لسبیلہ: یونیورسٹی میں طالبات کی رقص بلوچ ثقافت کا روشن پہلو ہے

413

بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے صدر مقام اوتھل میں لمز یونیورسٹی میں رواں ہفتے جمعرات کے روز سالانہ فیسٹیول میں ہونے والے بلوچی رقص “دو چاپی” کی ایک ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر وائرل ہوئی ہے جس کے بعد ایک بحث چڑ گئی ہے کہ کیا طالبات کا اپنے طالب علم ساتھیوں کے ہمراہ رقص بلوچ ثقافت سے متضاد یا ثقافت کا امین ہے۔

ویڈیو وائرل ہونے کا سبب بلوچ لڑکیوں کا اپنے ساتھی طالب علموں کے ہمراہ ڈھول کی تاپ پر دو چاپی ہے۔ وڈیو کے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شئیر کرکے حمایت اور مخالفت میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک نے اوتھل یونیورسٹی ایک طالب علم شمیم بلوچ سے رابطہ کیا تو اس نے کہا کہ یہ ویڈیو یونیورسٹی کے سالانہ فیسٹیول کا ہے جو یونیورسٹی انتظامیہ اور ایک پرائیویٹ بینک کی اشتراک سے منعقد ہوا تھا۔

اس کے مطابق اس فیسٹیول میں علمی، ادبی اور مختلف اقوام کے ثقافتی سرگرمیاں ہوتے ہیں اور اسی طرح بلوچ طلباء اور طالبات نے ثقافتی رقص “دو چاپی” کا مظاہرہ کیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک طرف کئی لوگ اسے بلوچ کلچرل مخالف عمل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خواتین کا دو چاپی اور رقص بلوچ ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔ تو وہیں مختلف مکاتب فکر کے لوگ اسے بہترین عمل قرار دیتے ہوئے بلوچ ثقافت کا ارتقائی عمل قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض اسے پہلے ہی سے بلوچ ثقافت کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک نے یورپی ملک جرمنی میں مقیم بلوچ قلمار اور فلم ڈائریکٹر حنیف شریف سے اس بارے میں پوچھا تو ڈاکٹر حنیف شریف کہتے ہیں کہ دو چاپی بلوچوں کا قومی رقص ہے اور بلوچ صرف مرد حضرات نہیں بلکہ خواتین بھی ہیں، جس طرح مرد یہ رقص کرتے ہیں تو خواتین کو بھی یہ حق حاصل ہے۔

ڈاکٹر حنیف کہتے ہیں کہ میں نے تربت میں شادی بیاہ کے مواقع پر خواتین کو دوچاپی کرتے ہوئے دیکھا ہے اور شادی بیاہ کے موقع پر بلوچ خواتین دو چاپی کرتے ہیں مرد حضرات نہیں۔

ڈاکٹر حنیف شریف کہتے ہیں کہ رقص بھی ثقافت کا حصہ ہے اور کوئی قوم اپنا ثقافت اپناتا ہے تو اس میں حیرانگی کی بات نہیں، بلوچ عورت بھی اس قوم کا حصہ ہیں اگر انہیں کوئی قوم سے نکالنا چاہتا ہے تو الگ بات ہے لیکن جب میرے ذہن میں دو چاپی کا خیال آتا ہے تو خواتین ہی آتے ہیں کیونکہ میں ہمیشہ بلوچ خواتین کو دوچاپی کرتے ہوئے دیکھا ہے اور آجکل بلوچ نوجوان بھی دو چاپی کرتے ہیں ہمیں خوشی ہوتی ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابقہ چیئر پرسن ظریف بلوچ کہتے ہیں کہ ‏بلوچ خواتین احتجاجی مظاہروں میں لڑکوں سے پیش پیش ہوکر دفاعی دیوار کا کام کریں تو باعث افتخار ٹھرتی ہیں مگر یہی خواتین اگر کسی فنکشن میں اپنےجذبات کا اظہار رقص کی صورت کریں تو کچھ لوگ غیرت و روایات کا ڈول پیٹنا شروع کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچیاں ہمارے لئے قابل فخر ہیں، یہی ہماری مستقبل ہیں۔

اس حوالے سے بلوچ صحافی باہوٹ بلوچ ٹویٹر پر سوالیہ انداز میں لکھتے ہیں کہ ‏خواتین مردوں کے ہمراہ احتجاج کرسکتے ہیں لیکن روایتی رقص نہیں۔

وڈیو کو شئیر کرتے ہوئے بلوچ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ فتح جان نے لکھا ہے کہ ثقافت کسی رکے ہوئے یا منجمد عمل کا نام نہیں۔

دوسری جانب بعض صارفین نے اسے بلوچ ثقافت مخالف عمل قرار دیتے ہوئے سخت لہجوں میں تنقید کی ہے۔

بلوچ وومن فورم کے آرگنائزر زین گل  نے دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی ترقی انسانی برابری سے منسلک ہے بلوچ تاریخ میں عورت کو مقدس مقام حاصل رہا ہے، سیمک، بانڑی، گل بی بی غرض بلوچ خواتین جنگوں کے بیرک میں بھی قوم کے ہم قدم رہی ہیں آج کے میدان میں بلوچ لڑکیوں کا اپنے بھاہیوں کے ساتھ اپنا ثقافتی چاپ ان فرسودہ روایتوں، مذہبی تنگ نظری اور گھٹن زدہ ماحول کی موت ہے جس نے معارشرے کی ترقی میں خواتین کو ہمیشہ دور رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ وومن فورم (سموراج) ان بلوچ دوشیزاوں کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنے اس عمل سے یہ پیغام دیا ہے کہ بلوچ سماج کی اپنی اخلاقی اقدار اور قومی روایتیں ہیں جو مرد اور عورت کے لیے نہ صرف برابر ہیں بلکہ قابل احترام بھی ہیں۔

صائمہ بلوچ نے دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں بحثیت این ڈی پی مرکزی آرگنائزرنگ کمیٹی ممبر اور ایک بلوچ سیکولر خاتون حالیہ اوتھل یونیورسٹی بلوچی چاپ جس میں بلوچ لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ ہیں اسے ٹھیک سمجھتی ہوں کیونکہ بلوچ کئی صدیوں سے سیکولر ہے اور یہ کوئی غیر اخلاقی حرکت نہیں ہے لڑکیاں چاپ میں اپنے پورے بلوچی لباس میں ہیں یعنی مکمل طور پر پردے میں ہیں اور انکے مابین اچھی خاصی گیپ بھی ہے۔

صائمہ بلوچ کہتی ہیں کہ ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگا کہ تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات آپس میں ایک ساتھ ہوتے ہیں، سیاسی حوالے سے بھی یہ ساتھ ہوتے ہیں، احتجاجوں اور مظاہروں میں ساتھ ہوتے ہیں، تعلیمی حوالے سے گروپ اسٹیڈی کرتے ہیں تو ایک ساتھ چاپ کیوں نہیں کرسکتی؟ اور جب چاپ سب کے سامنے ہیں تو میرے خیال سے اس میں کوئی بری بات نہیں ہے ہاں البتہ جس نے غلط سوچ رکھا ہے وہ تو اسے غلط نظر سے ہی دیکھے گا تو میرے نزدیک اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔