اپنے دلوں سے ماؤں کے آنسوؤں کو صاف کرو – محمد خان داؤد

126

اپنے دلوں سے ماؤں کے آنسوؤں کو صاف کرو

تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

ٹشو پیپر نہیں، رومال نہیں، بہت سی اجرکیں نہیں،نئی شالیں نہیں، نرم نازک ہاتھوں کی ہتھیلیاں بھی نہیں۔ان ماؤں کے آنسو تو اس دل سے صاف ہونگے جو دل منافقانہ بھی ہو تے ہیں اور درویشنا بھی۔ جاؤ ان ماؤں کے پاس جو بلوچستان کے صحرا اور میدانی علاقوں میں جا بجا رہتی ہیں جو کو بہ کو ہیں، جو تو بہ تو ہیں جو جا بجا ہیں جو بہت ہیں۔اپنی چادریں۔اپنے رومال۔اپنی شالیں،بہت ٹشو پیپر اور اپنے کھرُ درے ہاتھ یہی پر چھوڑ کر ان ماؤں کے پاس وہ درویشانہ دل لے جا جو دل منصور جیسا ہو۔جو دل سرمد جیسا ہو ۔جو دل معصوم بچوں جیسا ہو اور جا کہ ان ماؤں کے آنسو صاف کرو جو اپنوں کی گمشدگی پر اس دن سے رو رہی ہیں، جس دن وہ بستر خالی ہوا جس بستر پر اس ماں کی محبت سو تی تھی۔جس دن سے اس بستر پر اس ماں کی چاہت سو تی تھی۔ جس بستر پر اس ماں کی امید سو تی تھی۔جس بستر پر اس ماں کی نیند سو تی تھی۔اب ماں جا گ رہی ہے اور ماں کی نیند ماتم کر رہی ہے۔

جو مائیں دانشور نہیں، جو مائیں سائینس نہیں جانتیں، جو مائیں سیاست سے واقف نہیں۔جو مائیں سیاسی اداکار نہیں،جو مائیں لیڈر کیا پر سیاسی کا رکن نہیں۔ان ماؤں نے یہاں تو اپنے ماں کا گھر دیکھا ہوتا ہے یا اپنی شو ہر کا گھر۔ وہ مائیں جو کتابیں نہیں پڑھتیں۔وہ مائیں جو محبت بھری نظمیں نہیں سنتیں۔وہ مائیں جو رومانٹک نہیں۔وہ مائیں تو درداں دی ما ری ہیں۔ وہ مائیں تو بد نصیب ہیں۔ وہ مائیں تو رو تے روبوٹ بن گئی ہیں۔ وہ مائیں تو ایسے پتھر بن گئی ہیں جن پتھروں سے پانی نہیں برستا۔ جن پر برستا پانی بھی کوئی اثر نہیں کرتا۔ان ماؤں کے گھر تو ماتم کدہ بن گئے ہیں۔ وہ گھروں میں بھی رو تی ہیں تو ان پہاڑوں کی اُوٹ میں بھی جو پہاڑ بہت بلند و بالا ہو تے ہیں۔

مائیں اس لیے رو تی ہیں کہ ان کی نیند ان بستروں سے اُٹھا لی گئی ہے جو بستر اب کھاران سے لیکر آواران تک اداس مکانوں میں خالی خالی ہیں۔

اب جب کچھ امید بندھی ہے کہ ماؤں کی نیندیں لٹ رہی ہیں ۔ خالی خالی اداس مکانوں کی ویرانی کچھ کم ہو رہی ہے۔ اندھیرے مکانوں میں دئیے جلنا شروع ہوئے ہیں۔ ماؤں نے مسکرانا شروع کیا ہے، تو ماؤں کی نیندوں پر سیاست نے سر اُٹھایا ہے۔کچھ کہتے ہیں رہتے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں جا تے ہیں۔کچھ کہتے سڑک پر رہتے ہیں۔کچھ فرما تے ہیں گھروں کو لوٹ چلتے ہیں۔

ہم اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ آج جو مائیں مسکرا رہی ہیں آج جو انسہ بلوچ عامر سے لپٹ رہی ہے اس میں ان دلوں کو بہت بڑا ہاتھ ہے جو دل گزشتہ کئی سالوں سے بے قرار ہیں۔ جو دل احتجاجی کیمپوں میں بیٹھے ہیں۔جو دل رو تے ہیں ۔جو دل نعرہ بازی کرتے ہیں۔ جو دل چلتے چلتے رکتے ہیں جو دل رکتے رکتے چلتے ہیں۔جو دل بے قرار رہتے ہیں۔اس بات سے انکار ممکن نہیں۔

پر اب جن ماؤں کو نیندیں گھروں کو لوٹ رہی ہیں تو ماؤں کی نیندوں کو سیاست کی بھٹی میں کیوں پکا رہے ہو؟ماؤں کے بے قرار دلوں کو جب قرار مل رہا ہے تو ان دلوں کو بے چین کیوں کر رہے ہو؟
اور اس محبت اور آس کو سیاست کی نظر کیوں کر رہے جو جو آس بھری محبت ہے۔

مائیں نعرہ نہیں، مائیں دانشور نہیں۔مائیں باغی نہیں۔مائیں آزاد پسند نہیں۔مائیں وہ لیٹریچر نہیں لکھتیں جو پابندی کی نظر ہوتا ہو۔مائیں تو الف بھی نہیں پڑھتیں۔مائیں پرچم نہیں۔مائیں پمفلیٹ نہیں۔مائیں تو وہ تصویر ہیں جوجن کے نین ہمیشہ رو تے رہتے ہیں۔
مائیں رو تی تصویر ہیں۔مائیں جلتے دل نہیں۔
مائیں اپنوں کا پتا پو چھتی مسافر نہیں
مائیں ان مزاروں کے ملنگ ہیں جو مزاریں اپنی جسدِ خاکی سے خالی ہیں
مائیں بولی ہیں۔وہ بولی جو جی جی جی جی جی پکا رتی ہیں!
مائیں تو کچھ نہیں پڑھتیں وہ مقدس کتاب بھی نہیں
جن کی آیتیں ایک پر پڑھنے والے جدا جدا ہیں
مائیں تو محبت کی طرح کوری ہو تی ہیں
مائیں تو سراسر انتظار ہیں۔اب جب وہ انتظار کم ہو رہا ہے تو سیاست کی بھینٹ کیوں چڑھ رہا ہے!
اس لیے اس بات کا کریڈٹ کس کو دیا جائے کہ انہوں نے ماؤں کی نیندیں لوٹائیں؟!!!
ان احتجاجی کیمپوں کو جو زمستانی ہواؤں میں بھی اداس دلوں کی طرح جھولتا رہا!
ان بہنوں کو جو اپنوں کی یا د میں مسافتیں طے کر تی رہیں؟
یا ان سیاست دانوں کو جو چھپتے بھی رہے اور ڈرتے بھی رہے؟
ماؤں کی نیندیں لوٹ رہی ہیں۔اور اس بات کا کریڈٹ دیا جائے ان پیروں کو جو چلتے رہے چلتے رہے اور بس چلتے رہے!
اس لیے اے اہلیانِ بلوچستان !
ٹشو پیپر نہیں۔رومال نہیں۔بہت سی اجرکیں نہیں،نئی شالیں نہیں۔نرم نازک ہاتھوں کی ہتھیلیاں بھی نہیں۔ان ماؤں کے آنسوؤں تو اس دل سے صاف ہونگے جو دل منافقانہ بھی ہو تے ہیں اور درویشنا بھی!جاؤ ان ماؤں کے پاس جو بلوچستان کے صحرا اور میدانی علائیقوں میں جا بجا رہتی ہیں جو کو بہ کو ہیں،جو تو بہ تو ہیں جو جا بجا ہیں جو بہت ہیں۔اپنی چادریں۔اپنے رومال۔اپنی شالیں،بہت ٹشو پیپر اور اپنے کھرُ درے ہاتھ یہی پر چھوڑ کر ان ماؤں کے پاس وہ درویشانہ دل لے جا جو دل منصور جیسا ہو۔جو دل سرمد جیسا ہو ۔جو دل معصوم بچوں جیسا ہو اور جا کہ ان ماؤں کے آنسو صاف کرو جو اپنوں کی گمشدگی پر رو تی تھیں اور ان کے لوٹنے پر بہت مسرت محسوس کر رہی ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں