’’بساک‘‘لیاری میں تتلیوں کے خوابوں کو آزادی دو ۔ محمد خان داؤد

81

’’بساک‘‘لیاری میں تتلیوں کے خوابوں کو آزادی دو

تحریر: محمدخان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

لیاری سازوں کی بستی ہے۔لیاری کچھیری کی بیٹھک ہے۔لیاری محبت کی اوطاق ہے۔لیا ری ایکٹر کالونی ہے۔لیاری کتابوں کی چاشنی ہے۔لیاری سوچتے دماغوں کا مسکن ہے۔ لیاری کچے رنگوں کی بستی ہے۔لیاری گلابوں گالوں کی بستی ہے۔لیاری گلابی میلے گالوں والے بچوں کی بستی ہے۔لیاری وہ ساز جو ہے ابھی تک بجایا ہی نہیں گیا۔لیاری وہ تھیٹر ہے جس کے اداکار بہت معصوم ہیں۔لیاری گینگ وار نہیں۔لیاری بھیانک سپنا نہیں۔لیا ری تو وہ خوشگوار خواب ہے جو ان آنکھوں میں بستا ہے جو آنکھیں محبوب کی ماند ہو تی ہیں جن آنکھوں کو پہلی بار دیکھ کر پیار ہوجاتا ہے۔لیاری مقدس کتاب نہیں۔لیاری کوئی صحیفہ نہیں پر لیاری وہ ورق ہے جو عقل سے نہیں پر عشق سے لکھا گیا ہے۔لیاری وہ دھونہ نہیں جو بلدیہ کی جلتی کمپنی سے نکلا تھا جس دھونے میں انسانی گوشت اور خون کی بو تھی۔پر لیاری تو وہ دھونہ ہے جس دھونے سے ایک محبوبہ اپنی جلتی آنکھوں سے روٹی پکا تی جا تی ہے اور گرم توے پر جلتی گندم کی خوشبو لیاری ہے کئی محلوں سے ہو کر وہاں جاتی ہے جہاں،،وجیاں عشق دیاں ٹلیاں،،جیسا دل لیے کوئی موجود ہوتا ہے۔اور اس خوشبو پر اس کا دل دھڑک اٹھتا ہے اور وہ جان جاتا ہے کہ کون کہاں روٹیاں پکا رہا ہے۔

دھونے میں ایک ماں اپنے معصوم بچوں کو اپنے پاس بٹھائے رکھتی ہے۔وہ بچے جو محبت کے پہلے بوسے سے پیدا ہو جا تے ہیں۔جب بھی ماں ان بچوں کو پیار بھرے نینوں سے تکتی ہے تو اس ماں کے گال گیلے ہو جا تے ہیں۔ان گیلے گالوں پر محبت کے بو سے برسنے لگتے ہیں۔ اور اس بوسے کا نام لیاری ہے۔

لیاری خاموش کالونی نہیں ہے۔لیاری ویران مندر نہیں ہے۔پر لیاری وہ عظیم مندر ہے جس مندر میں چلتی پھرتی ہزاروں مورتیاں نظر آتی ہیں۔اس مندر میں محبت کے دئیے جلتے دکھائی دیتے ہیں۔اور کئی ہاتھ ہو تے ہیں جو اس بات کے منتظر نہیں ہو تے کہ کب ہولی ہو تی ہے اور کب وہ ہاتھ کسی کے وجود پر عشق اور محبت سے وہ رنگ پھنکے جن رنگوں سے محبت کی چنری پر عشق اور یقین کا داغ لگ جا ئے وہ داغ جو کسی کے دل کو داغ دار نہ کر جائے پر وہ داغ جو کسی کے من میں محبت کی سیٹی بجا جائے۔

لیاری بس لی مارکیٹ نہیں۔لیاری چاکیواڑا نہیں۔لیاری چیل چوک نہیں۔لیاری گبول پارک نہیں۔پر وہ جسم ہے جس پر محبت کے گلاب کھلے ہوئے ہیں۔لیاری وہ ہاتھ ہیں جو کسی کے بالوں پر پرندہ باندھنے کے خواہش مند ہیں۔لیاری وہ خوشبو ہے جو چاہتی ہے اپنے محبوب سے لپٹ جا ئے جہاں وہ محبوب جائے اس محبوب سے وہی خوشبو مہکتی رہی۔

لیاری سیاست کی بستی تو اب بنتی جا رہی ہے۔پر لیا ری تو محبت کا مے کدہ بھی تو تھی۔ جس میں متارو آتے تھے اور اپنی من کی مہ پی کر چلے جا تے تھے۔ لیا ری کسی پارٹی کا کوئی مینو فیسٹو نہیں۔لیاری شکور شاد کی جا گیر نہیں لیا ری ملاؤں کی بستی نہیں۔

لیاری تو عشق کو وہ پرچم ہے جسے ابھی تک لہرایا ہی نہیں گیا۔
ککری گراونڈ پر ملاؤں کو مسلط کرنا تو ککری گراؤنڈ سے زنا ہے۔ککری گراؤنڈ ان پگڑیوں اور داڑیوں کو دیکھ کر ڈر سا جاتا ہے۔ککری گراؤنڈتو ان قدموں کو دیکھنا چاہتا ہے جو ناز سے چلیں اور اپنے حریف کو پچاڑ دیں۔
جس کے لیے لطیف نے کہا تھا کہ
’’جڈھن کھئیون ناز نظر!‘‘
ککری گراؤنڈ ان آنکھوں کو دیکھنے کا مشتاق ہے جو اپنے آئی براؤ بنا کر گراؤنڈ میں اتریں بلوچی چاپ پر تتلیوں کی ماند اُڑیں ان کے پیر رقص میں جھوم جائیں اور ان کا وجود سراپا ساز ہو جائے!
ککری گراؤنڈ تو ان بالوں کو دیکھنا چاہتا ہے جو ہوا میں لہرا تے رہتے ہیں۔جو ہوا میں الڑتے رہتے ہیں اور سب کو یہ پیغام دیتے رہتے ہیں کہ اپنی بچیوں کو آزاد کرو!
ککری گراؤنڈملاؤں کے لیے نہیں ککری گراؤنڈ تورنگوں سازوں اور رقص کے لیے ہے!
ککری گراؤنڈ میں،،ھوُ،،کی صدا اب وحشت بن چکی ہے
اب ککری گراؤنڈ میں اب محبت کا پسینہ بھینے دو!
پر لیاری کی صدا کون بنے گا۔اور ان ہاتھوں کو کون روکے گا جو محبت کی بستی کا حسن بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کانوں کو کون بتائے گو جو کان یہ سننا چاہتے ہیں کہ لیاری محبت کا مندر ہے۔
ان آنکھوں کو لیاری کو وہ عکس کون دکھائے گا جو عکس بس عشق۔محبت کا عکس ہوتا ہے عکس میں کہیں پر بھی کوئی بے اعتباری نہیں ہوتی جس عکس میں یقیں کو بھی یقیں ہوتا ہے۔
لیاری کا نام سن کر اہلیان کراچی پیچھے کی طرف بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔پر کون ایسا ہوگا جو بھا گتے اہلیان کراچی کو روک کر کہے گا کہ،،لیا ری کیلاش کا چاند ہے!،،
کون ہوگا جو لیاری کی گلیوں میں والہیانہ رقص کر کے سب کو بتائے گا کہ،،لیاری ہمینت کا چاند ہے!،،
کون ہوگا جو اپنی من کی بات ان سے کہے گا جنہوں نے لیاری دیکھا نہیں بس کوئے کی طرح چیختا سستا یلو پیپر،،جانباز،،پڑھا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ،،لیاری میں کس نے کس کو کب قتل کر دیا؟،،
کون آگے بڑھے گا اور جانباز کو سمجھانے کی کوشش کرے گا کہ؛،،لیاری محبت کی بستی ہے،،
کون ہوگا جو کراچی کو لیاری میں جمع کرے گا اور کراچی کو لیاری کا وہ چھیرہ دکھائے گا جو چھیرہ بس رحیم بخش آزاد نے دیکھا ہے یا تواس کے چیلوں نے!
،،لیاری کیلاش کا چاند ہے!،،لیاری گینگ وار کی بستی نہیں۔لیاری سوچتے دماغوں کا مسکن ہے۔لیاری گلیوں میں رُلتے منشیات فروشوں کا گھر نہیں۔یہ بتانے اور دکھانے کی کوشش وہ ٹیم کر رہی ہے جو اپنے نازک کاندھوں پر لیاری کے سپنے اور خواب لیے گھوم رہی ہے۔جو سب کو کہہ رہی ہے کہ؛
،،خواب لے لو خواب!،،
ان کے کاندھوں پر لیاری کے وہ خواب ہیں جو اس سے پہلے بس ان آنکھوں نے دیکھے تو جو آنکھیں اب راہِ فراش ہیں۔وہ خواب جس خواب میں لیاری کا مسکراتا چھیرا ہے۔جس خواب میں اپنوں سے اپنوں کی باتیں ہیں۔جس خواب میں رنگوں کی باتیں ہیں۔جس خواب میں خوشبو کی باتیں ہیں۔جس خواب میں معصوم بچوں اور ان کی شرارت کی باتیں ہیں۔جس خواب میں سازوں اور آوازوں کی باتیں ہیں۔جس خواب میں مندروں اور مورتیوں کی باتیں ہیں۔جس خواب میں کتابوں کی باتیں ہیں۔جس خواب میں عشق کی باتیں ہیں۔جس خواب میں محبت کی باتیں ہیں۔جس خواب میں آزادی کی باتیں ہیں۔جس خواب میں ایاز کی وہ بات بھی ہے کہ،،تون چھاجانے تہ آزاد فضا چھا تھیندی آ؟!،،
،،تم کیا جانو کہ آزاد فضا کیا ہو تی ہے؟!،،
جو خواب لیاری کا ہے جس خواب کو لیاری کی آنکھوں نے دیکھا ہے۔
وہ خواب اب،،گرینڈ ادبی اور سیاسی فیسٹول،،کی شکل میں حقیقت بننے جا رہا ہے۔
جب ۲۳ جنوری کو سندھ،کراچی سو رہا ہوگا تو لیاری کی آنکھوں میں وہ خواب جا گ رہا ہوگا۔ جو خواب بساک نے دیکھا ہے
وہ خواب ان آنکھوں کو کیسے سونے دیگا جو آنکھیں کئی سالوں سے اس خواب کو لیے جا گ رہی ہیں!
لیا ری کی وہ خواب زدہ آنکھیں ہی ۲۳ جنوری کو سب کو بتا پائیں گی کہ،،لیاری کیلاش کا چاند ہے!،،
جہاں پر تتلیوں کو کوئی روک ٹوک نہ ہو
وہ کائیں،جھومیں اُڑیں اور اپنے پروں سے رنگ بکھریں!
اس دن جب لیاری میں بہت سی آنکھیں وہ منظر دیکھ رہی ہونگی تو کاش کوئی اٹھے اور ان سیکڑوں جاگتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو سناسکیں کہ؛
،،دور کیلاش سے
چاند ہمینت کا
میرے من کو ہمیشہ بلاتا رہا
میں کہ رنبیر تھا
لوُ میں لڑتا رہا
برچھیوں کے تلے
جھپکیاں نیند کی
مجھ کو راس آگئیں
رن پہ سورج کے نکھ
جب چمکنے لگے
میں نے چہرہ نہ اُن سے چھپایا کبھی
ریت تانبا بنی
میرے تلوے جلے
برچھ کی چھاؤں میں،میں نہ بیٹھا کبھی
گھاؤ جب بھر گئے میرے ہر انگ پر
کتنے کالے گلابوں کے پودے ملے
بیریوں نے کبھی یہ شکایت نہ کی
میں نے لڑتے ہوئے وار اؤچھے کئے
مارنے سے کبھی ہچکچاہٹ نہ تھی
اور نہ مرنے کا ڈر
ہاں مگر
رن کی جلتی ہوئی ریت پر
دور کیلاش سے
چاند ہمینت کا
میرے من کو ہمیشہ بلاتا رہا!،،


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں