمین کی حفاظت میرے قوم کے دلیر بہادر عزت مند زمین کے سپوتوں نے ہزار سال قبل بھی کی ہے اور آج بھی کر رہے ہیں۔

اس عظیم ہستی نے اس وقت ہمیں باور کرایا کہ جب بظاہر سب راستے بند نظر آرہے تھے۔ اُس وقت جب غُلامی عروج پر تھی۔ اُس وقت جب آزادی کی باتیں صرف کتابی باتیں لگتے تھے۔ اُس وقت جب لوگ بوٹ کو خُدا سمجھتے تھے۔ اُس وقت جب لوگ بوٹ کی قدر عبادت کی طرح کرتے تھے۔ اُس وقت جب لوگ تھك چُکے تھے۔اُس وقت جب بڑے بڑے نام نیاد ہیرو بوٹ کے سامنے سر جُھکا کر سلام کرنے لگے تھے۔ تب اُس عظیم ہستی نے ایک پیغمبر کی طرح آکر سب کو یہ باور کرایا کے آپ سب بھی آزاد ہوسکتے ہیں۔ آپ سب کا اپنا سرزمین ہے جس کی حفاظت برسوں پہلے حمل نے کی تھی۔ انگریز کے دور میں خان مہراب خان نے کی تھی۔ اُس کے بعد بابو نوروز نے کی تھی۔ اس کے علاوہ نواب اکبر خان بگٹی نے کی تھی۔ اور غلام محمد، شیر محمد، لالہ منیر کے علاوہ ہزاروں بلوچ فرزندوں نے کی ہے اور اب اُستاد اسلم جیسے عظیم ہستی کے ہوتے ہوئے اِس دھرتی ماں کو کسی دوسرے کی ضرورت نہیں۔

اُستاد نے کہا کہ وطن کے لیے میرا جان، خاندان ، یہاں تک کہ میرا لخت جگر قربان ہونے کے لیے حاضر ہے ۔ میں میرا پورا خاندان قربان ہوجائیں اُس عظیم الشان شخص کی نام پر۔ وہ عظیم ہستی کوئی اور نہیں اُستاد جنرل اسلم بلوچ تھے۔ میں میرا خاندان ہزار بار قربان ہوجائیں اُستاد کے نام پر ۔ اُستاد اسلم نے وہ قربانی دی ہے جو نہ کبھی کسی نے دی ہے اور نہ ہی کوئی اِس لائق ہے کہ وہ اتنا بڑا قربانی دے سکے۔ اتنی بڑی قربانی دینا تو دور کی بات ہے کوئی اتنا بڑا قربانی دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اور ہاں یہ بھی سچ ہے کہ لوگ مذہب کے نام پے قربانی دیتے ہیں ۔ اور دنیا میں بہت سے مذہب بھی ہیں جن میں سے ایک اسلام ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے جِس میں ایک لاکھ سے زائد انبیاء کرام آئے اور اللہ نے اُنسے وقت کے مطابق امتحان لیا اور وہ اکثر اپنے امتحاں میں کامیاب رہے ہیں۔ ان میں ایک نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔ جنہیں اللہ نے حُکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو اللہ کی خاطر قربان کریں۔ اللہ کا حُکم تھا اور ویسے بھی مسلمانوں کا یہی عقیدہ بھی ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے اور صرف ایک امتحان کی جگہ ہے جسے جو بھی پاس کریگا اللہ اُسکو جنّت میں جگہ دے گا ۔ اللہ نے حضرت ابراہیم کو حُکم دیا تھا کہ آپ اپنے بیٹے کو اللہ کے نام پر ذبح کریں اور میں اسکو جنّت میں داخل کرونگا۔ اللہ کا حُکم اور اللہ کا وعدہ وہ بھی اپنے نبی کو ۔ خیر اللہ کا حُکم تھا تو پورا کرنا فرض تھا۔ لیکن پھر بھی نبی اپنے بیٹے کو اُس کی ماں سے چپکے سے لےگیا۔ اور جب ذبح کرنے لگا تو باپ سے یہ منظر برداشت نہ ہوا تو اُس نے اپنے آنکھیں کسی کپڑے سے بند کردیں۔ تین دفعہ اُس نے کوشش کی لیکن وہ اپنے بیٹے کو قربان نہ کر سکا۔ بیشک اللہ کو تو سب معلوم تھا۔ اللہ جانتا تھا کہ یہ کام حقیقتاً بہت زیادہ مُشکِل ہے ۔ بالآخر اللہ نے ایک بھیڑ بھیجا اور حضرت ابراہیم نے بالآخر ذبح کیا اور آنکھیں کھولیں تو بھیڑ کو ذبح ہوتے دیکھ کر بہت خوش ہوا۔

خیر وہ اللّٰہ اور اُسکی نبی کی درمیان کی بات ہے وہ بہتر جانتے ہونگے۔اب بات کرتے ہیں اُس ہستی کی جو نہ ایک نبی تھے اور نہ ہی ان کو اللہ کی طرف سے کوئی حُکم آیا تھا کہ اپنے بیٹے کو قربان کرو۔ اور ناہی اُسے کسی جنّت کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اور ناہی وہ خود اللہ کی طرف سے بھیجے گئے کوئی نبی تھے بلکہ وہ ہماری طرح ایک سیدھا سادہ انسان تھے۔ اور ناہی اسکو کسی جنّت کی لالچ تھی۔ اُس عظیم انسان کا مقصد صرف اور صرف ایک تھا کہ اُس تحریک کو زندہ کرنا اور آگے لےجانا تھا جس کی واسطے بہت سے مادر وطن کے فرزندوں نے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور اُس قوم کو جگانا تھا جو ایک گھیری نیند سو رہے تھے۔

یہ ایک قربانی تھی اپنے سرزمین حفاظت کے لیے۔ اور اس قربانی میں اُستاد جنرل اسلم بلوچ کامیاب ہوئے۔ جب اُستاد نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے سوچا نہ تو وہ گھبرائے اور نہ اسکو ڈر تھا۔ اور قربان جاؤں اُس بیٹے پے اُس کو نہ کسی جنّت کا لالچ اور نہ ہی کسی اور چیز کی ضرورت۔ اور قربان جاؤں اُس بیٹے پر کے وہ بیٹا کہتاہے کے لوگ میرے اس عمل کو پتہ نہیں کیا کیا رنگ دینگے کہ یہ حرام ہے خودکشی ہے فلاں ہے فلاں ہے ۔ بس اُسکا سوچ صرف یہی تھا کہ میں خود کو بلوچیستان کے نام پر قربان کر رہا ہوں اور مُجھے کسی چیز کی کوئی ضرورت نہیں اور مجھے کسی چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

قربان جاؤں ریحان جان تیرے سوچ پر۔ اور اُس ماں کو میں کیسے بھول سکتا ہوں کہ جس نے خود اپنے بیٹے کو بلوچیستان کا بیرک پہنا کر کہتی ہے کہ ( ہی نے بلوچستان کے خیرات کریٹ ) میں نے تمہیں بلوچیستان کے لیے قربان کردیا ہے اُف ہزار بار قربان ہوجائے اُس ماں پر۔

زندگی میں بس یہی ایک دعا ہے ربّ العزت سے کہ اُستاد اور ریحان جان سے زندگی میں ملاقات نہیں ہوسکا لیکن ایک دفعہ لمہ یاسمین سے ضرور ملاقات ہو۔ آمین ثمہ آمین۔

بات یہ ہے کہ اُستاد نے اپنے بیٹے کو خود تیار کیا، ٹریننگ دی اور پھر خود کہا کہ ریحان جان بیٹا یہ دو گولیاں اپنے جیب میں رکھو آگر خدانخواستہ مشن فیل ہوگیا تو خود کو ان گولیوں سے مارنا۔ اُف اڈے قربان اور پھر خود ریحان جان کو گاڑی میں بٹھا کر پورے گاڑی کو بارود سے بھر دینا اور بلوچیستان کا بیرک سر پر باندھ کر اسکو ٹارگٹ کی طرف رُخصت کرنا اور یہ کہنا کہ (رُخصت اف آوروں) ریحان جان۔ مطلب رُخصت نہیں ایک ساتھ ہیں۔

اُف وہ لمہ۔ قربان ۔ یقیناً اللہ بھی یہ سب دیکھ رہا ہوگا اور اللہ کو بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وہ منظر بھی بہت یاد آیا ہوگا ۔ اللہ گواہ رہنا کے اُستاد اسلم نے یہ سب صرف اور صرف بلوچستان کی خاطر کیا نہ کسی جنّت کی لالچ میں اور نہ ہی کسی خُدا کی حُکم پر۔ تاریخ لکھےگا کہ اُستاد اسلم کی قوم غلام پیدا نہیں ریحان پیدا کریگا ۔

آگر آج پھر سے بلوچ خود کو ایک زِندہ قوم سمجھنے لگاہے تو اس کی وجہ صرف اور صرف یہی قربانیاں ہیں۔ تاریخ بھی کیا یاد کریگا کے کیسی عظیم ہستی تھے۔ اس لیے تو آج بلوچ قوم اُستاد کو آجوئی کا پیغمبر جیسے الفاظ سے یاد کرتا ہے۔ اُستاد آج بھی زندہ ہے چلتن و بولان کے شکل میں۔ سربلند کی شکل میں اُستاد زندہ ہے۔ لاکھوں دورود وسلام۔ ایک سرخ سلام بلوچ قوم کی طرف سے اُس ماں باپ اور بیٹے پر جنہوں نے آج اس قوم کو پھر سے زندہ کیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں