“بلوچ نیشنلسٹ آرمی” کون ہے؟ ٹی بی پی فیچر رپورٹ

4649

بلوچ نیشنلسٹ آرمی” کون ہے؟

دی بلوچستان فیچر رپورٹ

یاران دیار

گیارہ جنوری کو دو بلوچ آزادی پسند مسلح جماعت بلوچ ریپبلکن آرمی اور یونائیٹڈ بلوچ آرمی نے دونوں مسلح جماعتوں کے انضمام اور ایک نئی مزاحمتی مسلح جماعت بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ “بی آر اے اور یوبی اے کے کمانڈ کونسلز کی ایک مشترکہ میٹنگ مقبوضہ بلوچستان میں منعقد ہوا، جہاں قومی مزاحمتی جنگ کو وسعت دینے اور فوجی فاشزم کے مقابلے میں بلوچ مزاحمتی قوتوں کو یکجا کرنے کیلئے دونوں جماعتوں کو تحلیل کرکے، ایک جماعت، بی این اے کے نام سے مزاحمتی جنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔”

اس اعلامیئے میں مزید کہا گیا کہ “مرید بلوچ، میڈیا میں بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے ترجمان ہونگے اور تنظیم کے میڈیا چینل کا نام باسک ہوگا۔”

اعلامیئے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے انضمام کے بعد بننے والی نئی جماعت بی این اے، بلوچ مسلح جماعتوں کی وسیع تر امبریلا آرگنائزیشن بلوچ راجی آجوئی سنگر یا براس کا حصہ ہوگی۔

یاد رہے کہ براس بلوچستان کی دو بڑی آزادی پسند مسلح جماعتوں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچستان لبریشن فرنٹ سمیت بلوچ ریپبلکن آرمی اور بلوچ ریپبلکن گارڈز کا ایک اتحاد ہے، جو پاکستانی فوج سمیت، اہم تنصیبات پر بڑے پیمانے کے حملوں کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔ حال ہی میں اس اتحاد میں سندھی مزاحمتی تنظیم سندھو دیش ریوولشنری آرمی بھی شامل ہوئے تھے۔

بلوچ ریپبلکن آرمی

بی آر اے کا قیام سنہ ۲۰۰۶ میں معروف بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر خان بگٹی کی ایک فوجی آپریشن میں شہادت کے بعد عمل میں آیا۔ ابتدائی سالوں میں بی آر اے زیادہ تر بگٹی قبیلے کے مزاحمتکاروں پر مشتمل تھا لیکن بہت جلد اسے بلوچستان کے شہری علاقوں اور خاص طور پر تعلیم یافتہ طبقے میں پذیرائی حاصل ہوئی، جسکے بعد پورے بلوچستان سے مزاحمتکار “پاکستانی قبضے” کیخلاف جدوجہد کیلئے اس میں شامل ہوتے گئے۔

بی آر اے نے کبھی رسمی طور پر اپنے سربراہ کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن حکومت پاکستان بارہا یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ بی آر اے کے سربراہ نواب اکبر خان بگٹی کے پوتے اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کے صدر براہمداغ بگٹی ہیں۔ براہمداغ بگٹی اس وقت سوئیٹزر لینڈ میں از خود جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں اور حکومت پاکستان کے ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

اکتوبر ۲۰۱۸ میں بلوچ ریپبلکن آرمی اس وقت دو دھڑوں میں تقسیم ہوئی، جب بی آر اے کے ایک ترجمان سرباز بلوچ نے میڈیا میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ” تنظیم کے ریجنل کمانڈر گلزار امام عرف شمبے کی رکنیت ختم کی جاتی ہے۔

بلوچ مزاحمتی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق، ان اندرونی اختلافات کے بعد تنظیم کے مزاحمت کاروں کی اکثریت نے گلزار امام کی سربراہی میں الگ سے کاروائیوں کا آغاز کیا۔

گلزار امام بلوچستان کے ضلع پنجگور سے تعلق رکھتے ہیں، وہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہیں اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے زونل صدر بھی رہ چکے ہیں۔ طلبا سیاست کے بعد انہوں نے بی آر اے میں شمولیت اختیار کی تھی اور بہت جلد تنظیم کے اہم کمانڈران میں شمار ہونے لگے۔ اطلاعات کے مطابق گلزار امام کے بی آر اے کو بلوچستان کے شہری علاقوں اور مکران ریجن میں اسرورسوخ حاصل رہی جبکہ دوسرے دھڑے کے مبینہ سربراہ براہمدغ بگٹی کے بی آر اے کو ڈیرہ بگٹی و کچھی کے علاقوں میں رسوخ حاصل ہے۔

بی آر اے کی اس تقسیم کے بعد گلزار امام نے بلوچ تحریک میں موجود سرداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ “بلوچ تحریک کی وہ قیادت جو سردار گھرانوں پر مشتمل ہے، انہیں کارکنان کے ساتھ قبائلی رویہ برتنا ترک کرنی پڑے گی اور تنظیم کے اندر موجود مسائل کا حل قبائلی نہیں بلکہ سیاسی طریقہ کار سے کھوجنا پڑے گا۔” اسی طرح بی آر اے کے نئے بننے والے دھڑے کے ترجمان بیبگر بلوچ نے نومبر ۲۰۱۸ میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا ” تنظیم کے تمام سینئر کمانڈران سرباز بلوچ کی جانب سے جاری بیان کو مشترکہ طور پر مسترد کرتے ہیں۔” گلزار امام نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ ” ناصرف پاکستان بلکہ آزادی پسند قبائلی سردار بھی یکساں طور پر ہمیں توڑنا چاہتے ہیں۔” بی آر اے کی اس تقسیم کے اگلے سال ہی گلزار امام کی سربراہی میں چلنے والی بی آر اے، بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) جیسے وسیع اتحاد کا حصہ بن گئی۔

یونائیٹڈ بلوچ آرمی

یوبی اے سنہ ۲۰۱۰ میں بلوچ لبریشن آرمی سے ٹوٹ کر اس وقت ایک الگ تنظیم بنی، جب اس وقت کے مبینہ بی ایل اے سربراہ حیربیار مری نے اپنے چھوٹے بھائی مہران مری پر یہ الزام عائد کی تھی کہ انکی غیرموجودگی میں قائم مقام سربراہی کے فرائض انجام دینے کے دوران مہران مری ( جو اب مبینہ طور پر یوبی اے کے سربراہ ہیں) خردبرد کے مرتکب ہوئے ہیں۔ کرپشن کے یہ الزمات کبھی ثابت نہیں ہو سکے تھے۔ تاہم یوبی اے کے مبینہ سربراہ مہران مری ان الزامات کو رد کرتے ہوئے یہ کہتے آئے ہیں کہ اختلافات کی وجہ حیربیار مری کا آمرانہ رویہ اور تنظیم کے سینئر کمانڈروں کو نظرانداز کرنا تھا۔ یہ عام تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ مہران مری کو انکے والد معروف آزادی پسند رہنما مرحوم سردار خیربخش مری کی حمایت حاصل تھی۔

لیکن آگے چل کر گذشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں یوبی اے اس وقت مزید دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی جب یوبی اے کے ترجمان سرفراز بنگلزئی عرف مرید بلوچ اور تنظیم کے سربراہ سمیت مرکزی کمانڈران میں اختلافات پیدا ہوئے۔ اکتوبر ۲۰۲۱ کو یوبی اے کے دوسرے ترجمان مزار بلوچ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ تنظیمی اصولوں کی خلاف ورزی کے بنا پر سرفراز بنگلزئی کو فارغ کی جاتی ہے اور یوبی اے کے واحد ترجمان مزار بلوچ ہونگے۔

جبکہ اسکے ردعمل میں تنظیم کے دوسرے ترجمان مرید بلوچ نے میڈیا میں یہ اعلان کیا تھا کہ انہیں اس بات کی سزا دی جارہی ہے کیونکہ وہ یوبی اے پر یہ دباو ڈال رہے تھے کہ وسیع ترقومی مفاد میں بلوچ راجی آجوئی سنگر کے اتحاد میں شامل ہوجائیں لیکن مہران مری اتحاد پر یقین نہیں رکھتے۔”

آگے چل کر مرید بلوچ کے یوبی اے اور گلزار امام بلوچ کے بی آر اے نے انضمام کرتے ہوئے بلوچ نیشنلسٹ آرمی قائم کی اور براس اتحاد کا حصہ بنے۔

بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس)

سنہ ۲۰۱۷ میں بلوچ لبریشن آرمی کو ایک بار پھر سے اندرونی انتظامی اختلافات سے گذرنا پڑا، جسکے نتیجے میں تنظیم کی سربراہی پہلی بار سردار گھرانے سے نکل کر ایک عام بلوچ مزاحمتکار اسلم بلوچ عرف جنرل کے ہاتھوں میں آئی۔ گذشتہ سربراہ کا نام لیئے بغیر بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے اگست ۲۰۱۸ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” آج کے بعد بی ایل اے کا ایک مخصوص انا پرست شخص اور اسکے چھوٹے گروہ سے کوئی تعلق نہیں اور آج کے بعد تنظیم کا لندن، یورپ یا امریکہ میں کوئی نمائیندہ نہیں ہوگا۔”

اسلم بلوچ بی ایل اے کے سب سے نمایاں کمانڈر تھے اور بعد ازاں اس وقت تک بی ایل اے کے سربراہ اعلیٰ رہے جب تک انہیں دسمبر ۲۰۱۸ میں ایک خود کش حملے میں پانچ ساتھیوں سمیت نشانہ بناکر جانبحق نہیں کیا گیا۔

اسلم بلوچ، بلوچ مزاحمتی تحریک کے مہلک ترین گروپ مجید بریگیئڈ کے خالق اور سربراہ بھی تھے۔ مجید بریگیڈ اپنے خود کش حملوں کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے، جنہیں تنظیم فدائی حملے کہتی ہے۔ مجید بریگئیڈ کے ایک فدائی اسلم بلوچ کے فرزند ریحان بلوچ تھے جنہوں نے گیارہ اگست ۲۰۱۸ کو چینی انجنیئروں کے ایک قافلے پر بلوچستان میں دالبندین کے مقام پر فدائی حملہ کیا تھا۔

اسلم بلوچ کو امبریلہ آرگنائزیشن اور بلوچ مسلح جماعتوں کے وسیع اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر کا خالق بھی کہا جاتا ہے، جسے ۱۰ نومبر ۲۰۱۸ کو بلوچستان کے دو بڑے مسلح جماعتوں بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے اشتراک عمل سے قائم کیا گیا تھا، بعد ازاں اس میں بلوچ ریپبلکن آرمی، بلوچ ریپبلکن گارڈ اور سندھی مزاحمتی تنظیم سندھو دیشن لبریشن آرمی شامل ہوئے تھے۔

براس پاکستانی آرمی اور دوسرے پاکستانی پیراملٹری فوجی دستوں پر بڑے پیمانے کے مہلک حملوں کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے۔ اس اتحاد کے بعد پاکستان فوج پر حملوں کی شدت اور پیمانے میں انتہائی اضافہ دیکھنے کو مل رہی ہے۔

بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں میں بلوچ عوام اب تک قبائلی اسرورسوخ کے ماتحت زندگی گذار رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر سردار گھرانے ہی بلوچ سیاست کے چہرے کی صورت میں دِکھائی دیتے ہیں۔ اس قبائلی اسر کے اثرات بلوچ مزاحمت کے چہرے پر بھی واضح نظر آتے ہیں۔ اگر بلوچ مزاحمتی تحریک کے ان تمام اختلافات کو دیکھا جائے تو تمام میں ایک قدر مشترک نظر آتی ہے کہ سردار ان مزاحمتی جماعتوں پر اپنا اثرقائم رکھنا چاہتے ہیں جبکہ تعلیم یافتہ عام کارکن ان قبائلی اثرات سے نکل کر اتحاد کی جانب گامزن ہونے کی جستجو کررہے ہیں۔ تجزیہ کار اسے بلوچ مزاحمتی تحریک کے ارتقا اور ایک نئے دور میں داخل ہونے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔