بلوچستان حکومت وعدوں سے مُکر گئی ہے – مکران کوسٹل ہائی وے پر دھرنے ہونگے – حق دو تحریک

330

پیر کے روز حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے بلوچستان ،ایران سرحدی گزرگاہ 250 کا دورہ کیا-

اس موقع پر انہوں نے ایک ہی جگہ کئی غیر ضروری چیک پوائنٹس اور لوگوں کی جگہ جگہ تذلیل پر تشویش کا اظہار کیا –

مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے ضلعی انتظامیہ اور حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر عوام کو تنگ کرنے کا یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو بہت جلد 250 بارڈر پر بھی دھرنا دیں گے-

گزشتہ روز ہدایت الرحمان بلوچ اور دیگر رہنماؤں نے بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت وعدوں سے مُکر گئی ہے، ایف سی چیک پوسٹ پر لوگوں کی تذلیل، بحر بلوچ میں غیر قانونی ٹرالرنگ اور سرحدی کاروبار پر بندش بدستور جاری ہیں –
اس موقع انہوں نے دوبارہ دھرنوں اور کوسٹل ہائی وے کی بندش کا اعلان کر دیا-

انکا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے آخری مہینے میں حکومت سے مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کیا تھا-

وزیراعلٰی بلوچستان نے دھرنے میں آکر مطالبات پر عمل درآمد کا یقین دلایا، مگر اب تک ایسا نہیں ہو سکا۔

اس موقع پر انہوں نے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 20 جنوری اورماڑہ، 3 فروری پسنی،10 فروری سربندن، 27 فروری اوتھل اور یکم مارچ گوادر میں غیرمعینہ مدت کےلیے دھرنا دیا جائے گا –

انہوں نے اپنے مطالبات دہراتے ہوئے کہا کہ اب تک یہاں غیر قانونی ٹرالرنگ، سیکورٹی فورسز کے چیک پوسٹوں پر عوامی تذلیل اور سرحدی کاروبار پر بندشیں ہیں –

انکا کہنا تھا کہ حکومت کے وعدوں پر اعتبار نہیں ہر چیز کا جائزہ لے رہے ہیں اور عوام کو ایک بار پھر سڑکوں پر لائیں گے –