پنجاب: یونیورسٹی ہاسٹلز پر چھاپے، بلوچ و پشتون طلباء پر تشدد

630

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں گذشتہ شب لاہور یونیورسٹی میں زیر تعلیم بلوچ اور پشتون طلباء پر تشدد اور کمروں پر چھاپے مارے گئے ہیں –

پنجاب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، پروگریسو سٹوڈنٹس کلیکٹو، فیمینسٹ کلیکٹو اور حقوقِ خلق تحریک میں سرگرم عروج اورنگزیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک وڈیو شئیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‏انارکلی دھماکے کے بعد لاہور انتظامیہ کیجانب سے پنجاب یونیورسٹی میں جماعت اسلامی کے شرپسندوں کی شکایت پر بلوچ اور پشتون طلبہ کے کمروں کی رات 2 بجےتلاشی لی گئی-

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد تنظیموں کی بجائے طلبہ کو اس طرح ہراساں کرنا انتہائی شرمناک عمل ہے آج سٹوڈنٹس نےجمعیت، پنجاب ایڈمنسٹریشن کےخلاف مارچ کیا –

گذشتہ شب یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعہ کے خلاف طلباء کی بڑی تعداد نے احتجاج کرتے ہوئے مارچ کیا –

طلباء رہنماؤں نے کہا کہ جمعیت کی ایما پر بلوچ اور پشتون طلباء کے خلاف پولیس گردی قابل مذمت ہے –

طلباء کے مطابق رات 12 بجے پولیس کی بھاری نفری نے یونیورسٹی ہاسٹل میں بلوچ اور پشتون طلباء کے کمروں میں گھس کر انہیں نیند سے اٹھایا اور انکی شناختی کارڈز ضبط کرکے انکی تصویریں بنائی گئی –

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماء آغا زبیر نے بھی سماجی رابطے ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک وڈیو شئیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‏لاہور بم دھماکے کے بعد پنجاب پولیس نے پنجاب یونیوسٹی میں زیر تعلیم پشتون اور بلوچ طلباء کے ہاسٹل میں گھس کر طلبا کو کمروں سے نکال کر کمروں کی تلاش لی گی ہے –

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی افزائش اور پرورش کرنے والے ریاستی ادرے دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کی بجائے طلبا کو ہراساں کر رہے ہیں –