مستونگ: جبری طور پر لاپتہ نوجوان کی لاش برآمد

1768

رواں ماہ پاکستانی فورسز کے ہاتھوں حراست بعد لاپتہ رہنے والے ایک نوجوان کی لاش آج مستونگ کے قریب گھڈ کوچہ سے مستونگ انتظامیہ نے برآمد کرلی ہے-

مستونگ لیویز انتظامیہ کے مطابق انہیں کھڈکوچہ کے پہاڑی علاقے میں لاش کی موجودگی کی اطلاع ملی جسے انتظامیہ نے برآامد کرکے ڈی ایچ کیو اسپتال مستونگ منتقل کردیا ہے-

ڈاکٹروں کی مطابق نوجوان کی لاش دو روز پرانی ہے جسے گولی مار کر قتل کردیا گیا ہے جبکہ لاش مستونگ کے رہائشی نوجوان کی ہے-

ٹی بی پی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ انتظامیہ کو ملنے والی لاش جبری طور پر لاپتہ نعمت اللہ ولد عرض محمد کی ہے جس کو رواں سال پاکستانی فورسز فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے لکپاس سے حراست میں لیکر لاپتہ کردیا تھا-

نعمت اللہ کے لواحقین کے مطابق رواں سال 17 جنوری کو نعمت اللہ ولد عرض محمد کو سیکورٹی فورسز نے لک پاس مستونگ سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا جس کے بعد سے نعمت اللہ لاپتہ تھے- لواحقین نے لاپتہ افراد کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کو نعمت اللہ کی جبری گمشدگی کے تفصیلات جمع کرائے تھی-

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے آواز اٹھانے والی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق بلوچستان سے ہزاروں افراد جبری طور پر لاپتہ ہے جبکہ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ان لاپتہ افراد میں سے متعدد کو دوران حراست تشدد کا نشانہ بناکر قتل کیا جاتا ہے اور بعد میں ان کی لاشیں پھینکی جاتی ہے۔