سندھی قوم پرست کارکن تیسری مرتبہ پاکستانی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ

219

پاکستانی فورسز نے تیسری دفعہ سندھی قومپرست کارکن مہران مہرانی کو گذشتہ شب حیدرآباد سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا ہے۔

وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی کنوینئر سورٹھ لوہار نے جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوج اور اس کی ایجنسیوں کی سندھ میں انسانی حقوق کی پامالی اور جبر و تشدد کی اب انتہا ہوگئی ہے۔ گذشتہ کئی سالوں سے سندھ سے سینکڑوں کی تعداد میں سیاسی کارکنان اور انسانی حقوق کے کارکنان کو اٹھاکر جبری لاپتہ کردیا گیا ہے جبکہ ان میں سے کئی کارکنان کی مسخ شدہ لاشیں بھی پھینکی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سالوں میں دو بار جبری لاپتہ رہنے والا سندھی قوم پرست کارکن مہران میرانی کل رات ایک بار پھر اپنے گھر حیدرآباد سے پاکستانی فوجی اداروں اور حیدرآباد پولیس کی جانب سے گھر میں تشدد اور توڑ پھوڑ کے بعد گرفتار کرکے جبری لاپتہ کردیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب ضلع نوشہروفیروز کے گائوں پکا چانگ سے ایاز شر ، صدام شر اور عمر شر کو گرفتاری کے بعد جبری لاپتہ کردیا گیا ہے۔

جبکہ اس پہلے سے بھی قوم پرست رہنما ایوب کاندھڑو، مرتضیٰ جونیجو، انصاف دایو، پٹھان زہرانی، سرویچ نوحانی، منیر ابڑو، امداد شاہ ، کاشف ٹگڑ ، سعید گاڈہی سمیت دیگر درجنوں کارکن کئی سالوں سے جبری لاپتہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم انسانی حقوق اور عالمی اداروں کو سندھی مسنگ پرسنز اور سندھ میں پاکستانی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی شدید پائمالیوں پر کئی بار اپیل کر چکے ہیں کہ وہ پاکستان پر اپنا عالمی دباو پیدا کریں۔

اب ہم اقوامِ متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ریڈ کراس سے صرف یہ ہی اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں پاکستانی عدالتوں سمیت کہیں سے بھی کوئی انصاف کی امید نہیں ہے۔ اس لئے سندھیوں کو پاکستانی ریاست کا جنگی قیدی قرار دیا جائے۔