کتاب ریویو: تعلیم اور مظلوم عوام | تبصرہ: تھولغ بلوچ

166

کتاب ریویو: کتاب : تعلیم اور مظلوم عوام

مصنف :پاؤلو فریرے | تبصرہ: تھولغ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

اس کتاب میں بیان کیے گیے پہلووں کو  مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔

جھوٹی سخاوت:

پاولو فریرے اپنی کتاب تعلیم اور مظلوم میں لکھتا ہے کہوہ لوگ بھی ظالم اور ظلم کر رہے ہوتے ہیں جو صرف دکھاوے کی سخاوتکرتے ہیں ، یہ کام پہلے تو کرتے ہی ظالم ہیں اپنے آپ کو ایک اچھا انسان ثابت کرنے کے لیے اور نا سمجھ اور شعور سے عاری عوام کوبےوقوف بنانے کا ایک بہترین آلہ ثابت ہوتا ہے جس سے ظالم اپنی ساری کالی کرتوتوں اور بے رحمیوں پہ پردہ ڈالتا ہے، یہ  باتیںبہت عرصے پہلے کہی گئی ہیں لیکن بد قسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں ہر ایک انسان ، سماجی تنظیم ، سیاسی ورکر ، حتیٰ کہایک عام کلرک سے لے کے ایک 17 سکیل کے افیسر تک جھوٹی سخاوت بڑی فراغ دلی سی کی جا رہی ہے اور سماج میں ایک نا سوربیماری بن چکی ہے۔

مظلوم کا بذات خود ظالم ہونا :

یہ بات حیران کن ہے کہ ایک مظلوم کیسے ظالم ہو سکتا ہے ،

مثال کے طور پر جب ایک عام کسان کو اس کا مالک باقی کے کھیت میں کام کرنے والے کسانوں کا فور مین بناتا ہے تو وہی فور میناپنے مالک سے زیادہ ان کسانوں پہ ظلم کرتا ہے۔  یہ بات اس کے ذہن میں گھر کر جاتی ہے کہ ایک مالک اور اس کے غلاموں کا رشتہصرف طاقت کا ہوتا ہے اور طاقت کا نشہ بہت برا ہوتا ہے وہی فور مین بھی اپنے مالک جیسی طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے اور اپنے کملوگوں پہ ظلم کرنا چاہتا ہے، وہ جب طاقت کے نشے میں ہوتا ہے یہ بات بھول جاتا ہے کہ وہ بھی ایک مظلوم تھا۔

دوسرا ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ٹیچر اپنے طلبہ پہ ظلم کرتا ہے لیکن جب طلبہ کی باری آتی ہے تو وہ بھی اپنی بھڑاس کسی اور پہنکالتے ہیں ، اور سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے۔

بینکنگ ایجوکیشن :

پاؤلو فریرے اپنی کتاب تعلیم اور مظلوم عوام میں لکھتا ہے کہ یہ بھی سامراج کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کے تحت وہلوگوں کو مزید اندھیرے میں رکھ رہا ہے کیونکہ ایسی تعلیم سے انسان کچھ نیا نہیں کر پاتا۔  یہ ایسی تعلیم ہے، جیسے کوئی بھیآدمی ایک بینک اکاؤنٹ كھولتا ہے اور اس میں پیسے ڈالتا ہے جب اس کی مرضی ہوتی ہے تب وہ یہی پیسے ضرورت کے مطابق نکاللیتا ہے۔ ہمارا آج کل کا تعلیمی نظام بھی کچھ اس طرح ہے۔  سال / چھے مہینے پڑھا کے پھر ایگزام لے لیا جاتا ہے جو کچھ پڑھایا گیاہوتا ہے اور وہی چیزیں جو ایک سال پہلے پڑھی ہوتی ہیں بھول جاتی ہیں۔ اسی تعلیمی نظام میں نصاب بھی بہت پرانا پڑھایا جاتا ہےجس سےنئی آنے والی نسل کچھ نیا نہیں کر پاتی ، یہ کام بھی ظالم اپنے ظلم کو برقرار رکھنے کے لیے ایسا تعلیمی نظام رکھا ہواہے۔

مغلوب کرنا ، زیر کرنا :

سامراج اپنے ظلم کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کر رہا ہوتا ہے جس میں ایک طریقہ مظلوموں کو مختلف طریقوں اوربہانوں سے کنٹرول کرنے کے ہیں ، کبھی اپنی جھوٹی سخاوت سے تو کبھی بنکنگ ایجوکیشن سے تو کبھی لالچی لوگوں کے ذریعے  سے مظلوموں کو زیر کر رہا ہوتا ہے یہ بھی ظالم کی ایک سوچی سمجھی سازش ہوتی ہے۔

پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو :

جب جب کسی قوم کسی ملک نے کسی دوسری قوم یا ملک پہ قبضہ کیا ہے تب یہی کام سب سے پہلے کیا۔  جو کافی بہتر ثابت ہوا ہےاس سے نا صرف قابض اپنے مقصد میں کامیاب ہوا ہے بلکہ اس قوم اور ملک کو بھی تباہ و برباد کر کے اپنے مشن میں کامیاب ہو کےچلا گیا ہے اور مظلوم کو ایک ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کا دشمن بنا کے چلا گیا ہے ، اس کی مثال ہم پاکستان انڈیا کی دیکھلیں مسئلہ کشمیر پہ۔

بلوچستان کا مسئلہ دیکھ لیں جس سے آج تک ظلم ہوتا چلا آ رہا ہے ، قابض نہایت ہی آسانی سے اپنے مقاصد پورے کرتا چلا گیا لیکنپیچھے اپنے نا ختم ہونے والے نشان ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا۔

کلچر پر حمله :

نئی آنی والی قوم نے جس بھی مظلوم قوم بھی حملہ کیا سب سے پہلے اس قوم کے لباس رہن سہن خوراک اٹھنے بیٹھنے کے طریقکارپہ حملہ کیا جس سے ظالم کا کام آسان ہو گیا۔ اپنے کلچر کو مظلوموں میں مقدس بنا کر پیش کر دیا تاکہ مظلوم اپنے کلچر کو غیرمعیاری سمجھ کر چھوڑ دیں جس سے ان کی نئی نسل کو کافی نقصان پہنچتا ہے اور قابض آسانی سے اپنے نا پاک ارادوں میںکامیاب ہو جاتا ہے۔

ازادانہ سوچ بچار پر پابندی :

یہ بھی سامراج اور ظالموں کی ایک سوچی سمجھی سازش ہوتی ہے کہ جس بھی علاقے میں قبضہ کرنے والے ہوتے ہیں وہاں کےلوگوں کو ان کی سوچ کو کنٹرول کرنے کے بعد ان میں آزاد خیالی اور ان کی اپنی سوچ کو ختم کر دیتے ہیں تاکہ ان کو ترقی نا کرنےدیا جائے ، اس کی مثال ہم بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دیکھ سکتے ہیں جہاں پہ سنڈیمن کے بنائے ہوۓ مختلف  سردار ، وڈیرے ،میر اپنی بیٹیوں / بیٹوں کو تعلیم دیتے ہیں اور غریب لوگوں سے بلوچیت کے نام پہ ان کو اپنی بیٹیوں سے تعلیم نہ دینے کا کہہ کر گھرمیں صرف ہاؤس وائف بننے تک محدود رکھتے ہیں۔ یہ لوگ برائے نام عزت کی بات کرتے ہیں جن سے غریبوں کو کافی نقصان ہوتا ہےاور غریب بھی ان ظالم لوگوں اور سماج کی اندھی تقلید کرتے چلے جاتے ہیں یہ کام بھی سامراج کروا رہا ہوتا ہے تاکہ مظلوموں کومزید اندھیرے میں رکھ سکے۔

پاؤلو فریرے اپنی کتاب میں مزید لکھتا ہے کہ ایک انقلابی لیڈر کیسا ہوتا ہے اور ایک غیر انقلابی لیڈر کیسا ہوتا ہے؟

انقلابی لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنی عوام کے ساتھ اٹھے بیٹھے ان کے غم و دکھ سکھ میں شریک ہو ، انقلابی اقدامات کرے ایک مظلوم قوممیں ہمیشہ ان کی رہنمائی کرتا رہے۔  عوام کو ہمیشہ ساتھ لے کے چلے کبھی بھی عوام سے جدا نہ ہو سکے اور ہمیشہ عوام کاسوچے عوام کا کہے عوام کا فیصلہ مقدم سمجھے یہ ہیں ایک انقلابی لیڈر کی پہچان جو ایسا نہیں کرتا اور اپنے آپ کو ایک انقلابیبھی کہتا ہے، وہ جھوٹا ہے، مکار ہے عوام کا ہمدر کبھی نہیں ہو سکتا۔

کسی بھی قوم کو اگر اپنی ذات اپنی قوم کو ظالموں اور سامراج سے آزادی دلانی ہے تو سب سے پہلے انہوں نے ایک دوسرے کا ساتھدینا ہو گا ایک تنظیم بنانی ہو گی ایک دوسرے کو متحد کرنا ہو گا ایک دوسرے کو ساتھ لے کے چلنا ہو گا تب جا کے وہ اپنی جدوجہدشروع  کر سکتے ہیں اور اس کے بعد نہ ختم ہونے والی جہد کرنی ہو گی یہ جہد تب تک جاری رہے گی جب مظلوم قوم اپنی عوام اوراپنی سرزمین کو آزاد نہیں کرالیتی ظالم اور سامراج کے پنجو ں سے۔

  دنیا کے تمام مظلوموں کو چاہیئے کہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں ایک زنجیر بنا لیں اور ظالم و سامراج کے لیے ایک عبرت ناک سزا تیارکر لیں تاکہ پھر کوئی رہتی دنیا تک کسی بھی قوم اور ملک کو قبضہ نہ کر سکے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں