گوادر اور حق دو تحریک – جلال احمد

241

گوادر اور حق دو تحریک

تحریر : جلال احمد

دی بلوچستان پوسٹ

گوادر بلوچستان کا ایک ساحلی شہر ہے، یہ شہر بلوچستان کے مغرب میں واقع ہے، یہ ایک چھوٹا شہر ہے اس شہر کے تین سمت سمندر اور ایک سمت زمین ہے یعنی اس کو انگریزی میں ” پیننسولہ ” کہا جاتا ہے۔ اس شہر کو ایشیاء کا مین گیٹ وے بھی کہا جاتا ہے اس شہر میں عرصہ قدیم سے بلوچ اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

سال 2000ء کی دہائی میں ترقی کے نام پر گوادر کی پورٹ چین کے حوالے کر دی گئی اور اس پر دستخط بھی کی گئی اور پاکستان کی میڈیا میں یہ بات نشر ہوئی کہ 40 سال تک چین گوادر میں ترقی دیکر گوادر کو دبئی جیسا بنائے گا اور یہاں کے عوام کو بہت ساری سہولیات ملیں گی.

ترقی کا اصل راز کیا ہے؟

گوادر کی ترقی کا اصل راز پنجاب کے لوگوں کو روزگار فراہم کرنا اور چین کے ساتھ مل کر بلوچستان اور گوادر کی عوام کو تذلیل کرنا اور انکی وسائل پر قبضہ کرکے ان کو لوٹن ہے، ا جس دن سے گوادر میں ترقی کی نام پر کام شروع ہوا تو اسی دن سے گوادر کی عوام کی تذلیل اور ان پر ظلم بھی شروع ہوئی۔ ماہیگیروں کو سمندر جانے سے منع کرنا اور یہاں کے غریب عوام کا حق چھیننا پانی، بجلی کی بندش اور تیل بردار گاڑیوں کو گرفتار کر کے ان پر لاٹھی چارج کرنا اور عوام کو بالکل اپنے حکم کا پابند رکھنا اور گوادر میں پنجاب کے لوگوں کو نوکری فراہم کرنا بلوچ عوام کے زمین کو لیز کرکے سرکاری بنانا اور غیروں کو یہاں رہائش دینا۔

“گوادر حق دو تحریک”

پچهلے تین مہینوں سے گوادر کے چھوٹے شہر میں ایک تحریک کا آغاز ہوا جس کا نام ” گوادر حق دو تحریک ” رکھا گیا اور اس تحریک کے اوگنائیزر کا نام مولانا ہدایت الرحمان ہےجو کہ بلوچستان جماعت اسلامی کے جنرل سیکٹری بھی ہے۔

انکا اصل تعلق گوادر کے کلانچ سے ہے لیکن آج کل مولانا صاحب سربندر میں رہتا ہے تو مولانا نے اکتوبر کے مہینے گوادر کوسٹل ہائی کو سربندر کراس پر بند کرکے بجلی کی لوڈشٹنگ کے خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیا وہیں سے مولانا کی تحریک کا آغاز ہوا اور پھر مولانا نے گوادر میں ایک تاریخی جلسہ کیا اور اور اس جلسے میں مولانا نے کچھ مطالبات رکھے اور ایک مہینے کا وقت دے کر مطالبات پر عمل درآمد ہونے پر اگر مولانا نے کہا میرے مطالبات پورے نہیں ہوئے تو میں ایک تاریخی دہرنا دونگا لیکن اسی بات کو حکمرانوں مزاق سمجھا اور مولانا کے مطالبات پوری نہیں کیے.

مولانا نے 15 نومبر کے دن سے اپنے دہرنے کا آغاز کیا۔ دہرنے کے ساتویں دن بلوچستان کی کٹھ پتلی وزیر مولانا کی دهرناگاه پر پہنچے تو مولانا نے اپنے مطالبات کو وزیروں کے سامنے رکھا۔ وزیروں نے مولانا کو بہت ساری جھوٹی تسلی دی لیکن مولانا پیچھے نہیں ہٹا اور 29 نومبر کے شام کو مولانا نے خواتین ریلی کا آغاز کیا جو کہ بلوچستان میں خواتیں کی تاریخی ریلی ہوئی جس ریلی میں شاید اتنی ساری خواتین تھیں جو بلوچستان کی تاریخ میں شاید خواتین کا اتنا بڑا مجمعہ نہیں ہوا ہوگا۔ اسی ریلی میں مولانا نے خطاب کرکے کہا کہ مطالبات کے بغیر پیچھے نہیں ہٹونگا چاہے میری جان بھی چلی جائے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں